ہر ملک کا ایک چاند تو ہندوستان میں دو کیوں؟

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

ڈاکٹرمحمد نجیب قاسمی سنبھلی
امسال ہندوستان کے صوبہ آندھراپردیش اور کرناٹک کے مختلف علاقوں میں رمضان المبارک کے چاند کی رؤیت عام ہوئی، یعنی وہاں پر بہت بڑی تعداد نے چاند دیکھا۔ مشہور عالمی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے علاوہ ہندوستان کی مختلف رؤیت ہلال کمیٹیوں نے اِن علاقوں کی عام رؤیت کو تسلیم کرکے جمعرات ۷۱ مئی سے رمضان کی ابتدا کا اعلان کیا، جبکہ دیگر علماء نے اختلاف مطلع (چاند کے طلوع ہونے کی جگہ) کہہ کر اس کو تسلیم نہیں کیا حالانکہ آج تک اِس کی تحدید نہیں ہوسکی کہ دنیا میں کہاں اور کس جگہ سے مطلع مختلف ہوتا ہے اور اس کا کیا معیار اور شرائط ہیں۔ ۷ خلیجی ممالک، ۲۲ عرب ممالک اور ۷۵ مسلم ممالک میں آج بھی حکومت کی جانب سے اعلان کے بعد ایک ہی دن سے رمضان شروع ہوکر ایک ہی دن عید الفطر ہوتی ہے خواہ وہاں چاند ایک جگہ نظر آئے یا متعدد جگہ۔ سعودی عرب کا رقبہ تقریباً ہندوستان کے برابر ہے، ایک جگہ رؤیت ہونے پر پورے سعودی عرب کے لیے اعلان کردیا جاتا ہے۔ دیگر خلیجی ممالک میں بھی سعودی عرب کے اعلان کو عمومی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ میں تقریباً بیس سال سے سعودی عرب میں مقیم ہوں اور رؤیت ہلال کے موضوع سے خصوصی دلچسپی بھی رکھتا ہوں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ دیگر عرب ممالک اور سعودی عرب کی عربی تاریخ میں فرق ہو، یعنی تقریباً تمام عرب ممالک میں عام طور پر ایک ہی تاریخ ہوتی ہے، جو رقبہ کے اعتبار سے ہندوستان سے بہت بڑا علاقہ بن جاتا ہے۔ عرب ممالک کے علاوہ دیگر مسلم ممالک مثلاً ترکی، انڈونیشیا اور ملیشیا وغیرہ میں بھی حکومت کی طرف سے ایک اعلان ہونے کے بعد اسی کے مطابق رمضان کی ابتدا اور اختتام ہوتا ہے، کبھی سعودی کے ساتھ اور کبھی ایک دن کے فرق کے ساتھ۔ اسی طرح وہ ممالک جہاں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے یا جن ممالک میں اکثر بادل ہی چھائے رہتے ہیں یااُن کے پاس ایسے کمیٹیاں نہیں ہیں جن کے اعلان کے مطابق روزہ رکھا جائے اس لیے وہاں بھی سعودی عرب کے فیصلہ کو تسلیم کیا جاتا ہے، مثلاً مغربی ممالک۔ مغربی ممالک کو اِن مذکورہ اسباب کی وجہ سے چاند کے تعلق سے سعودی عرب کو معیار بنانے کی گنجائش ہے۔ غرضیکہ عام طور پر ہر ملک میں ایک ہی دن سے روزہ شروع ہوکر ایک ہی دن عید الفطر ہوتی ہے۔
ہندوستان میں مسلمان اچھی خاصی تعداد میں ہیں حتی کہ کسی ایک عرب ملک میں بھی اتنے مسلمان موجود نہیں ہیں جتنے مسلمان ہندوستان میں رہتے ہیں۔ نیز مدارس عربیہ کے بڑے نیٹ ورک کی وجہ سے وہاں کی چاند کی کمیٹیاں ایسی پوزیشن میں ہیں کہ چاند کے نظر آنے یا نظر نہ آنے پر اعلان کریں اور لوگ اس پر عمل کریں۔ اس لیے ہندوستان میں سعودی عرب کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرکے نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق خود چاند دیکھنے اور اُس کے مطابق عبادت کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مگر دشواری یہ آتی ہے کہ ہندوستان میں دوبڑے مکاتب فکر میں سے ایک مکتب فکر ہندوستان کے ایک علاقہ میں رؤیت ہلال کی شہادت دوسرے علاقہ کے لیے قبول نہیں کرتا ہے۔ یہ حضرات حضور اکرم ﷺ کی اُس حدیث کو بنیاد بناتے ہیں جس میں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مہینہ ۹۲ دن کا ہوتا ہے، روزہ چاند دیکھ کر شروع کرو، ورنہ ۰۳ دن پورے کرو۔ یقیناً یہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے لیکن دیگر احادیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ہر شخص کا چاند دیکھنا ضروری نہیں ہے بلکہ چند حضرات کی شہادت کی بنیاد پر روزہ شروع کردیا جاتا ہے۔ نیز کسی حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ایک شہر یا علاقہ کے چاند کی رؤیت دوسرے علاقہ یا شہر کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
ہاں یہ بات مسلّمات میں سے ہے کہ چاند کے طلوع ہونے کی جگہ یعنی مطلع مختلف ہوتا ہے، البتہ مطلع (چاند کے طلوع ہونے کی جگہ) دنیا میں کس جگہ سے مختلف ہوتا ہے، اس کا فیصلہ نہ تو آج تک علماء کرپائے ہیں اور نہ ہی فلکیات کے ماہرین، حتی کہ بڑی بڑی مسلم حکومتیں بھی اس معمہ کا حل نہیں کرسکیں کہ دنیا میں کتنی دوری کے بعد چاند کا مطلع مختلف ہوجاتا ہے۔ یہ کہنا تو آسان ہے کہ شہر حیدرآباد کا مطلع دہلی سے یا مدراس کا مطلع دہلی سے مختلف ہے لیکن کوئی بھی شخص شرعی یا فلکی طور پر اس بات کو ثابت نہیں کرسکتا ہے کیونکہ شرعی یا فلکی طور پر ایسا کوئی پوائنٹ متعین نہیں کیا جاسکتا جس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ اس مقام کے بعد چاند کے طلوع ہونے کی جگہ مختلف ہے۔ علماء کرام نے اپنے اپنے اجتہاد سے اور ماہرین فلکیات نے اپنی اپنی تحقیق کے مطابق اس کی دوری کا ایک تخمینہ لگایا ہے، لیکن خود علماء کرام اور ماہرین فلکیات نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے اندازہ میں غلطی کے امکانات موجود ہیں۔ نیز یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ماہرین فلکیات کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ۹۲ کا چاند ایک ہی مطلع میں موسم صاف ہونے کے باوجود ہر جگہ نظر نہیں آتا ہے بلکہ ہر ۹۲ کے چاند کے نظر آنے کی جگہ مختلف ہوتی ہے، یعنی دہلی اور لکھنؤ کا ایک ہی مطلع ہونے کے باوجود یہ ضروری نہیں ہے کہ ۹۲ کا چاند دونوں جگہ نظر آئے خواہ دونوں جگہ موسم صاف ہو۔ لہذا کوئی دائمی فارمولہ ایسا طے نہیں کیا جاسکتا کہ دہلی اور لکھنؤ کا تو مطلع ایک ہے لیکن دہلی اور حیدرآباد کا مطلع مختلف ہے، بلکہ ہر مرتبہ نئی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً بعض مرتبہ صرف سو کیلومیٹر کے فاصلہ پر بھی دونوں جگہ موسم صاف ہونے کے باوجود ایک جگہ ۹۲ کا چاند نظر آتا ہے جبکہ دوسری جگہ نہیں۔ ہندوستان جیسے ملک میں تو ماہرین فلکیات اور علماء کرام کا کوئی ربط بھی نہیں ہے کہ جس سے کسی حل کی کوئی توقع کی جاسکے۔ اس لیے علماء کرام کو دنیا کے دیگر ممالک میں رائج نظام کی اتباع میں پورے ملک کا ایک ہی مطلع تسلیم کرنا چاہئے تاکہ یہ مسئلہ تین طلاق کے مسئلہ کی طرح حکومت کے سیاسی فائدہ اٹھانے کا ذریعہ نہ بن جائے اور پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ جائے، جس کے بعد چاند کا فیصلہ رؤیت ہلال کمیٹی کے بجائے ہندوستان کی سپریم کورٹ کیا کرے۔ ہاں وہ علاقہ جو کسی دوسرے ملک کے بارڈر پر ہے مثلاً کشمیر یا جس علاقہ کے لوگ سعودی عرب کے مطابق رمضان کی ابتدا یا اختتام کرتے ہیں مثلاً کیرالا تو اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا جائے، لیکن باقی ہندوستان کو ایک ہی مطلع تسلیم کرنا سب کے لیے خیر کا سبب ہے۔
