گھر کا سربراہ کون، مرد یا عورت؟

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

دوسری قسط
محمد قمرالزماں ندوی

صاحب تفہیم القرآن* لفظ *قوام* کی تشریح میں لکھتے ہیں :
قوام یا قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارے یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی حفاظت و نگہبانی کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو ۔ یہاں فضیلت بمعنی شرف اور کرامت اور عزت نہیں ہے، جیسا کہ ایک عام اردو خواں آدمی اس لفظ کا مطلب لیگا، یہاں یہ لفظ اس معنی میں ہے کہ ان میں سے ایک صنف (یعنی مرد) کو اللہ نے طبعا بعض ایسی خصوصیات اور قوتیں عطا کی ہیں جو دوسری صنف ( یعنی عورت) کو نہیں دیں یا اس سے کم دی ہیں ۔

اس بنا پر خاندانی نظام میں مرد ہی قوام ہونے کی اہلیت رکھتا ہے اور عورت فطرة ایسی بنائ گئ ہیں کہ اسے خاندانی زندگی میں مرد کی حفاظت و خبر گیری کے تحت رہنا چاہیے*۔ (تفہیم القرآن جلد ۱/ صفحہ ۳۴۹)
*مفتی محمد شفیع صاحب رح* لفظ قوام کی تفسیر و توضیح میں لکھتے ہیں :
*خلاصہ یہ کہ سورئہ بقرہ کی آیت میں و للرجال علیھن درجة فرماکر اور نساء کی آیت مذکورہ میں الرجال قوامون علی النساء فرما کر یہ بتلایا گیا کہ اگر چہ عورتوں کے حقوق مردوں پر ایسے ہی لازم و واجب ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر ہیں اور دونوں کے حقوق باہم مماثل ہیں، لیکن ایک چیز میں مردوں کو امتیاز حاصل ہے کہ وہ حاکم ہیں ۔

اور قرآن کریم کی دوسری آیات میں یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ حکومت جو مردوں کی عورتوں پر ہے محض آمریت اور استبداد کی حکومت نہیں، بلکہ حاکم یعنی مرد بھی قانون شرع اور مشورہ کا پابند ہے، محض اپنی طبیعت کے تقاضے سے کوئ کام نہیں کرسکتا ،اس کو حکم دیا گیا کہ عاشروھن بالمعروف یعنی عورتوں کے ساتھ معروف طریقہ پر اچھا سلوک کرو ۔ اسی طرح دوسری آیت میں عن تراض منھا و تشاور کی تعلیم ہے،جس میں اس کی ہدایت کی گئی کہ امور خانہ داری میں بیوی کے مشورے سے کام کریں ،اس تفصیل کے بعد مرد کی حاکمیت عورت کے لئے کسی رنج کا سبب نہیں ہوسکتی،چونکہ یہ احتمال تھا کہ مردوں کی اس فضیلت اور اپنی محکومیت سے عورتوں پر کوئ ناخوشگوار اثر ہو ،اس لئے حق تعالی نے اس جگہ صرف حکم بتلانےاور جاری کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا ؛ بلکہ خود ہی اس کی حکمت اور وجہ بتلا دی ،ایک وہبی جس میں کسی کے عمل کا دخل نہیں، دوسرے کسبی جو عمل کا اثر ہے ۔ پہلی وجہ یہ ارشاد فرمائ بما فضل اللہ بعضھم علی بعض یعنی اللہ تعالی نے دنیا میں خاص حکمت و مصلحت کے تحت ایک کو دوسرے پر بڑائ دی ہے، کسی کو افضل کسی کو مفضول بنایا ہے ،جیسے ایک خاص گھر کو اللہ تعالی نے اپنا بیت اللہ اور قبلہ قرار دیدیا ،بیت المقدس کو خاص فضیلت دیدی ،اسی طرح مردوں کی بھی حاکمیت ایک خدا داد فضیلت ہے،جس میں مردوں کی سعی و عمل یا عورتوں کی کوتاہی و بے عملی کا کوئ دخل نہیں ہے ۔ دوسری کسبی اور اختیاری ہے کہ مرد اپنا مال عورتوں پر خرچ کرتے ہیں، مہر ادا کرتے ہیں، اور تمام ضروریات کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں ۔ ان دو وجہ سے مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا گئا ہے*۔

(معارف القرآن جلد دوم صفحہ ۳۹۶ ۔ ۳۹۷ )
*نوٹ مضمون اور پیغام کا اگلا حصہ کل ملاحظہ فرمائیں*