گیارہویں قسط ۔۔۔ ۔۔۔سفر کنڈہ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

گیارہویں قسط
طارق شفیق ندوی
لکچرر میاں صاحب انٹر کالج گھورکھ

امیر سیر قطب الدین رح ایک مدت تک دہلی میں شیخ الاسلام کے منصب پر فائز رہے، دہلی کے تمام مشائخ و علماء اور تمام سلاطین اپنے اپنے وقت میں آپ کا ادب و احترام کرتے رہے، آپ نے دہلی سے منتقل ہو کر کڑہ (مانک پور کنڈہ سے قریب ایک تاریخی قصبہ جو گنگا کے کنارے ہے اب گاؤں کی حیثیت ہے ) میں مستقل سکونت اختیار فرمائ ۔ جہاں چھیانوے سال کی عمر میں4/ رمضان 677 ھجری میں وفات پائی ۔ (سیرت سید احمد شہید رح از / حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح )

حضرت شیخ الاسلام سید قطب الدین مدنی کے قدوم میمنت لزوم سے یہ علاقہ (یعنی کڑہ مانک پور کنڈہ کا علاقہ) کفر و شرک کی غلامی سے نجات پاکر اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اور نورانی روشنی سے منور ہوا اور علم و فضل اور رشد و ہدایت کا چمن زار بن گیا ،اور علماء صلحاء اور اہل اللہ کے بابرکت نفوس سے ہر دور میں یہ قصبہ اور علاقہ جگمگاتا رہا ،یہ روشن زمانہ کئ صدیوں پر محیط رہا اس کے بعد رفتہ رفتہ علم کی جگہ جہل اور روشن ضمیری اور اسلام کی پاک اور سچی تعلیمات کی جگہ توہمات نے لے لی ،جس کے نتیجہ میں یہ علاقہ پھر ایک بار علم و دین و شریعت اور عقائد صحیحہ سے بیگانہ اور بدعات و خرافات اور رسم و رواج میں گرفتار ہوتا گیا ۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ کسی علمی و دینی مرکز کی عدم موجودگی تھی ۔ ان حالات کو دیکھ کر اصحاب نے (جن میں پیش پیش حاجی محمد یوسف صاحب مرحوم اور منیجر جبار حسین مرحوم تھے) جن کو اللہ تعالی نے دین کی فکر اور قوم کا درد عطا فرمایا تھا احیاء دین اور دینی علوم سے واقفیت کو عام کرنے کے لئے ضروری سمجھا کہ اس علاقہ میں ایک مدرسہ قائم کیا جائے جو آئندہ نسلوں کی دینی حفاظت کے لئے مضبوط قلعہ کی حیثیت رکھتا ہو ۔ چنانچہ کڑہ سے کچھ فاصلہ پر تحصیل کنڈہ میں 1975 میں ایک دینی مدرسہ کی داغ بیل ڈالی اور اس کا نام مدرسہ نور الاسلام رکھا گیا ۔ یہ مدرسہ شروع میں مکتب کی شکل میں تھا ۔ مگر خوش قسمتی سے اور مدرسہ کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور اس کام کی نوعیت و نزاکت اور علاقہ سے خاندانی تعلق اور مفکر اسلام رح کے جد امجد سادات حسنی کے ممتاز فرد فرید حضرت شیخ الاسلام قطب الدین المدنی رح بھانجے شیخ عبد القادر جیلانی رح کی نسبت کے پیش نظر اس مدرسہ کو مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح کی خصوصی توجہ حاصل ہو گئی ۔اور پھر 1985 میں اس ادارہ کا ندوہ سے الحاق ہو گیا حضرت مولانا علی میاں ندوی رح اپنی زندگی میں متعدد بار یہاں تشریف لائے اور اہل مدرسہ کی درخواست پر اس کی خصوصی سرپرستی فرمائ اور اپنے انتہائی قریبی عزیز داعی اسلام حضرت مولانا سید محمد عبداللہ حسنی ندوی رح (پیدائش 29 جنوری 1958 وفات 30 جنوری 2013 )

کو اس مدرسہ کا ناظم اعلی مقرر کیا ۔ ضرورت تھی ایک فعال مدیر و مہتمم کی اللہ تعالی نے اس کے لئے جناب مولانا اسد اللہ صاحب ندوی کے انتخاب کو مقدر فرمایا ،ان کے آنے کے بعد مدرسہ نے ہمہ جہت ترقی کی اور مدرسہ کے معیار کو کیفیت اور کمیت ہر دو اعتبار سے بڑھایا آج یہ ادارہ ندوہ کے ممتاز اور معیار ی شاخوں میں سے ایک ہے ۔

اور جہاں کے تعلیم یافتہ اور تربیت ملک اور بیرون ملک اپنی ملی دینی علمی اور سماجی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