کرتی ہے ملوکیت انداز جنوں پیدا

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

سیدہ مہرافشاں
’’جب معاشرہ اپنی حدود سے تجاوز کرجاتا ہے، جب انسان اپنے نفس کے حیوانی تقاضوں کو پوراکرنے کے سوا زندگی کے ہرمقصد اورحقیقت کو فراموش کردیتا ہے، جب اس کے پہلو میں انسان کے دل کے بجائے بھیڑئے کادل آجاتا ہے، جب اس کے جسم میں ایک فرضی معدہ اورنفس امارہ جنم لے لیتا ہے، اوردنیا پر وحشت اور جنون کادورہ پڑتا ہے، تو قدرت خداوندی اس معاشرے کو سزا دینے یا اس کے جنون کے نشے کواتارنے کے لئے نئے نشتر اور نئے نئے جراح پیدا کرتی ہے،
کرتی ہے ملوکیت انداز جنوں پیدا
اللہ کے نشتر ہیں، تیمور ہوں یا چنگیز‘‘
یہ بات مولانا علی میاں ندوی ؒ نے فرمائی ہے جن کی قوموں کے عروج اور زوال پر اور تہذیبوں کی تاریخ پر گہری نظر تھی۔موجودہ حالات پر نظرڈالیں تو صاف نظرآتا ہے کہ معاشرہ ایسی ہی صورت سے گزررہا ہے۔قدرتی آفتیں تو سیلاب، طوفان، اوردوسری صورتوں میں آتی ہیں، وہ تواپنی جگہ لیکن خود انسانوں کی لائی ہوئی تباہی بھی ہرطرف نظرآرتی ہے ۔دنیا کا کوئی کمزور اور مظلوم ملک اور قوہم ہو یا طاقتورملک، تباہی ،بربادی ، آتش زدگی اور خون خرابے سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔

ظلم تاریخ کے ہردورمیں ہواہے۔البتہ اس کی صورت بدلتی رہتی ہے۔بہانے بدلتے رہتے ہیں، کردار بدلتے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم اوربربریت جب بھی حد سے گزری تواللہ کاعذاب نازل ہوا ہے۔ بستیاں تباہ ہوئی ہیں، بادشاہتیں فنا ہوئی ہیں اورجو زمین پراکڑ کر چلتے تھے ان کوکوئی پوچھنے والا نہیں رہا۔ ان کے جنازہ کو اٹھانے والا کوئی نہیں رہا۔ لیکن پھر بھی انسان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔
ہمارے ملک میں بھی کچھ نادان لوگ ظلم کی ایسی ہی کہانی لکھنا چاہتے ہیں۔ چند ماہ قبل آصفہ پروحشیانہ ظلم اوراس کی المناک ہلاکت نے ہرباضمیرانسان کوہلا کر رکھ دیا۔جن میں انسانیت تھی ان کے دل تڑپ اٹھے۔ لیکن اس قہراورظلم کی دھرم کے نام پرتائید کرنے والوں نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ نہ دھرم سے واقف ہیں اورنہ انسانیت ان میں ہے۔ ان کے سینوں میں انسان کا نہیں کسی بھیڑئے کا دل ہے۔ معصوم آصفہ کوتو ایک ہفتہ تڑپا تڑپا تڑپا کرظالموں نے ماردیا اوران کے دل میں زرہ بھر بھی اس کا ملال نہیں۔لیکن ایک گنگ کھڑا ہوگیا ہے جو اس ظلم اوربربریت کو بھی ٹھیک ٹھہرارہا ہے اور اس کو مذہبی رنگ دے رہا ہے۔ہزارطرح کے جھوٹ پھیلائے جارہے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کومعلوم نہیں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور معلوم نہیں کہ کس کو کب اورکہاں پکڑلے۔
آصفہ تواپنے خاندان کو ہی نہیں، ہزاروں لاکھوں انسانوں کے دلوں کو روتاہوا چھوڑ کر چلی گئی۔یہ خداکی قدرت ہے کہ اس کا غم کرنے والا کنبہ اتنا بڑا ہوگیا اور اس میں ہردھرم، ذات اورعلاقے کے لوگ شامل ہوگئے ۔ اسی کوہندودھرم گرنتھوں میں ’وسودیو کٹمب کم‘ یعنی پوری دنیا ایک کنبہ ہے، کہا ہے۔ قرآن نے ’الخلق عیال اللہ‘ یعنی ساری دنیا اللہ کا کنبہ ہے، کہا ہے۔ ہردل سے یہی دعا نکل رہی ہے اب کوئی بیٹی آصفہ جیسی موت نہ مرے۔ اب کسی کے سامنے ان کی بیٹی کا جنازہ اس حالت میں نہ آئے۔ بیٹی کو دلھن بناکرڈولی میں رخصت کرنے کا ارمان ہرماں باپ کے دل میں ہوتا ہے۔ اللہ کرے اب کسی کے خواب ایسے چکنا چور نہ ہو جیسے آصفہ کے والدین کے ہوئے۔اللہ ان کو صبرجمیل عطا کرے۔ ان اللہ مع الصابرین۔اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔

دعا ہے کہ آصفہ کی المناک موت رائیگاں نہ جائے۔جن کے دل سخت ہوگئے ہیں ان کو بھی شرافت اورانسانیت کا نیا پیغام ملے۔سماج کے بے حس لوگوں کی آنکھیں کھلیں۔جس حکومت نے ایسے مظالم پر آنکھیں بند کررکھی ہیں، جن پر انسانیت کی ساری حدیں ختم ہوجاتی ہیں، اس کوبھی عقل آئے۔ دنیا کا کوئی مذہب کوئی قانون اس طرح کی بربریت کی تائید نہیں کرتا۔ ایسے گھناؤنے کام کرنے والوں کا کوئی دین دھرم نہیں ہوتا۔یہ انسان نہیں۔اپنی صفت سے بھیڑیوں سے بھی زیادہ بد ترہیں۔ بیشک سماج میں انسانوں کی شکل میں رہتے ہیں۔
جو خطاکار ہیں ان کو سزا ضرور ملے۔ مگرایسے جرم کیلئے پھانسی کی سزاکافی نہیں۔ وہ لمبی عمرجئیں اوراس حال میں جئیں کہ ہرلمحہ اپنے کالے کرتوت پرپچھتاتے رہیں۔ انہوں نے انسانیت کا ہی خون نہیں کیا بلکہ اس دھارمک مقام کوبھی داغدار کیا جہاں عقیدت مند آکر پوجا پاٹھ کرتے ہیں۔ان کو ایسی سخت سزاہونی چاہئے کہ موت کو ترسیں اورزندگی سے عاجز آجائیں اوراپنے اگلوں کیلئے ایسی نشانی بن جائیں کہ پھرکوئی کسی کی اس طرح زندگی نہ لے۔ ظلم کی سزا اسی وقت اہمیت رکھتی ہے جب انصاف جلدی ہو۔ایسا نہ ہوکہ انصاف کیلئے لڑنے والے لڑتے لڑتے خود ہی ختم ہوجائیں یا لوگ بھول جائیں کہ کب کوئی جرم ہوا تھا۔کاش ہماراسماج نربھیاکو نہ بھولتا اوراس سے ایسا سبق لیتا کہ کٹھوعہ، اناؤ، گجرات، ہریانہ اورآسام میں ایسے کیس نہ دوہرائے جاتے۔ایسے کیس توروز ہورہے ہیں۔

