گاندھی میدان پٹنہ سے صدائے احتجاج

پروفیسر کلیم عاجز نے دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم میں کہا تھاکہ
زخم کھائے ہوئے سرتا بہ قدم آئے ہیں۔۔۔ہانپتے کانپتے یا شاہ امم آئے ہیں
کھوکے بازار میں سب اپنا بھرم آئے ہیں۔۔۔شرم کہتے ہوئے آتی ہے کہ ہم آئے ہیں
گرچہ بے سوز ہیں بےساز ہیں بےساماں ہیں۔۔۔ہاتھ خالی نہیں سرکار میں ہم آئے ہیں۔
سرنگوں آئے ہیں بادیدہ نم آئے ہیں۔۔۔آبرو باختہ دل سوختہ ہم آئے ہیں۔اور یہ شعر کہ:
لے کے اردن کے جوانان بنی ہاشم کا ۔۔۔حوصلہ آئے ہیں دم آئے ہیں خم آئے ہیں۔
ملک کے موجودہ نفرت انگیز ماحول میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری اور امیر شریعت امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی مدظلہ العالی کی آواز پر 15 ,اپریل 2018 کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں صوبہ بہار،اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے بیسیوں لاکھ مسلمانوں نے لبیک کہتے ہوئے جس جوش و جذبے،عزم و ولولے اور ہمت و حوصلے کا ثبوت پیش کیا ہے اور آزاد بھارت میں سرفروشانہ احتجاج کی جو تاریخ رقم کی ہے اس نے کلیم عاجز کے مذکورہ بالا اشعار کی یاد تازہ کردی ہے ۔

بندہ عاجز اس احتجاجی مظاہرے کا حصہ تھا اور چالیس سالہ زندگی میں پہلی بار 12 بجے دوپہر سے 5 بجے شام تک لگاتار چھ گھنٹے تپتی زمین پر آگ برساتے آسمان کے نیچے اور گرم ہوائوں کے درمیان لاکھوں مسلمانوں کی طرح بار بار پسینے پونچھتے اور سر پر رومال اوڑھتے دل میں یہی خیال کرتا کہ:
رب دوجہاں ان پسینوں اور دھوپ کی تمازت کے صدقے میں ہم آبرو باختہ دل سوختہ مسلمانان ہند پر ضرور رحم فرمائے گا۔
بے سروسامانی اور ہر طرف سے ستائے ہوئے مسلمانوں کا یہ ہجوم واقعی ایک ہجوم عاشقاں تھا جو سراپا دیوانگی اور جنون کا منظر پیش کررہا تھا اور بہ زبان حال وہ اپنے رب رحمان و رحیم سے کہ رہا تھا کہ آج ہم دین اور دیش کے تحفظ کے نام پر یہاں آئے ہیں،مالک!ہمارا دین اگر باقی نہیں رہے گا تو ہم اس دیش کے باشندے رہ کر بھی غریب الوطن کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

