یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کےشرمائے یہود

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

ایسے مواقع پر سواد اعظم کی پیروی کیجئیے
محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ
روئیت ہلال اور مطالع کا اختلاف ہر دور میں رہا ہے یہاں تک کہ خیر القرون اور خلفاء راشدین کا دور مسعود بھی اس سے خالی نہیں رہا ہے ۔ اسی طرح اختلاف مطالع کے سلسلہ میں فقہاء کرام اور علماء عظام کا اختلاف معرووف و مشہور ہے ۔ بعض نے اختلاف مطالع کا اعتبار کیا ہے اور بعض نے اس کا انکار کیا ہے ان کے یہاں ایک ہی مطلع سب کے لئے ہے اسی پر روئت کا اعتبار کر لیا جائے گا اور سارے ہی لوگ اسی کے مطابق عمل کریں گے ۔ استاد محترم حضرت مولانا محمد ناصر صاحب ندوی ( سابق شیخ الحدیث دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو) کا موقف بھی یہی تھا ۔ ان کا خیال اور رجحان یہ تھا کہ ساری دنیا کو سعودی عرب کے مطلع پر اور وہاں کی روئیت پر اعتبار کرتے ہوئے ایک ساتھ مسلمانوں کو عید اور بقرعید منانا چاہیے ۔ تاکہ اسلام کی شان و شوکت اور اتحاد و اجتماعیت کا اظہار ہو سکے ۔ یہ ان کی ذاتی رائے تھی اور ان کا اپنا خیال تھا، موضوع کی مناسبت سے اس کا تذکرہ کر دیا گیا ۔
عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واقعہ کو ہم یہاں پیش کر رہے ہیں تاکہ اس مسئلہ کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں غالبا دس عیدیں (عید الفطر) اور تقریبا اتنی ہی عید قربان یعنی بقرعید منائیں ۔
ایک سال مدینہ منورہ میں ۲۹ رمضان کی روئیت نہیں ہوسکی یعنی مدینہ منورہ میں مقیم لوگوں نے چاند نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے سحری کھائی اور اگلے دن یعنی تیس رمضان المبارک کا روزہ رکھا دن کا ایک بڑا حصہ گزر گیا زوال کے وقت دیہات سے ایک بڑی تعداد میں بدوی صحابئہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت مین حاضر ہوئے اور عرض کنا ہوئے کہ یا رسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) رات ہم لوگوں نے چاند کو دیکھا ہے دیہات کے علاقہ میں عام روئیت ہوئ ہے جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کی شہادت کو جانچ اور پرکھ لیا اور اور ان لوگوں کی گواہی کو کسوٹی پر کس لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو حکم دیا کہ تم سب روزہ افطار کرلو، روزہ ٹوڑ دو ۔ لیکن چونکہ اب عید کا وقت نہیں ہے زوال کا وقت ہو چکا ہے، اس لئے سارے لوگ اگلے دن عید کی نماز پڑھو ۔ آپ صلی اللہ نے خود اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجعین نے اگلے دن عید کی نماز ادا کی، کہیں کوئ شور و غل اور ہو ہنگامہ نہیں ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دور دراز دیہات کے مطلع کو مدینہ منورہ کا مطلع قرار دیا ۔ یہ اسوئہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے سامنے ہے ہمیں اس اسوہ اور مثال و نمونہ سے بھر پور سبق لینا چاہئے اور ہر معاملے میں سواد اعظم کی پیروی کرتے رہنا چاہئے ۔
کل رمضان المبارک کی روئیت کے سلسلے میں جو ہنگامہ ہوا اور ہو رہا ہے اور جس طرح بعض ناخواندہ اور بے شعور و بے فہم لوگ بھی اس میدان میں آکر طوفان بد تمیزی کر رہے ہیں اور ایک طرح کا انتشار پھیلا رہے ہیں یہ اس امت کے لئے بہت بڑا المیہ اور ٹریجڈی ہے، اللہ تعالی ہم لوگوں کو صحیح شعور اور عقل و فہم بخشے ۔ آمین
یہ دین یقینا آسان ہے اس میں یسر اور سہولت کا پہلو نمایاں اور غالب ہے لیکن ہم لوگ اپنی بے بصیرتی اور کم فہمی سے دین اور شریعت کو مشکل اور دشوار بنائے ہوئے ہیں ۔ اور آسان مسئلہ کو بھی پیچیدہ اور مشکل بنا دیتے ہیں ۔

