کسی کو ہٹا اور گرا کر ترقی کی راہ مت تلاش کیجئیے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی
مشہور واقعہ ہے کہ کسی زمانے میں ایک بادشاہ نے ایک لکیر کھینچی اور درباریوں سے کہا کہ اس لکیر کو چھوٹی کرکے دکھاو ،تاہم خیال رہے کہ تمہیں اس کے کسی حصہ کو مٹانے کی اجازت نہیں ہے ۔ سارے درباری حیراں اور سرگرداں تھے ،سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر مٹائے بغیر اس لکیر کو کس طرح چھوٹا کیا جائے ۔ سب سکتے میں تھے کہ اتنے میں ایک صاحب آگے بڑھے اور انہوں نے نہایت ہی متانت و سنجیدگی کے ساتھ چاک لے کر اس لکیر کے سامنے ایک اس سے بڑی لکیر کھینچ دی ۔ اب دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ پہلی والی لکیر چھوٹی ہوگئ تھی،جس کے کسی حصہ کو مٹایا نہیں گیا تھا ۔ دربار میں موجود ہر شخص کی آنکھین پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور نعرئہ تحسین و آفریں سے گونج اٹھا، اور ہر شخص اس کی ذہانت و فطانت پر متحیر ہوا ۔

کہنے کو تو یہ واقعہ اور تمثیل ایک عام درجہ کی سی بات ہے لیکن اس کے اندر اور پس پردہ ہر ایک کے لئے اس واقعہ میں جو درس اور عبرت پوشیدہ و پنہا ہے وہ بہت قیمتی اور بیش بہا ہے ۔
اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انفرادی زندگی میں اور اجتماعی زندگی میں بھی فرد کی ترقی کے لئے بھی اور جماعت و ادارہ کی ترقی کے لئے بھی یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی سے آگے بڑھنے کے لیے کسی دوسرے کو مٹانے اور اس کو چھوٹا کرنے کی کوشش کی جائے ۔ بلکہ انسان کو اپنا مقام اپنی راہ اپنا ہدف پانے کے لئے اور اپنی شناخت بنانے کے لئے منزل کو پا لینے پر ساری توجہ مرکوز رکھنی چاہئے ۔ اگر ہم ایسا کر لیں گے تو فریق مخالف اور مد مقابل کو نقصان پہنچائے بغیر ہم اس سے بہت اگے نکل سکتے ہیں ۔ اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہم اپنی ترقی حاصل کرنے اور بلندی پر پہنچنے کے لئے ایک دھن شوق ،لگن اور ایک جذبہ اپنے اندر پیدا کریں ۔

لیکن مشاہدہ یہی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس پر عمل نہیں کرتے ہم میں سے ہر شخص کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہمارے مد مقابل کو نقصان ہو وہ شکست و ریخت کا سامنا کرے اور پھر ہمیں ترقی و بلندی ملے ۔ یہ سوچ کسی کافر منافق اور نام نہاد مسلمان کی تو ہو سکتی ہے ایک مخلص اور سچے پکے مسلمان کی یہ سوچ ، یہ شیوہ اور شعار نہیں ہوسکتا ۔
یونیورسٹیوں، درس گاہوں دینی مدارس و جامعات اور تحریکوں اور اداروں میں عام طور پر ہم لوگ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ لوگ پرموشن کے لئے ترقی اور گریڈ کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے لئے روڑا اور رکاوٹ بن کر اور دوسروں کو شکست دے کر ہی وہ آگے بڑھے اور اس طرح وہ کتنے لوگوں کے دل کو دکھاتے ہیں مظلوم کی آہ لیتے ہیں اور ایسی اوچھی حرکتیں کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ ۔
تئیس سالہ تدریسی خدمات و تجربات کی بناء پر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مدارس اسلامیہ میں اس طرح کی حرکتیں کرنے والے لوگ خود بھی ذھنی تناو اور کشمکش کا شکار رہتے ہیں، خود اپنے لئے بے چینی و بے کلی کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی درد سر بنتے ہیں ۔
اس لئے اوپر جس واقعہ اور تمثیل کا تذکرہ کیا گیا اس سے ہم سب کو اور خاص طور پر دینی مدارس و جامعات کے افراد و ارکان کو ذمہ داران اور اساتذہ و ملازمین کو یہ سبق اور پیغام لینے کی ضرورت ہے کہ ہم خود اپنی محنت اور جدو جہد سے اپنی منزل کو پانے کی کوشش کریں اور کسی بے ساکھی کا سہارا لے کر اور جگاڑ اور داو و پیچ لگا کر ،سیاسی قلابازیاں لگا کر نیز دوسرے کو شکست دے کر اور راہ میں رکاوٹ بن کر اپنی منزل ہرگز تلاش نہ کریں ۔
اس طرح کی حرکت اور کوشش سے اگر کوئ منزل اور عہدہ پاتا بھی ہے تو اسے کبھی سکون اور اطمینان کی زندگی نصیب نہیں ہوتی، سامنے والا مظلوم ہوتا ہے اور اس کی آہ و فغاں اور درد کو اللہ سنتا ہے اس لئے ایسی حرکت کرنے والا جب مظلوم کی آہ لیتا ہے تو وہ دنیا میں بھی ناکام و نامراد ہے اور اپنی اخرت بھی خراب کر بیٹھتا ہے ۔

اس لئے ہمیں مظلوم کی آہ سے بچ کر اپنی منزل تلاش کرنے کی کوشش و فکر کرنی چاہیے، بغیر اس کے کہ ہم اس لکیر سے چھیڑ چھاڑ کریں اس سے بڑی لکیر کھنیچ دیں ۔
اللہ تعالی ہمیں ان حقائق کو سمجھنے کی بھر پور توفیق مرحمت فرمائے آمین