یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

تحریر: ابن الحسن عباسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج یورپ کےمشہور سائنسدان ڈیوڈ گوڈال خودکشی کرنے سوئزرلینڈ پہنچ گئے ہیں ، ان کی عمر 104 سال ہے، ماہر نباتات اور ماہر ماحولیات ہیں ، آسٹریلیا کے شہر پرتھ کی ایڈیتھ کوون یونیورسٹی سے اعزازی منسلک ہیں ، بڑھاپے کے جھمیلے، ان کی برداشت سے باہر ہیں،اس لیے وہ آج آسان موت لینے سوئزرلینڈ پہنچے ہیں اور وہاں پہلے سے انہوں نے اپنی زندگی کے خاتمہ کا اعلان کردیا ہے، ڈیوڈ گوڈال آسٹریلیا کے ہیں ، آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا کی پارلیمان نے بھی خودکشی کا قانون منظور کیا، جس پر آئندہ سال جون 2019 تک عملدرآمد شروع ہوگا……. لیکن ڈیوڈ گوڈال نےکہا کہ وہ ایک سال تک انتظار نہیں کر سکتے، اس لئے اپنے ملک سےزندگی کے خاتمے کے لیے سوئزرلینڈ پہنچ گئے ہیں …..

زندگی اللہ کی نعمت ہے اور اس کے لمحات انسان کا سرمایہ…… یہ دھوپ چھاوں سے عبارت ہے، ایک مسلمان کے لئے، اس کی ہر حالت خالی از اجر نہیں، زندگی کی مسرتوں پر شکر، اس کا اجر ہے اور زندگی کی تلخیوں پر صبر، اس کا اجر ہے…….. دونوں حالتوں میں اس کا ایک ایک لمحہ انمول ہے، وہ ایک لمحہ جو “سبحان اللہ” “الحمدللہ” کہتے گزر جائے، ابدی زندگی کی لاتعداد نعمتوں کو سمیٹ لیتا ہے، لیکن یہ قدر و قیمت، اسے ایمان کی دولت عطا کرتی ہے، ایمان والی زندگی اور اس کی درازی انسان کا سب سے بڑا انعام ہے، ایمان کے بغیر یہی زندگی آدمی کے لئے بسا اوقات بوجھ بن جاتی ہے، ایسا بوجھ جو اسے برداشت نہیں ہوتا، وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے اور موت کی آغوش میں جانا چاہتا ہے، آخرت کا منکر سمجھتا ہے کہ یوں اس کو سکون مل جائے گا، اس کی فکر اس سمت کام کرنا چھوڑ جاتی ہے کہ مر کے بھی نہ پایا سکون تو کدھر جائے گا……. جو قومیں ایمان کی دولت سے محروم ہیں، وہ زندگی کے مختلف مراحل کی تلخیوں کا بعض اوقات سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتیں اور خودکشیاں کرتی ہیں، یورپی یونین کے مشہور ملک سوئزرلینڈ میں خودکشی کی قانونى اجازت ہے اور لوگوں کو ان کی رضامندی سے آسان موت فراہم کرنے کے لئے کلینک موجود ہیں، جہاں زہر دے کر یا انجیکشن لگا کر موت دی جاتی ہے، اس حوالے سے شہر بازل کا کلینک “ایٹرنل اسپریٹ” معروف ہے۔

صدیوں پہلے عربی زبان کے نابغہ روزگار شاعر زہیر ابن ابی سلمی نے خودکشی تو نہیں کی لیکن یہ ضرور کہا تھا:

سئمت تكاليف الحياة ومن يعش
ثمانين حولا… لا أبالك… يسأم

(میں زندگی کی مشقتوں سے اکتا گیا ہوں اور جو شخص اسی سال زندہ رہے، یقینا وہ اکتا ہی جاتا ہے)

اسی زمانے کے ایک اور لازوال شاعر لبید ابن ربیعہ بوڑھے ہو گئے تھے اور بڑھاپے کی ناہمواریوں سے اکتا گئے تھے ، تب انہوں نے 140 سال کی عمر میں عربی ادب کا وہ مشہور زمانہ شعر کہا تھا:

ولقد سئمت من الحياة وطولها
وسؤال هذا الناس كيف لبيد

( اور میں زندگی کی درازی اور لوگوں کے بار بار اس سوال سے اکتا چکا ہوں کہ لبید کی طبیعت کیسی ہے؟…)

زندگی، اللہ کا انعام اور اسکی امانت ہے اسے از خود فنا کر دینے کی اجازت نہیں، جو آخرت کا منکر ہے اور جس کو ابدی زندگی پر یقین نہیں، وہی اس سے اکتا کر ختم کر سکتا ہے….. آج ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال کا اپنی زندگی کا خاتمہ….. عبرت کا نمونہ ہے…… اور حقیقت یہ ہے کہ شب روز کا یہ فسانہ نہیں ہے….. بے شک یہ عبرت کی جا ہے، تماشا نہیں ہے…!

اپنا تبصرہ بھیجیں