یہ ملک جس طرح اکثریت کا ہے اسی طرح اقلیت کا بھی

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی
مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیو ہاروی رح مولانا انور شاہ کشمیری رح کے ارشد اور مخصوص تلامذہ میں سے تھے ۔ اعلی ترین علمی استعداد کے مالک و حامل اور غایت درجہ ذہین و فطین تھے۔ آپ سیوہاہ ضلع بجنور کے رہنے والے تھے، دار العلوم دیوبند سے فراغت کے بعد وہیں استاد متعین ہوئے اور دار العلوم میں مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھائیں، کچھ عرصہ دار العلوم کے ذمہ داروں کے اشارہ اور ایما پر مدارس بھی درس و تدریس کے لئے گئے ۔ جامعہ اسلامیہ ڈھابیل میں بھی مسند درس بچھایا ۔
اللہ تعالٰی نے تدریس کے ساتھ تالیف و تصنیف کا ملکہ بھی خوب عطا کیا تھا ، بقول مولانا علی میاں ندوی رح علمی ذوق و اشتغال کا سیاسی مصروفیات اور ان کے تقاضوں کے ساتھ جمع کرنا بڑا دشوار اور ہمت آزما کام ہے ،اور تھوڑے ہی لوگ اس پر قادر ہوتے ہیں، آپ متعدد اعلی اور وقیع کتابوں کے مصنف بھی تھے آپ کی شہرئہ آفاق کتابوں میں قصص القرآن چار جلدیں اور اسلام کا اقتصادی نظام ہے جن کو کافی قبولیت اور شہرت حاصل ہوئی ۔

ندوة المصنفین کے اہم معماروں اور کارپردازوں میں سے تھے ۔ جمیت علماء ہند اور کانگریس کے صف اول کے لیڈرروں میں تھے ۔ دار العلوم دیوبند کے شوری کے ممبر اور اس کے کاموں میں دخیل تھے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بھی کورٹ ممبر تھے ۔ پارلیمنٹ کے بے لوث اور نڈر قائد اور ممبر تھے ۔ فرقہ پرست بھی ان کا لوہا مانتے تھے ۔ ہندوستانی حکومت بھی انہیں مانتی تھی اور ان کے مشوروں اور آراء کو اہمیت دیتی تھی ۔ سادگی زہد و قناعت کا حال یہ تھا کہ ایوان زیریں کے کئ سال رکن( ممبر پارلیمنٹ ) رہنے کے بعد بھی ان کا اپنا ذاتی مکان نہ تھا جو جائداد اور وراثت سیوہارہ میں تھی تقریبا فروخت ہوچکی تھی اور گھر بوسیدہ بلکہ ویران ہوچکا تھا ۔ دہلی میں کرایہ کے ایک مکان میں رہتے تھے بعد میں بعض اہل خیر نے اس مکان کو خرید کر ان کے اکلوتے بیٹے کے لئے رجسٹرڈ کرادیا تھا جو کسٹوڈین کی ملکیت تھی ۔
مولانا مرحوم آزادئ ہند کے عظیم سورماؤں میں سے ایک تھے ،ملک کی آزادی کی خاطر متعدد بار سنت یوسفی بھی ادا کی اور جیل کے سلاخوں میں رہ کر بھی حصول آزادی کا جذبہ اور شوق و حرارت کمزور نہ ہوئ۔

مولانا علی میاں ندوی رح مولانا سیو ہاروی کی جنگ آزادی میں کردار اور نمایاں کارنامے اور ان کی سادگی اور بے لوثی کے حوالے سے لکھتے ہیں :
جہاں تک دوسرے وصف جنگ آزادی کے سلسلہ کی قربانیوں اور قید و بند کی صعوبتوں کی قیمت وصول نہ کرنے اور اپنے اثرات و تعلقات سے فائدہ نہ اٹھانے کا تعلق ہے اس میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رح اور ایک دو حضرات کو مستثنی کرکے مشکل سے ان کا کوئ سہیم و شریک ہوگا ۔ (پرانے چراغ جلد سوم صفحہ ۹۴)
مولانا مرحوم کی زندگی سے آج کے نئ نسل کے علماء کو بہت کچھ سیکھنا چاہیے اور ان کی خوبیوں اور اعلی صفات و کردار کو اپنے لئے مشعل راہ بنانا چاہئے ۔
غرض مولانا حفظ الرحمن سیو ہاروی رح کی شخصیت ایک جامع اور موثر شخصیت تھی ۔ آج کے دور میں مولانا رح جیسی شخصیت خال خال ہی مل سکتی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے جرآت ہمت اور بے باکی کی صفت سے بھر پور نوازا تھا حق اور سچ بات پوری جرآت اور ہمت کے ساتھ کہتے تھے بلکہ اس کے لئے گرجتے اور برستے بھی تھے اور ولا یخافون لو مت لائم کی سچی تصویر تھے پارلیمنٹ کے ایوانوں اقلیت کے مسائل کو پوری طاقت اور ہمت کے ساتھ اٹھاتے تھے اور ببانگ دہل اور للکار کر کہتے تھے یہ ملک جس طرح اکثریت کا ہے اسی طرح اقلیت کا بھی ۔

آئین جواں مرداں حق گوئ و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رو باہی

ایک موقع پر جب کے ملک کے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور ہندو مسلم منافرت کا ماحول گرم تھا بھرے مجمع میں آپ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا :
۰۰جو حالات ہمارے سامنے ہیں کہ انسان خود انسان کا پیاسا ہے ،ہم نہیں سمجھ سکتے کہ ان کو کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ وحشت اور درندگی کا لفظ بھی کافی نہیں ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ وحشت و درندگی اس حالت سے شرم کر رہی ہے ،شیر اور بھیڑیئے جو سب سے زیادہ وحشت ناک درندے مانے جاتے ہیں وہ دوسرے جانوروں کا خون چوس کر درندگی کا پیاس بجھاتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو وہ کبھی نہیں پھاڑتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حضرت انسان ہیں کہ خود اپنے ہم جنس بچوں اور عورتوں اور کمزور انسانوں کو ذبح کرتے ہوئے نہیں شرماتے ،عوام کی وحشت اور درندگی کا علاج حکومت کا فرض ہے لیکن اس کا کیا علاج جب معالج خود اور امن کے ذمہ دار وحشت زدہ ہوجائیں ۔ ہندوستان ہمارا وطن ہے ،یہ ہماری روایات کا مخزن اور ہماری تہذیب و ثقافت کا گہوارہ ہے، اس کی در و دیوار پر ہماری ہزار سالہ تاریخ کے نشانات کندہ ہیں ،اگر پنڈت جواہر لال نہرو کو یہاں رہنے کا حق حاصل ہے تو کوئ وجہ نہیں کہ انہیں جیسا ہمارا حق بھی اس سر زمین پر نہ ہو ۔ ھم اس ملک میں رہنے والے مسلمانان ،اس لئے نہیں ہیں کہ کسی کی چاپلوسی کریں یا یہ سمجھیں کہ اس سے ہندو خوش ہوگا یا پنڈت نہرو خوش ہوں گے ۔ اگر مسلم زعماء (مسلم لیڈروں) کے دل میں ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال گزرے تو میں کہوں گا کہ اس سے بڑی بزدلی اور نفاق نہیں ہو سکتا ۔ یہ ملک جس طرح اکثریت کا ہے اسی طرح اقلیت کا بھی
(ماخوذ بیس بڑے مسلمان بحوالہ پرانے چراغ صفحہ ۱۵۱)
محمد قمرالزماں ندو ی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