کیا ہمارا نصب العین اور طریق کار دین کے تقاضے پورا کررہا ہے؟

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

از:اشفاق احمد القاسمی
اسلام ایک مکمل نظام زندگی اور ایک بین الاقوامی دستور العمل ہے ،جو افراد کی انفرادی سیرتوں سے لیکر پوری دنیا کے اجتماعی نظم تک ،ہر چیز کو اپنی گرفت میی لے لیتا ہے اور اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے کہ مومنو :اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ ،لیکن عام مشاہدہ یہ ہے کہ بیشتر لوگ اسلام کے بجائے دیگر نظریہ ہائے حیات کے پابند ہیی ۔
جب ہم اپنے مسلمان ہونے اعلان کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم وہ گروہ انسانی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیی ،جو اس دنیا میں انبیاء کرام ؑکا جانشین ہے ۔خس کے ایک ایک فرد نے انفرادی طور پر اور پورے گروہ نے بحیثیت مجموعی اپنے آپ کو کلیتاً اپنے رب کے حوالے کردیا ہے اور اپنی پوری زندگی اور اس کے سارے معاملات کو غیر مشروط اور برضا ورغبت خدا کی اطاعت و بندگی میی دے دیا ہے ۔
دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہیں ،کہ ہم نے ہر طرف سے منہ موڑ کر پوری یکسوئی اور طمانیت قلب کے ساتھ فقط اللہ رب العالمین کو اپنا الہ ورب ،خالق و مالک ،حاکم اور واضح قانون مان لیا ہے ۔سب کو چھوڑ کر محمد ﷺکو اپنا رہنما اور قائد و پیشوا بنا لیا ہے ۔سب نظام ہائے زندگی اور نظریہ ہائے حیات کو ترک کر کے صرف اسلام اور قرآن کو بطورِ نظام زندگی اور دستور حیات کے قبول کرلیا ہے ۔ہر دوسری باز پرس کا خیال دل سے نکال کر محض اپنے الہ واحد کی باز پرس کو قابل لحاظ تسلیم کرلیا جائے ۔
مختصر یہ کہ ہر طریق زندگی کو ترک کر کے ،ہر اقتدار کو ٹھکرا کر ، ہر حاکمیت وعقیدت سے بغاوت کر کے اور ہر خوف اور ہر لالچ سے بے نیاز ہو کر صرف اللہ واحد کی غلامی و وفاداری اور اطاعت کا قلادہ اپنی گردن میی ڈال لیا ہے اور ہم چاہتے ہیی کہ باہم میل ملاپ، لین دین ،نکاح و طلاق اور نماز و روزے سے لیکر تنظیم و سیاست ،قانون وعدالت ،صلح وجنگ اور ملکی نظم و نسق تک ہمارا ہر انفرادی ،اجتماعی ،تمدنی اور سیاسی معاملہ ،سرتا پا خدا کی حاکمیت کیے تحت ،اس کے قانون کے مطابق ،اس کے رسول ﷺکی رہنمائی میں اور محض آخرت کی باز پرس کا لحاظ کرتے ہوئے انجام پائے ۔
لیکن، ذرا انصاف سے اور کھلے دل سے موجودہ مسلمان سوسائٹی پر تنقیدی نگاہ ڈالئے اور شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک ان کی کروڑوں ابادیاں دیکھتے چلے جائیے اور بتائیے ،کیا ان میں کہیں کوئی ایسا گروہ موجود ہے جو ان اسلامی اساسات پر پورا اترتا ہو ؟ہاں ،منفرد طور پر کچھ اللہ کے بندے ضرور ایسے مل جائیں ،جنہوں نے اسلام کے اس حصے کو ، جوانسان کی انفرادی زندگی سے تعلق رکھتا ہے ،پورے شد ومد کے ساتھ اختیار کررکھا ہوگا اور اعتقادا بھی اللہ کے سوا کسی اور کو الہ ورب ،محمد کے سواکسی اور کورہنما ،کتاب وسنت کے سواکسی اور شے کو قانون اور آخرت کی باز پرس کے سواکسی اور باز پرس کو قابل اعتنا نہ سمجھتے ہوں گے ۔
لیکن ،ان بزرگوں سمیت جہاں تک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی ، ان کی تنظیموں اور جماعتی پروگراموں کا تعلق ہے ، ان میں سے آپ بیشتر کو اسلام کے بجائے دیگر نظریہ ہاے حیات کے پابند دیکھیں گے ، جس طرح خدا کے نافرمانوں اور اس سے پھرے ہوئے انسانوں کی اجتماعی زندگیوں ،تنظیموں اور جماعتی پروگراموں کو دیکھتے ہیں ۔ان کے نزدیک کتاب و سنت نہیں بلکہ جمہوری اصول ، اسوہ فرنگ اور مغربی قوانین و آئین ہی حجت و برہان اور سندر سلطان کا حکم رکھتے ہیں ۔یہ صورت حال اس امر کی بین دلیل ہے کہ اگر مسلمان اور ان کے رہنما زبان سے اس کا اقرار کریں یا نہ کریں
لیکن عملا ان کے نزدیک اب اسلام محض ایک شخصی معاملہ اور اعتقادی چیز ہے ،جسے ان کی اجتماعی اور سیاسی زندگی سے کوئی سروکار نہیں ۔
