گھر کا سربراہ کون مرد یا عورت

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

آخری قسط

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

*سورہ نساء* کی مذکورہ آیت کریمہ سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ عورت کی سربراہی اور اس کا زمام اقتدار سنبھالنا از روئے شرع درست نہیں ہے ۔ اور عورت کی سربراہی کے خلاف قرآن کریم کی یہ نص، نص قطعی کے درجہ میں ہے ،جس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ۰۰ وہ قوم ہرگز فلاح یاب اور کامیاب و کامران نہیں ہوگی جس بے اپنے امور عورت کے سپرد کر دیئے ۔

بعض حضرات حضرت عائشہ رضی عنہا کی جنگ جمل میں شرکت اور گروپ کی قیادت سے خواتین کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت کا جواز ثابت کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ کے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی جنگ جمل میں شرکت قائد فوج کی حیثیت سے نہیں تھی اور نہ سپاہی کی حیثیت سے وہ شریک ہوئ تھیں ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مقصد محض قتل عثمان ( رضی اللہ عنہ) کے قصاص کا مطالبہ تھا، اس کے علاوہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور دوسری ازواج مطہرات کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے اس اقدام سے اتفاق نہیں تھا، اور خود ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی اپنی اس اجتہادی غلطی کا احساس ہو گیا تھا اور مہم میں شرکت پر آپ کو پچھتاوا تھا ،اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل سے عورت کے لئے حکومت و سیاست کا جواز فراہم کرنا محض حقیقت کو منھ چڑھانا ہے ،جب مذہب اسلام نے عائلی نظام کے لئے مرد کو سربراہ کی حیثیت سے منتخب کیا تو یہ کیوں کر ممکن ہے کہ وہ خواتین کو گھر سے بے گھر کرکے حکومت و مملکت کا بار گراں صنف نازک کے کندھے پر ڈال دے اور وضع الشئی علی غیر محلہ کا مصداق قرار پائے ۔

مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ خدائے وحدہ لا شریک نے انسانوں کے درمیان صلاحیتوں کو تقسیم کر دیا ہے تاکہ دنیا کا نظام مستحکم و منظم اور مرتب انداز میں چلتا رہے اور اسی تقسیم کی طرف قرآن حکیم میں یوں اشارہ کیا گیا ہے ۔ *ولا تتمنوا ما فضل اللہ به بعضکم علی بعض للرجال نصیب مما اکتسبوا و للنساء نصیب مما اکتسبن و اسئلوا اللہ من فضله ان اللہ کان بکل شئی علیما* ( سورہ نساء آیت ۳۲)
اور جو کچھ اللہ تعالی نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو ،جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ،ہاں اللہ تعالی سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو یقینا اللہ تعالی ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔
*مولانا امین احسن اصلاحی رح* اس آیت کریمہ کی تفسیر کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں:
*قرآن نے اس ایت میں یہی بتایا ہے کہ مقابلہ کا میدان پیدائشی صفات یا فطری ترجیحات کا نہیں بلکہ اکتسابی صفات کا میدان ہے ، یہ میدان نیکی،تقوی ،عبادت، ریاضت،توبہ اور جامع الفاط میں ایمان و عمل صالح کا میدان ہے ،اس میں بڑھنے کے لیے کسی پر روک نہیں، مرد برھے وہ اپنی جدوجہد کا ثمرہ پائے گا، عورت بڑھے گی وہ اپنے سعی کا پھل پائے گی ،آزاد ،غلام باندی،شریف،کمینہ ،

بینا،نابینا سب کے لئے میدان یکساں کھلا ہوا ہے ،خدا نے طبعی طور پر فضیلتیں بانٹی ہیں، ان سے ہزار درجے زیادہ اس کا فضل یہاں ہے،جو فضیلت کے طالب ہیں وہ اس میدان میں اتریں اور خدا کے فضل کے طالب بنیں* ۔
(تدبر قرآن جلد دوم صفحہ ۶۲)