ایک زمانہ سے ساوتھ کے لوگ دلی لکھنئو (فرنگی محل ) اور پٹنہ( امارت شرعیہ) کے علماء کرام کی تصدیق و تائید کے بعد یہاں کی روئیت کو اپنے لئے قابل قبول سمجھتے ہیں اور اسی کے مطابق عید و بقرعید مناتے ہیں اور ایک بڑے طبقہ نہ کیرلا کو چھوڑ کر ساوتھ کے تمام علاقہ کے مطلع کو اور شمالی ہندوستان کے مطلع کو ایک قرار دیا ہے اور ایک جگہ کی روئیت کو دوسری جگہ کے لئے قابل قبول مانا ہے ۔ تو اگر گزشتہ کل ساوتھ کے لوگوں نے چاند کو دیکھا اور اسکی تصدیق شریعت کے مطابق کر لی گئ اور نصاب شہادت پوری کر لی گئ اور اس کے بعد روئیت کا اعلان کر دیا گیا اور تراویح پڑھنے اور اگلے دن سے روزہ رکھنے کی بات کہی گئ اور حکم دیا گیا تو اس پر اس قدر ہنگامہ برپا کرنے اور سر پر قیامت اٹھا لینے کی اور علماء کرام پر لعن و طعن کرنے اور ان کو کم علم اور بے علم ٹہرانے اور ثابت کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟۔
نیز اس قدر واویلا کی کیا ضرورت ہے؟
یہاں اگر بحث اور تکرار کی کوئ گنجائش ہے تو وہ صرف اس قدر کہ ہلال کمیٹی کے لوگوں نے اور اس طرح کے اداروں نے شہادت کی تحقیق کی یا نہیں؟ اور اس کے لئے جو شرائط ہیں ان پر عمل کیا گیا یا نہیں؟
نہ اس پہ کہ آج روزہ نہیں رکھیں گے ہم تو کل ہی تراویح پڑھیں گے ہمارا روزہ تو جمعہ کے دن ہی سے شروع ہوگا ۔ وغیرہ
ایسے موقع پر مسلمانوں کو انتشار و خلفشار سے بچنا چاہئے اور امیر اور سواد اعظم علماء کرام کی اتباع و پیروی کرنی چاہیئے ۔ نہ کہ ہر شخص ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے میں لگ جائے اور مسلم صفوں کو کمزور اور کھوکلا کرنے کا ذریعہ بن جائے ۔ دوسری طرف علماء کرام کو بھی اپنے اندر وسعت ظرفی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور فقہی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر امت کے لئے نرمی اور سہولت پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔
حضرت مولانا عطاء اللہ سندھی رح فرمایا کرتے تھے کہ دنیا سے آدھے مسائل و مشکلات ختم ہوجائیں اگر جاہل خاموش ہوجائے اور علماء حق اور سچ بولنا شروع کر دیں ۔
اپ اس مضمون کو حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رح
کے ایک اقتباس پر ختم کرتے ہیں جس میں ہمارے اور آپ کے لئے اس نازک اور حساس مسئلے کے حل کے لئے بہت کچھ سامان موجود ہے :
فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی علیہ الرحمہ نے چاند کے مسئلہ میں اختلاف کے دس اسباب ذکر فرمائے ہیں۔