ہندوستان میں رہنے والے حضرات عموماً حنفی مکتب فکر کی تقلید کرتے ہیں، یعنی علماء احناف نے اختلافی مسائل میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جو رائے اختیار کی ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔ چاند کے متعلق علماء احناف کا اصل مذہب یہ ہے اختلاف مطالع معتبر ہی نہیں ہے، یعنی کسی ایک جگہ میں چاند نظر آجائے تو دوسرے لوگ اس کے مطابق رمضان یا عید کریں گے خواہ انہیں چاند نظر نہ آئے۔ فقہ حنفی کی سب سے مشہور ومعروف کتاب الرد المختار (کتاب الصوم) میں مذکور ہے کہ اصل مذہب کے مطابق اختلاف مطالع معتبر نہیں ہے، اکثر علماء کی یہی رائے ہے اور اسی کے مطابق علماء احناف فتوی دیتے ہیں۔ لہذا مشرق والوں پر ضروری ہے کہ مغرب میں چاند نظر آنے پر اسی کے مطابق عمل کریں۔ غرضیکہ حنفی مکتب فکر کے قدیم علماء کی رائے کے مطابق پوری دنیا میں ایک دن میں ایک ہی تاریخ ہونی چاہئے، البتہ متاخرین حنفیہ میں سے حافظ زیلعی ؒ نے کنز کی شرح میں لکھا ہے کہ دور کے ملکوں میں اختلاف مطالع ہمارے نزدیک بھی معتبر ہے، لہذا دور کے ممالک کی رؤیت کافی نہیں ہے۔ متاخرین نے اسی قول پر فتوی دیا ہے۔ (کتاب بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع)۔ غرضیکہ بعد کے علماء احناف نے وضاحت کی کہ دور کے ملکوں کی رؤیت کو تو تسلیم نہ کیا جائے، البتہ قریبی ممالک کی رؤیت کو تسلیم کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا فقہ حنفی کی وہ کتابیں ہیں جنہیں ہندوستان میں دیوبندی اور بریلوی تمام علماء کرام پڑھتے اور پڑھاتے ہیں اور انہی کتابوں کو بنیاد بناکر فتاوی دیتے ہیں۔ بلاد قریبہ اور بلاد بعیدہ کی تفریق کا معیار اگرچہ اِن کتابوں میں مذکور نہیں ہے لیکن علماء کرام نے لکھا ہے کہ جو ممالک اتنے دور ہوں کہ ان کے اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کرنے پر دو دن کا فرق پڑجائے وہاں اختلاف مطالع کا اعتبار ہوگا، یعنی ایک جگہ کی رؤیت دوسری جگہ کی رؤیت کے لیے کافی نہ ہوگی۔ اپنے آپ کو حنفی ہونے کا دعوی کرنے کے بعد چاند کے مسئلہ میں ہر شہر یا ہر علاقہ کی الگ الگ رؤیت کو لازم قرار دینا قابل اعتراض ہے۔ موجودہ دور میں تو عرب ممالک کے بھی علماء کرام کا یہی موقف ہے کہ چاند کے ہونے یا نہ ہونے کا ملکی سطح پر اعلان کیا جانا چاہئے اور اسی کے مطابق عمل کیا جائے بلکہ بعض علماء کا تو آج بھی یہ موقف ہے کہ پوری دنیا میں ایک ہی تاریخ ہونی چاہئے جس کو توحید روےۃ الہلال کی بحث کہا جاتا ہے۔
رہا وہ واقعہ جو کتب حدیث میں ہے کہ مدینہ منورہ میں جب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس رمضان کے آخر میں حضرت کریب ؓکے ذریعہ یہ خبر پہنچی کہ ملک شام میں ایک روز قبل روزہ شروع ہوگیا تھا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن کی اس خبر کو قبول نہیں کیا کیونکہ اُن کے اجتہاد کے مطابق ہر ملک کی الگ الگ رؤیت کا اعتبار ہے۔ ملک شام اسلام سے قبل ہی سے ایک الگ ملک رہا ہے۔ مدینہ منورہ اور شام کے درمیان فاصلہ تقریباً ۰۰۴۱ کیلومیٹر کا ہے۔ نیزیہ خبر ایک شخص کی طرف سے عید الفطر سے چند روز قبل آئی تھی اور اس کو تسلیم کرنے پر عید الفطر کے چاند کا مسئلہ درپیش آتا اور عید الفطر کے چاند کے متعلق ایک شخص کی خبر شرعاًکافی نہیں ہے۔
