گاندھی کے قاتلوں کی آنکھ میں گاندھی کو مہاتما بنانے والی مسلم یونیورسٹی ہمیشہ کھٹکتی رہتی ہے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!
      طارق ایوبی علیگ ندوی 

ہم اے ایم یو کے ساتھ ہیں طارق ایوبی علیگ ندوی :آجکل حکومت کی سر پرستی میں شہہ زوری اور غنڈہ گردی شباب پر ہے۔ بھاجپا حکومت میں اس کے کئی رنگ نظر آئےہیں ۔ لیکن 2 مئی کو اے ایم یو میں جو کچھ ہوا وہ واقعی شرمناک اور ملک کی تاریخ کا بد ترین واقعہ ہے ۔ کیونکہ اس واقعہ میں نشانہ تاریخی شناخت رکھنے والے ادارے کو اور سابق نائب صدر جمہوریہ کو بنایا گیا۔طلبہ یونین نے سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری صاحب کو اپنی روایت کے مطابق یونین کی لائف ٹائم ممبر شپ دینے کے لیے مدعو کیا تھا جو اس سے پہلے بلا تفریق مذہب مختلف شخصیات کو دی گئی ہے ۔ مگر کیا کیجئے اس ملک میں بسنے والے اکثریتی طبقے کی تنگ نظری کا اسے یہ اعزاز راس نہ آیا ۔

اس کے سر پھرے غداروطن اور دستور ہند کے باغی غنڈوں نے اس پروگرام کو بھنگ کرنے کی ٹھان لی ۔ ان ہی کے ایک دہشت گرد نے راشٹر پتا کو شہید کیا تھا ۔ اسی دہشت گرد کی نئی نسلنے اب سابق نائب راشٹر پتی پر حملہ کرنا چاہا اور اے ایم یو کے ماتھے کا جھومر نوچنا چاہا ۔ میں سلام کرتا ہوں اے ایم یو طلبہ برادری کو جس نے یہاں ظالموں کی قبائیں ہمیشہ نوچ لی ہیں اور جس نے سو بار یہاں آکاش کو جھکنےپر مجبور کیا ہےاس نے آج پھر سنگھی غنڈہ گردی کو اوقاتبتا دی ۔اس کارروائی کے لیے یونین ہال میں تقسیم سے قبل کی لگی جناح کی تصویر کا سہارا لیکر ماحول کو خراب کرنا شروع کیا جو در حقیقت کوئی ایشو ہی نہیں ہے ۔ جب بھاجپا کے لوگ جناح کے مزار پر چادر چڑھا سکتے ہیں ۔ بغیر کسی سرکاری شیڈول کے جناح کے ملک کباب کھانے جا سکتے ہیں ۔ جناح کے ملک کے وزیر اعظم کو خیر سگالیکے لیے اپنی تقریب حلف برداری میں خاص مہمان کی حیثیت دے سکتے ہیں تو پھر یہ تصویر تو تاریخ کا حصہ ہے اور تاریخ کا بعد میں رنگ بدل جائے مگر اسکی حقیقت کو نہیں بدلا جا سکتا یہی تاریخ کا اصول ہے ۔ کاروان امن و انصاف کا ہندو یوا واہنی کے غنڈوں سے مطالبہ ہیکہ وہ اس تصویر سے پہلے اس سر کی فکر کریں جو جناح کے مزار پر جھکا تھا ۔اس پورے واقعے میں پولیس اور گودی میڈیا کا کردار ایک بارپھر جمہوریت کے لیے بڑے خطرے کی شکل میں نظر آیا۔ پورا واقعہ پولیس کی سرپرستی میں انجام پایا ۔

پھر لاٹھی چارج اے ایم یو کے نہتے خاموش احتجاجی طلبہ پر کر کے بری طرح انھیں زخمی کیا گیا ۔ غیر قانونی ہتھیار لیکر مادر علمی کے کیمپس میں گھسے حملہ آوروں کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا گیا ۔ گودی میڈیا نے لاٹھی چارج غنڈوں پر دکھایا اور مظلوم کو پھر ظالم بنا دیا ۔کاروان و انصاف حکومت سے سوال کرتی ہیکہ حامد انصاری کے تحفظ کی ذمہ داری کس کی تھی ۔ کیا پولیس اور میڈیا کو اس حکومت میں یہی کردار ادا کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ کیا اب تعلیمی ادارے اور باوقار شخصیات بھی بھگوائی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں ۔کاروان امن وانصاف کا مطالبہ ہیکہ کہ اگر بھاجپا واقعی دہشت گردی کے خلاف ہے اور ملک سے اس کا خاتمہ چاہتی ہے تو وہ rss.vhp . Hindu yuva wahini Abvp وغیرہ پر فوری پابندی لگائے اور انھیں دہشت گرد ڈکلیئر کرے اور اس واقعے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے اسکی جوڈیشل انکوائری کرائے اور مجرموں پر فوری کارروائی کرے ۔ہمارا ملی تنظیموں سے بھی مطالبہ ہیکہ وہ اے ایم یو طلبہ پر ظلم و بربریت کے خلاف آگے آئیں۔ اپنی سیاستکا انداز بدلیں ۔ اور اے ایم یو کے وقار کا تحفظ کریں اپنے دامن میں تقریبا تیس مسجدیں رکھنے والی یہ یونیورسٹی بہرحال اسلامی اور اقلیتی شناخت رکھتی ہے جسکے دستور میں بنیادی اور مرکزی حیثیت جامع مسجد کو دی گئی ہے ، اپنی اسلامی اور اقلیتی شناخت کے ساتھی اس نے ہمیشہ خود کو سیکولر رکھا ہے اور سیکولرازم کو فروغ دیا ہے اسی لیے ہمیشہ وہ فسطائیت کے نشانے پر رہی ہے ۔

ملی تنظیموں کو چاہیے کہ طلبہ پر ہوئے اس ظلم کے خلاف مناسب اقدام کریں اور اپنا احتجاج کرائیں ۔ پولیس کو غیر جانبدارانہ کارروائی کے لیے مجبور کرنے کے لیے حکومت کو مجبور کریں کہ مناسب اقدام کرے اور پولیس پر پریشر بنانے کی گھناونی ہندستانی نیتاگیری کی روایت کے خلاف سخت ایکشن لے ۔ ملی تنظیموں کو بڑی تعداد میں گودی میڈیا اور خاص طور پر آج تک کے خلاف فوری طور پر مقدمے بھی کرنا چاہیے ۔ڈاکٹر طارق ایوبی علیگقومی صدر: کاروان امن وانصاف