گاندھی میدان پٹنہ میں جمع ہوئے مسلمانوں کا یہ ہجوم کبھی اسٹیج اور کبھی آسمان کی طرف دیکھتا اور اکابرین ملت اسلامیہ کی آواز پر دین و دیش کے تحفظ کے جذبات سے سرشار فلک شگاف نعرہ تکبیر اور بھارت زندہ باد، پائندہ باد کی صدا لگاتا تو لگتا کہ ایک طرف اگر آج وہ اپنا واضح پیغام اور دوٹوک فیصلہ ملک کے موجودہ فرقہ پرست او ظالم حکمرانوں کے سیاہ کلیجے تک پہنچا دینا چاہتا ہے تو دوسری طرف وہ اپنی ساری بےدینی اور دنیاداری کے باوجود اب مزید دین و شریعت پر حملےکو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے اور وہ یہ کہنا چاہتا ہیکہ :
مالک! ہم بےدین ضرور ہیں،بےنمازی بھی ہیں، تیرے پیارے نبی کی شریعت سے خوب بغاوت بھی کرتے آئے ہیں،ہم تعلیم میں بھی کمزور ہیں اور دولت میں بھی غیروں سے پیچھے ہیں مگر بات آج اس دین کی آئ ہے جسے آخری نبی کے نواسے حضرات حسنین اور نبی کے گھرانے اور دیوانے صحابہ کرام نے خون کا نذرانہ دیکر بچایا ہے اور بات اس دیش کے تحفظ کی آئی ہے جسے دولاکھ مسلمانان ہند اور اکیاون ہزار علمائے کرام نے پھانسی کے پھندے پر جھولکر آزاد کرایا ہے۔لگتا ہیکہ دوبارہ وہی برے دن آنے والے ہیں اسلئے آج ہم ان کی ایمانی اولاد یہ عھد کرتے ہیں کہ مالک!ہم اب مسلکی اور مشربی اختلافات کو بھول کر نئے اتحاد کے ساتھ اس ملک میں جب تک زندہ رہیں گے اپنے پیارے نبی کی پیاری شریعت کے تحفظ و تشخص کے ساتھ زندہ رہیں گے اور کسی بھی حال میں دین کا سودا ہونے نہیں دیں گے اورمظلوموں کو ساتھ لیکر ملک کے ظالموں سے اس وقت تک مقابلہ کریں گے جب تک ملک سے نفرت و عداوت،فرقہ پرستی و تشدد پسندی اور ظلم و زیادتی کا خاتمہ نہ ہوجائے اور اس کی جگہ امن و سلامتی،عدل و انصاف اور اخوت و بھائی چارگی کا بول بالا نہ ہوجائے!
رفقائے گرامی!

میرے ناقص خیال میں پوری کانفرنس کا لب لباب یہی تھا۔اب اس خلاصہ کے علاوہ کسی کے کچھ بھی مقاصد یا خیالات ہوں انشاءاللہ اسٹیج سے جو پیغام ملت اسلامیہ بھار،اڑیسہ و جھارکھنڈ کو بالخصوص اور پورے ملک کو بالعموم اپنی اصلاح و عمل کی دیا گیا اور ملک کی فرقہ پرست جماعت و عناصر کو جو وارننگ دی گئی رب دوجہاں کے فضل و کرم پر یقین رکھتے ہوئے ہیں مکمل اعتماد ہے کہ بھار کی راجدھانی اور تاریخی جگہ گاندھی میدان سے اٹھنے والی یہ مضبوط آواز بھار ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو ایک نئی سمت عطا کرے گی اور آنے والے دنوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انشاءاللہ۔
تو آئیے! ہم سب مل کر ملک کے مسلمانوں کے باوقار متحدہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی مدظلہ العالی کو،اکابرین امارت شرعیہ کو اور ریاست بھار کی ان تمام تنظیموں اور جماعتوں کو مثلا جمعیت علمائے بھار،جماعت دعوت و تبلیغ، جماعت اسلامی،جمعیت اہل حدیث کے ساتھ ساتھ ان کی مقامی یونٹوں کو اور تمام مکاتب فکر کے غیور عوام کو جن کی بےمثال قربانیوں کے صدقے میں آزاد بھارت میں ریاست بھار کے تاریخی گاندھی میدان نے صدیوں کے لئے ایک تاریخ رقم کی۔اور مبارک باد دیجئے اور خوب دیجئے کانفرنس کے ان دیوانے شرکا کو جنہوں نے اپنے ایمانی حرارت اور دینی غیرت و حمیت سے میدان کی چلچلاتی دھوپ، تپتی ریت اور بدن کو جھلسادینے والی گرمی کو شکست دے کر ایک لازوال مثال پیش کیا!اللہ رب العزت سبھوں کی ان ساری قربانیوں کو خوب خوب قبول فرمائے اور تادم حیات اسی جذبے پر قائم و دائم رکھے۔آمین
طالب دعا:
محمد اطھر القاسمی
جنرل سیکریٹری جمعیت علمائےارریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں