کرناٹک پھر ناٹک دکھائی گی؟

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمداکرم ظفیر 
اقتدار کا نشہ کسی سیاسی جماعت ولیڈران کے اوپر کس قدر سر چڑھ کر بولتا ہے اس کی تازہ مثال حالیہ دنوں دنیا نے کرناٹک میں ہوئے تاریخی ناٹک کو دیکھ لیا۔بی جے پی نے 104 سیٹیں لاکر یقینا تاریخ رقم کی لیکن کانگریس اور جے ڈی ایس کے متحد ہوجانے کے بعد گورنر نے بی جے پی کے یدورپا کو وزیر اعلی کا حلف دلاکر ایک طرح سے جمہوریت پر بڑا ھملہ کیا۔خیر یہ رہا کے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ایک ہی دن میں اسمبلی کے اندر اکثریت ثابت کرنے کو کہا جس میں بی جے پی پوری طرح ناکام رہی اور یدورپا اکثریت ثابت کرنے سے پہلے ہی استعفی دے دیا اور اس طرح ڈرامائی انداز میں 55 گھنٹے کے وزیر اعلی رہے۔کرناٹک کے اس ناٹک سے بی جے پی کو کڑکڑی ضرور ہوئی کہ ملک کا وزیر اعظم ہار گیا یوں ہوں اس لئے کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح کرناٹک انتخاب کی کمان تھامی تھی کے جگہ جگہ جلسہ و ووٹ کے لئے ایک دوسرے پر حملہ اور تو اور آر ایس ایس اور اسکی ذیلی تنظیموں کا نشہ اتر گیا۔

اس بڑے سیاسی ڈرامے کے بعد جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کا کانگریس مکت خواب بس ایک خواب ہی رہ گیا اور کانگریس نے جے ڈی ایس کو اپنی حمایت دے کر بھاجپا کو اقتدار میں آنے سے روک دیا یعنی کانگریس نے اس بار کچھ سمجھ داری دیکھاتے ہوئے قدم بڑھایا اور کامیاب رہا۔

اب جبکہ بدھ کے روز جے ڈی ایس کی جانب سے گوسوامی وزیراعلی کا حلف لینگے۔جس میں راہل گاندھی سے لے کر ممتا بنرجی شریک ہونگی۔

اب دیکھنے کی بات یہ ہیکہ وزارت قلم دان کی تقسیم میں کیا کچھ ہوتا ہے؟بی جے پی اتنی جلدی ہار ماننے کو تیار نہیں وہ اقتدار کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے اس لئے جب تک حلف داری اور وزارت قلم کی تقسیم نہیں ہوجاتی اس وقت تک کرناٹک دوبارہ دنیا کو ناٹک دکھائے گی؟
     مشرقی چمپارن،بہار