چند دنوں کیلئے احتجاج، کینڈل مارچ، شورشرابے کے بعد خاموشی، سب باری باری چلتا ہے، پھر وقت کی دھول یادداشت پر پڑجاتی ہے۔ اورپھر کوئی نیا مجرم نئے جرم کے ساتھ سامنے آجاتا ہے۔ گجرات کے سنہ 2002 کے ظلم کی پرچھائیاں ابھی تک کم نہیں ہوئی ہیں۔وہاں جن پر ظلم ہوا، ان کو انصاف نہیں ملا۔ 1984 میں سکھ دشمن فساد کی آگ بھی رہ رہ کردھواں دیتی رہتی ہے۔ ان دونوں موقعوں پروہ ظلم ہوا کہ عورتوں، بچوں اوربڑے بوڑھوں تک کو نہیں بخشا گیا، ان کے خون کی ہولی کھیلی گئی۔ کونسا ظلم ایسا تھا جو نہ کیا گیا ہو۔ فسادیوں اور مجرموں کو اتنے بڑے جرم کی کتنی سزاملی ، یہ سب جانتے ہیں۔ روز نئے ظلم ہوتے ہیں اورپرانوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔کیونکہ بھولنا انسان کی فطرت ہے۔ رہا ہندو مسلم کا سوال تو یہ عوام میں پھوٹ ڈالنے اور نفرت پھیلانے کی سیاست ہے۔ ہندومسلم کی سیاست کرنے والے کسی کے مرنے کا اورکسی کی آبرو جانے کا غم نہیں سمجھتے ۔ لیکن ایسے لوگ چند ہیں۔ہرمذہب اورقوم میں اچھے اورنیک لوگ زیادہ ہیں جو برے کو برا اورظلم کو ظلم کہتے ہیں لیکن ان کی آواز دبی رہ جاتی ہے۔آصفہ کے کیس میںآواز اٹھی، تواس کااثر بھی ہوا۔بہت سے لوگ اپنے منصب کا صحیح استعمال نہیں کرتے، مگرسب ایسے نہیں ہیں۔عوام انصاف کیلئے اپنی آواز بھی بلند کرتے ہیں، اس میں اورزورلانا وقت کا تقاضا ہے۔بہت سے نیک دل ظلم کی داستاں سے تڑپ اٹھتے ہیں اورمظلوموں سے ہمدردی کرتے ہیں ۔ اس کے باوجوددنیا کا کونسا کونا بچا ہوا ہے، جہاں بے قصورانسانوں، عورتوں اورمعصوم بچوں پرظلم اورستم نہیں کیا جارہا ہے۔ اس ظلم کے خاص طور سے مسلمان شکار بنتے ہیں، حالانکہ بہت سے توصرف نام کے مسلمان ہیں اوربیچارے مسلمان ہونے کا مطلب تک نہیں جانتے، وہ بھی پس رہے ہیں ۔ دنیا کی زمین ان کیلئے تنگ کی جارہی ہے۔ ان کو اپنے گھروں سے اجاڑا جارہا ہے اورصدیوں سے بسے بسائے لوگ اب رفیوجی بنے پھرتے ہیں اوراپنے ہی وطن میں ان کو سرچھپانے کی جگہ نہیں ملتی۔
خون سے لتھڑے ہوئے جسم سڑکوں پر بکھرے پڑے ہیں۔ زندہ توزندہ، مرکر بھی دوگززمین نہیں مل رہی۔ غورکرنا ہوگا کہ یہ ہماری بداعمالیوں کے سبب تو نہیں؟دن کے 24گھنٹے میں ہم اپنے رب کی کتنی نافرمانیاں کرتے ہیں اورکتنا اپنے محبوب رسول ﷺکی سنتوں پر عمل کرتے ہیں۔جس چیز سے ہم تھوڑی بھی محبت کرتے ہیں اس کے لئے ہم کتنی قربانیاں دینے کو آمادہ رہتے ہیں۔ اسے زرا سی بھی تکلیف پہنچتی ہے توہم بے چین ہوجاتے ہیں۔ درد اوسسکیاں جینے نہیں دیتیں۔ لیکن فرض عبادتیں اوررسول ﷺ کی سنتیں چھوڑ کر دلوں میں تکلیف پیدا کیوں نہیں ہوتی؟ سوچئے اورغورکیجئے کہ جب اعمال ایسے ہیں تو ہم اپنے کو عاشق رسول میں کس طرح سمجھتے ہیں۔ صرف نام سے مسلمان یاایک ایسا مومن بندہ جو اللہ اوررسول کی ہدایتوں پر چلے ؟
سیدہ مہرافشاں