چاند کے مسئلہ میں گڑبڑ اوراختلافی صورت ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی،قرون مشہود لہا بالخیر خلافت راشدہ کے دور میں بھی یہ رہا،اس اختلاف کو ختم کرنے کی سعی قدرت کا مقابلہ کرنا ہے،اس لئے کہ:
(1) پہلا سبب اختلاف تو یہ ہے کہ چاند کبھی 29 کو نظر آتا ہے کبھی 30 کو۔
(2) دوسرا سبب یہ ہے کہ جب چاند نظر آتا ہے ہر جگہ کا مطلع صاف نہیں رہتا،کہیں صاف کہیں غبار آلود،اس لئے کہیں نظر آیا کہیں نظر نہیں آیا۔
(3) تیسرا سبب یہ ہے کہ ہر مہینہ کا چاند برابر نہیں ہوتا،کبھی باریک کبھی موٹا۔
(4) چوتھا سبب یہ ہے کہ ہر مہینہ کا چاند ایک جگہ سے نظر نہیں آتا،کبھی مغرب سے مائل بہ جنوب،کبھی عین مغرب میں،کبھی مائل بہ شمال نظر آتا ہے۔
(5) پانچواں سبب یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی سب کی نظر ایک نہیں،کسی کی قوی کسی کی ضعیف،کوئی بغیر چشمہ کے دیکھے کسی کو چشمہ سے بھی نظر نہ آوے۔
(6) چھٹا سبب یہ ہے کہ گواہی دینے والے سب یکساں نہیں،کسی کی گواہی مقبول کسی کی مردود۔
(7) ساتواں سبب یہ ہے کہ کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس کی بات ماننے کو سب تیار ہوجائیں،جس کا شکوہ آپ کو بھی ہے۔
(8) آٹھواں سبب یہ ہے کہ ہر جگہ رؤیت ہلال کمیٹی موجود نہیں،نہ بنانے کے لئے تیار ہیں،باوجود یہ کہ باربار درخواست کی گئی۔
(9) نواں سبب یہ ہے کہ جہاں رؤیت ہلال کمیٹی موجود ہے وہاں بھی اس کے تمام ارکان مسائل شرع کے ماہر واحکام سنت کے پابند نہیں۔
(10) دسواں سبب یہ ہے کہ ہر ریڈیو اور ٹی وی پر اپنا قبضہ نہیں کہ پابندی عائد کی جاسکے کہ اعلان کیا جائے یا نہ کیا جائے،نہ ہرجگہ عالم کو اس کا مکلف کیا جاسکتا ہے کہ ٹی وی اور ریڈیو پر آکر خود اعلان کرے نہ یہ اس کے قبضہ میں ہے۔
ان اسباب عشرہ کے پیش نظر آپ ہی بتائیں کہ یہ مسئلہ کیسے حل کیا جائے؟
مذکورہ اسباب عشرہ کے ساتھ دو سبب کا اضافہ اورکرلیجیے۔
(11) گیارہواں سبب یہ ہے کہ آلات رصدیہ کی خبر کو یقین کا درجہ دینا کہ جب تک حسابی قواعد سے امکان رؤیت نہ ہو ثبوت ہلال ناممکن ہے۔
(12) بارہواں سبب یہ ہے کہ ہرگروہ کا اپنی بات دوسرے پر تھوپنے کی دھن سوار ہونا،اس میں فقہ کے منصوص مسئلہ کی خلاف ورزی لازم آتی ہو۔

ایسی پیچیدہ صورتحال میں اگر معتبر علماء کرام کا اختلاف ہو جائے تو عوام کے لئے یہ حکم ہے کہ جن کی رائے پر اعتماد ہو اس پر عمل کرلیا جائے۔
لیکن دوسروں کی رائے کی تغلیط اور ان پر تنقید نہ کرے۔
ہمارے اکابر کا ایسے مسائل میں یہی معمول رہا ہے۔
لہذا ہمیں ان کا اتباع کرنا چاہئے،جس سے دین پر ثابت قدمی میں بڑی تقویت ملتی ہے۔ ( ماخوذ مضمون از م۔ق۔مصدق مومن
خادم انجمن احیائے سنت بھیونڈی)

اپنا تبصرہ بھیجیں