گھر کا سربراہ کون ،مرد یا عورت؟

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

پہلی قسط
*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*اس* حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ہر اجتماعی نظام کے لئے عقلا اور عرفا یہ ضروری ہے کہ اس کا کوئ سربراہ حاکم یا امیر ہو کہ اختلاف و نزاع اور باہمی کشمکش کے وقت اس کے فیصلے سے کام چل سکے ،جس طرح ملک و سلطنت اور ریاست و حکومت سب کے نزدیک مسلم ہے ،اسی طرح قبائلی نظام میں بھی اس کی ضرورت و افادیت ہمیشہ محسوس کی گئ اور کسی ایک شخص کو خاندان اور قبیلہ کا روح رواں اور میر کارواں

( حاکم و سردار ) مانا گیا ہے،اسی طرح عائلی نظام میں جس کو عرف میں خانہ داری کہا جاتا ہے اس میں بھی ایک امیر اور سربراہ کی ضرورت ہے ،عورتوں اور بچوں کے مقابلے میں اس کام کے ئے حق سبحانہ تعالی نے مردوں کو منتخب فرمایا کہ ان میں علمی اور عملی قوتیں اور صلاحیت بہ نسبت عورتوں اور بچوں کے زیادہ ہیں ،اور یہ ایسا معاملہ ہے کہ کوئ حقیقت پسند اس کا انکار نہیں کرسکتا ۔ ( مستفاد معارف القرآن سورہ نساء آیت 64)
یہی وجہ ہے کہ *قرآن مجید* میں ایک موقع پر بطور خاص پر مرد اور عورت کے درجہ کی تعیین کرتے ہوئے فرمایا گیا :
*الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضھم علی بعض و بما انفقوا من اموالھم* ۔ (النساء آیت نمبر 64 )
مرد عورت کے نگران اور حاکم ہیں اس لئے کہ اللہ تعالی نے ایک صنف (قوی ) کو دوسری صنف (ضعیف و کمزور ) پر بڑائ دی ہے کہ مرد عورتوں پر اپبا مال خرچ کرتے ہیں ۔
اس آیت کریمہ میں مرد کو عورت پر قوام بنایا گیا ہے ۔

عربی زبان میں قوام اسے کہتے ہیں جو کسی کی حمایت، حفاظت اور کفالت کا ذمہ دار بن کر کھڑا ہو ،اور جو شخص ان امور کی ذمہ داری لے گا ،تسلط اور حکومت اس کے لئے ضروری اور لازم ہے ۔
مفسر قرآن و مشہور عالم دین *مولانا امین احسن اصلاحی لفظ *قوام* کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
*عربی زبان میں ۰۰ قام کے بعد علی آتا ہے تو اس کے اندر نگرانی ،محافظت، کفالت اور تولیت کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے ۰۰ *قوامون علی النساء* ۰۰ میں بالا تری کا مفہوم ہے اور کفالت و تولیت کا بھی یہ دونوں باتیں کچھ لازم و ملزوم سی ہیں ۔ گھر کی چھوٹی سی وحدت بھی جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ،ایک چھوٹی سی ریاست ہے،جس طرح ہر ریاست اپنے قیام و بقا کے لئے ایک سربراہ کی محتاج ہوتی ہے ،اسی طرح یہ ریاست بھی ایک سربراہ کی محتاج ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ریاست میں سربراہی کا مقام مرد کو حاصل ہے یا عورت کو ؟
قرآن نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ مقام مرد کو حاصل ہے اور اس کے حق میں دو دلیلیں دی ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالی نے مرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہے ،مرد کو بعض صفات میں عورت پر نمایاں تفوق (برتری) حاصل ہے جنکی بنا پر وہی سزا وار ہے کہ قوامیت کی ذمہ داری اس پر ڈالی جائے، مثلا محافظت و مدافعت کی جو قوت و صلاحیت یا کمانے اور ہاتھ پاوں مارنے کی جو استعداد ہمت اس کے اندر ہے وہ عورت کے اندر نہیں ہے، یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث کلی فضیلت نہیں ہے بلکہ وہ فضیلت ہے جو مرد کی قوامیت کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے۔ بعض دوسرے پہلو سے عورت کی فضیلت کے بھی ہیں لیکن ان کو قوامیت سے تعلق نہیں ہے ۔ مثلا عورت گھر سنبھالنے اور بچوں کی پرورش و نگہداشت کی جو صلاحیت رکھتی ہے ۔ وہ مرد نہیں رکھتا ۔ اسی وجہ سے قرآن نے یہاں بات ابہام کے انداز میں فرمائ ہے جس سے مرد اور عورت دونوں کا کسی نہ کسی پہلو سے صاحب فضیلت ہونا نکلتا ہے ۔ لیکن قوامیت کے پہلو سے مرد ہی کی فضیلت کا پہلو راجح ہے ۔ دوسری یہ کہ مرد نے عورت پر اپنا مال خرچ کیا ۔ بعض بیوی بچوں کی معاشی اور کفالتی ذمہ داری تمام اپنے سر اٹھاتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ ہر ذمہ داری مرد نے اتفاقیہ یا تبرعا نہیں اٹھائی ہے بلکہ اس وجہ سے اٹھائ ہے کہ یہ ذمہ داری اس کے اٹھانے کی ہے ۔ وہی اس کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہی اس کے حق ادا کرسکتا ہے* ۔

تدبر قرآن ص: ۲۹۱ ۔ ۲۹۲ جلد دوم از مولانا امین احسن اصلاحی صاحب رح)
نوٹ مضمون اور پیغام کا اگلا حصہ کل ملاحظہ فرمائیں ۔