لیکن ،جن لوگوں نے قرآن کریم ،اسوہ رسولﷺاور سیرت صحابہ ؓپر سر سری نظر بھی ہدایت حاصل کرنے کیلے ڈالی ہے ،وہ جانتے ہیی کہ اسلام موجودہ زمانے کے عام رائج الوقت مفہوم میی کوئی مذہب نہیں ہے ،جو محض عبادات ،ریاضیات ،اور کچھ انفرادی دین دارانہ اعمال و افعال پر مشتمل ہو ، بلکہ وہ ایک مستقل نظریہ حیات ،ایک مکمل نظام زندگی اور ایک بین الاقوامی دستور العمل ہے ،جو افراد کی انفرادی سیرتوں سے لیکر پوری دنیا کے اجتماعی نظم تک ،ہر چیز کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ، اور اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے کہ ,,مومنو:اسلام میں پورے پورے طور پر داخل ہو جاؤ،،اس کے وضع اور مرتب کرنے والے ،یعنی اللہ رب العالمین نے اپنے نبی ﷺکو صاف صاف بتادیا کہ انہیں یہ دین دے کر دنیا میی اس غرض سے بھیجا جارہا ہے ,,تاکہ اس دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کرے ۔اگرچہ کافر نا خوش ہوں ،،۔
اسلام کے اساسی عقائد اور اس کا پوری انسانی زندگی پرحاوی ہونا معلوم ہو جانے کے بعد مسلمانوں کی حیثیت ،ان کے فرائض اور ان کی زندگی کا مقصد از خود متعین ہو جاتا ہے ،اور یہ حقیقت بلکل نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ :مسلمان نام ہے اس بین الاقوامی اصلاحی و انقلابی جماعت کا جو اسلام کے نظریہ و مسلک کے مطابق انسانی سوسائٹی کی تعمیر کیلیے اس کار زار دنیا میی قدم رکھے ، اور اس کام کی تکمیل کیلیے سر دھڑکی بازی لگا دے،جوان کے آقا ومالک نے اپنے رسول ﷺکے ذمے اور اس کی وساطت سے خود ان کے ذمے کیا ہے ، لیکن اس کام کیے دین کی غایت الغایات اور اس کے اساسی کام ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی نے اس معاملے کو ہمارے اتنے سے اجتہاد پر بھی نہیں چھوڑا بلکہ صاف صاف فرمادیا کہ :
اور تم میں سے ایسے لوگوں کی طرف جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیی اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں ،اور وہی لوگ بامراد ہیی (آل عمران :105)
اور فرمایا :
,اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول ﷺتم پر گواہ ہو ،،
ظاہر ہےکہ دین کو دنیا میی برپا کرنا ، امربالعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا اور بندگان خدا پر زندگی کے ہر شعبے میں اس کے دین کی حجت تمام کرنا منفرد اشخاص کے بس کا کام نہیں ۔ان میں سے ہر کام اجتماعی نظم اور منظم جدوجہد چاہتا ہے، جیسا کہ قرآن پاک کا منشا اور نبیﷺکا اسوہ ہے ، جس کے بقاو استحکام کیلے حضور ﷺاور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے انتھک محنتیں کیں اور جسے زندہ رکھنے کی خاطر خلفائے راشدین اور حضرات حسنین رضی اللہ تعالی عنہم نے قربانیاں پیش کیں ۔اس کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں کہ مسلمان امت وسط اور خیر امت کے فرائض انجام دے سکیں ، اور خدا کے راستے سے بھٹکے ہوئے بندوں اور گرہوں کے سامنے اس کے دین کی وہ زندہ شہادت بن سکیں کہ ان کے قول اور عمل اور برتاؤ ہر چیز کو دیکھ کر لوگ زندگی کے ہر شعبے میں صیح راہ پاسکیں ۔دین کو بالفعل برپاکئے بغیر شہادت علی الناس اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا تو درکنار ، اسلام کے احکام وضوابط کو اپنی انفرادی زندگی میں بھی پوری طرح داخل کرنا ممکن نہیں ۔
لہزا ،مسلمانوں کایہ دینی فرض ہے کہ اقامت دین کیلے کوشش کرتے رہیں کہ یہ کام ایمان کا عین تقاضا ہے ، مسلمان کی زندگی کا مقصد یہی ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصود یہی تھا ۔
اشفاق احمد القاسمی
مدرسہ معھد الکتاب والسنہ مقام سیھن

کیا ہمارا نصب العین اور طریق کار دین کے تقاضے پورا کررہا ہے؟” ایک تبصرہ

  1. زیبہ گلاب لکھنؤ نے کہا:

    ماشاء اللہ بہت عمدہ اور جامع تحریر ہے

تبصرے بند ہیں