ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے!

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

   خواہشات،تمنائیں،آرزو اور منصوبہ بندی کی کوئی انتہا نہیں،ابھی ایک کی تکمیل ہوتی نہیں؛ کہ دوسری پھر تیسری اور نہ جانے کون کون سی چاہتیں کروٹیں لینے لگتی ہیں،دل جذبات و مطالب کا ایک سمندر ہے،جس کی  گیرائی کا نہ کوئی تھاہ لگا سکا ہے، اور نا ہی ممکن ہے،اس کے پاس سمندر کی موجودگی لاحاصل یے،اس کی پیاس بجھانے اوراس کی تمناؤں سے لبریز سینے کا کوئی کنارہ نہیں،اور نا کوئی اسے ساحل سے لگانے کی استطاعت رکھتا ہے،اس سلسلہ میں عمر کی کوئی قید نہیں،مراتب کا کوئی مرتبہ نہیں؛بلکہ بڑے بزرگوں کا تو کہنا ہے ؛کہ یہ وقت کے ساتھ “ھل من مزید” کا شکار ہوتی جاتی ہے، اس کے سامنے “ھل امتلأت” کا سوال لغو ہے،ضعفی وپیرانہ سالی نے اگرچہ قوت وبازو شل کر دئے ہوں، اور صبح وشام کی خبر بھی نہ رہتی ہو؛ تاہم اس کے دل کے نہا خانہ میں جھانک کر دیکھئے! نہ جانے کتنے قصہ دیدہ ونادیدہ، شنیدہ وناشنیدہ کسی دیرینہ قبر میں مدفون نعش کی طرح دفن ہوں گے،کبھی وقت ملے تو اس کے قریب بیٹھئے،ٹٹولئے اور کھنگالئے! نہ جانے کیسی کیسی تمناؤں کا ایک تماشہ برپا ہوگا،اور دل کی جوانی؛ بلکہ ڈھیٹ نوعمری کا اندیشہ ہونے لگے گا۔
   *بالعموم انسانی بستی میں خواہ اس کا تعلق آج سے ہو یا ماضی سے اور بالخصوص عصر حاضر میں بڑھتی تمنائیں اور اس میں خاص طور سے شہرت، دولت اور ہوس کا  جوع البقر ہونے نے کوئی کمی نہ رہی ہے،اس کی تکمیل کی کوشش عمر کے کسی بھی مرحلے میں کی جاسکتی ہے،کسی بھی صورت میں ممکن یے،اور کسی بھی قیمت پر اس کا حصول جنون کی حد تک سوار ہوچکا ہے،نفسانی ہیجان اور قواء واعصاب میں عجب قسم کا اضمحلال اسی کی بدولت ہے،دماغی خلل اور دلی بے چینی وبے قراری کا طوفان اسی نے برپا کر رکھا یے،آپ جہاں بھی ہیں اگر آپ کے آس پاس اور قرب وجوار میں انسانی آبادی ہے، اور آپ دل ہوشمند کے حامل ہیں، تو ذرا غور کیجئے !کہ آپ کن سروں اور خود سر کے درمیان رہ رہے ہیں،وہ آپ کو دو پیر،ہاتھ اور سر و آنکھوں کی وجہ سے انسان ہونے کا دھوکہ دے رہے ہیں،ان سروں میں سوائے خواہشات کے مجموعہ اور جذبات کے سیلاب کے سوا کچھ نہیں،ان کا ہر عضوء چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوگا؛ کہ ہاں! اس انسان کی یہی حقیقت ہے۔*
     یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اگر انسان میں خواہشات و تمناؤں کا وجود نہ ہو،امیدیں لگانا اور اس پر تکیہ کئے رہنے کا کوئی تصور نہ ہو؛ تو اس کی زندگی محال ہوجائے گی،رہ رہ کر طبیعت  اکتاہٹ اور افتاد کا شکار ہوگی، اس کے دن اور رات میں کوئی فرق نہ ہوگا، اسی لئے اسلام نے اس کی صحیح رہنمائی فرمائی اور بین بین کی راہ اختیار کرنے کا راستہ ہموار کرنے کی تلقین کی ہے،ساتھ ہی صادق الامین کی زبانی اس واقعہ کا اظہار بھی کروادیا گیا ؛کہ انسان کی تمناؤں کو سوائے قبر کی مٹی کےکوئی پورا نہیں کر سکتا “•••••لا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب •••”(صحیح مسلم:۱۰۴۸)، اسی لئے مرزا غالب رحمہ اللہ نے گو یا اپنی عمر کا خلاصہ چند اشعار میں پیش کیا ہے، اور بلا کسی تامل کے، یہ اقرار کیا ہے کہ:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
  اس سلسلہ میں نوک قلم اپر ایک اور شعر یاد آگیا کہ:
کچھ ادھوری خواہشوں کا سلسلہ ہے زندگی ،
منزلوں سے ایک مسلسل فاصلہ ہے زندگی !
✍ *محمد صابرحسین ندوی*