گھر کا سربراہ کون، مرد یا عورت

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

تیسری قسط
محمد قمرالزماں ندوی
حافظ ابن کثیر رح نے لفظ قوام کی تشریح میں لکھا ہے:ای ھو رئیسھا و کبیرھا و الحاکم علیھا و مودبھا اذا اعوجت یعنی مرد عورت کا سربراہ ہے ،اس پر حاکم ہے اور غلط روی کی صورت میں اس کو ادب سکھانے والا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ شریعت اسلامی میں مرد کو عورت کے مقابلے میں یہ جو مقام ملا ہے اس کی اللہ تعالی نے دو وجہیں بیان فرمائیں ایک وہبی ،خداداد اور دوسرا کسبی و اختیاری، وہبی اور فطری یہ کہ اللہ تعالی نے مرد کو عورت پر بڑائ دی، بعض مرد کو جسمانی و عقلی قوتیں عورت سے زائد اور بہتر عطا فرمائیں جس کے نتیجہ میں مرد علمی و عملی کمالات میں عورت سے فائق ہوا ۔ اور ظاہر ہے کہ علمی و عملی کمالات ہی پر ترقئ درجات کا انحصار ہے ۔ ماضی قریب کے مشہور عالم دین اور مفسر قرآن علامہ رشید رضا مصری رح لکھتے ہیں :
مرد کے اعضاء عورت کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں، مرد کے جسم کا تناسب عورت کے مقابلہ میں زیادہ حسین ہے ،اور یہ بات تمام حیوانات میں پائ جاتی ہے ۔ مرغا، مرغی سے ،بھیڑ بھیڑی سے اور شیر شیرنی سے زیادہ حسین ہوتا ہے،نیز مرد کا مزاج عورت کے مزاج سے زیادہ کامل و معتدل ہے، اعضاء کی قوت اور مزاج کے اعتدال پر عقلی و فکری قوتوں کا کمال منحصر ہے ۔ اطباء کا مشہور قول ہے کہ صحیح جسم میں صحیح عقل ہوتی ہے ،جسمانی اور عقلی قوتوں کے اس کمال کا قدرتی ثمرہ یہ ہے کہ مرد زندگی کی جدو جہد میں حصہ لینے کے لئے عورت سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور کسب و ایجاد اور انتظام و تدبر امور پر بہتر طور پر قادر ہے.
(تفسیر المنار از رشید رضا مصری)

کسبی و اختیاری یہ ہے کہ مرد حکم خدا وندی کی تعمیل میں عورتوں کو مہر ،پوشاک اور رہائش وغیرہ مہیا کرتے ہیں اور ان کی تمام خانگی و معاشی ضروریات کے کفیل ہیں ۔ اگر مرد ایسا نہ کرے تب بھی وہ فطرت کے تقاضوں کے مطابق عورتوں کے نگران اور حاکم ہی رہتے ۔ بہرحال ان وہبی و کسبی وجوہ فضیلت کی بنا پر اسلام نے مردوں کو عورتوں کی ذمہ داری، نگرانی سرداری کے مقام پر فائز فرمایا ۔ مولانا زین العابدین سجاد میرٹھی رح مرد اور عورت کے باہم تقسیم کار کے حوالے سے لکھتے ہیں :گھر کے مختصر سے معاشرہ میں بھی مرد کو ریاست کا درجہ عطا فرمایا، کسب معاش کا بوجھ اس کے کاندھے پر ڈالا اور خاندان کی صلاح و فلاح اور ان کی حفاظت و حمایت کی ذمہ داری اس کے سپرد کی اور ملک و ملت کی وسیع سوسائٹی میں بھی دشمنوں سے حفاظت، تدبیر امور مملکت اور عمومی نظم و نسق کی گراں بار ذمہ داریاں مرد کے سپرد کیں چنانچہ جس طرح امامت کبری (نبوت) اور امامت صغری (نماز کی امامت) مردوں سے متعلق رہی ہیں اسی طرح خلافت امارت اور قضا کے فرائض بھی مردوں ہی کے سپرد کئے ہیں ۔ *حافظ ابن کثیر رح لکھتے ہیں :ولھذا کانت النبوة یختصه بالرجال و کذلک الملک الاعظم بقوله صلی اللہ علیه وسلم لن یفلح قوم ولوا امرھم امرأة (رواہ البخاری ) وکذا منصب القضا و غیرہ.

اور انہی وجوہ سے نبوت مردوں کے ساتھ مخصوص رہی ہے اور اسی طرح خلافت و امارت ،کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ قوم ہرگز فلاح نہ پائے گی جس نے اپنے امور مملکت عورتوں کے سپرد کر دیئے ۔ اور اسی طرح قضا وغیرہ کے مناصب بھی مردوں سے متعلق رہے ہیں ۔
البتہ ملک و ملت کے وہ مسائل جو عورتوں ہی سے متعلق ہیں، ان میں عورتوں کی مدد لی جاسکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر وقتی طور پر دوسری ذمہ داریاں بھی عورتوں کی صنفی خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے عورتوں کے سپرد کی جاسکتی ہیں ۔ اس فرق مراتب اور تقسیم فرائض سے عورتوں کے احترام اور ان کی عزت و حرمت میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی ۔ ( قاموس القرآن صفحہ ۴۲۹ از مولانا زین العابدین سجاد میرٹھی رح)

نوٹ مضمون کا آخری حصہ کل ملاحظہ فرمائیں……………..
محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