علماء کی ایک جماعت نے ہندوستان کے بعض علاقوں میں رؤیت عام ہونے کے باوجود اس کو یہ کہہ کر تسلیم نہیں کیا کہ سعودی عرب اور ہندوستان میں عمومی طور پر چاند کی تاریخ میں ایک دن کا فرق رہتا ہے، وہاں جمعرات سے روزہ شروع ہوا تو ہندوستان میں بھی اُسی دن کیسے روزہ شروع ہوسکتا ہے؟ پہلی بات تو عرض ہے کہ اس دعوی کو کل قیامت تک بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا،نہ فلکیات کے اعتبار سے اور نہ ہی شریعت کے اعتبار سے کیونکہ نہ تو فلکیات کے ماہرین اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان میں ہمیشہ سعودی عرب کے ایک روز بعد ہی چاند نظر آئے گا، اور نہ ہی علماء کرام قرآن وسنت سے اِس قول کو مدلل کرسکتے ہیں۔ دوسری بات عرض ہے کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ خلیجی ممالک کے لوگوں سے غلطی نہیں ہوسکتی۔ اگر یہ فار مولہ ۰۰۱ فیصد تسلیم کرلیا جائے تو پھر ہندوستان کے لوگوں کو چاند دیکھنے کے بجائے سعودی عرب کے اعلان آنے کے بعد ایک دن کی تاخیر سے تمام عبادتیں کرنی چاہئیں، ظاہر ہے کہ اِس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ نیز یہ بات ذہن میں رکھیں کہ امسال سعودی عرب میں کیلنڈر سے ایک روز تاخیر سے روزہ شروع ہوا ہے کیونکہ کیلنڈر کے مطابق سعودی عرب میں بدھ ۶۱ مئی کو اور ہندوستان میں جمعرات کو پہلا روزہ تھا۔ نیز سعودی عرب میں چاند کے متعلق ماہرین فلکیات کی کافی دخل اندازی رہتی ہیں، انہوں نے چند روز قبل ہی سے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ امسال پہلا روزہ کیلنڈر سے مختلف یعنی جمعرات ۷۱ مئی سے شروع ہوگا، چنانچہ مغرب کے فوراً بعد ہی چاند نظر نہ آنے کا اعلان بھی کردیا گیا۔
آخر میں ایک بار پھر میں ہندوستانی مسلمان خاص کر علماء کرام سے درخواست کرتا ہوں کہ یقینا رمضان، عیدالفطر اور عیدالاضحی جیسی اہم عبادتوں کا انحصار چاند نظر آنے یا نہ آنے پر ہے، فلکیات کے نظام پر نہیں۔ نیز نبی اکرم ﷺ کے قول وعمل کی روشنی میں ہر شخص کا چاند دیکھنا ضروری نہیں ہے بلکہ چند حضرات کی شہادت کی قبولیت کے بعد ہر شخص کے لیے اس پر عمل کرنا لازم ہے۔ یقینا چاند کے طلوع ہونے کی جگہیں مختلف ہیں، لیکن نہ تو شرعی اور نہ ہی فلکی بنیاد پر وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مطلع کس جگہ پر مختلف ہوجاتا ہے، علماء کرام اور ماہرین فلکیات نے اپنے اپنے اجتہاد سے اس کے لیے کچھ اصول وضوابط متعین کیے ہیں لیکن خود علماء اور ماہرین فلکیات کے قول کے مطابق اس میں غلطی کے امکانات بھی کافی ہیں کیونکہ وہ تجربات اور معلومات کے مطابق ہی ترتیب دیے گئے ہیں۔ ہندوستان میں علماء کرام اور ماہرین فلکیات کے درمیان کوئی ربط بھی نہیں ہے۔ نیز ہندوستان جیسے ملک کے ہر علاقہ میں رمضان المبارک، عید الفطر وعیدالاضحی کی پہلی تاریخ کی تعیین میں اختلاف سے بے شمار مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس لیے اس موضوع پر اجتہاد کا دروازہ کھول کر آپس میں اجلاس اور میٹنگیں منعقد کرکے اس بات کی کوشش کریں کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پورے ملک کو ایک ہی مطلع تسلیم کیا جائے تاکہ ہندوستان میں کسی بھی جگہ رؤیت عام ہونے پر اس کو تسلیم کیا جائے۔ مذکورہ تحقیق کے مطابق امسال ۳۲ ویں شب ۷ جون، ۵۲ ویں شب ۹ جون، ۷۲ ویں شب ۱۱ جون اور ۹۲ ویں شب۳۱ جون کو ہے۔ امسال سعودی عرب میں جمعہ ۵۱ جون کو جبکہ ہندوستان میں ہفتہ ۶۱ جون کو عید ہونے کی توقع ہے، باقی اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