35

کاش یہ وسعت ظرفی ہمارے اندر بھی پیدا ہوجائے ؟

اخلاق اور سیرت و کردار کی تعمیر اور شخصیت سازی میں سیرت و سوانح اور شخصیات کا مطالعہ بہت ہی مفید اور موثر ہوتا ہے ۔ اسی لئے علماء کرام اور اہل اللہ قرآن و حدیث اور علوم شرعیہ کے بعد سب سے زیادہ زور سیرت و سوانح کے مطالعے پر دیتے ہیں، الحمدللہ راقم السطور کو بھی اس موضوع اور فن سے عشق کی حد تک دلچسپی ہے ۔ جب بھی میری طبیعت بجھی بجھی رہتی ہے یا ذہنی طور پر کبھی ڈسٹرب اور منتشر رہتا ہوں تو بطور خاص تین کام ضرور کرتا ہوں یا اس میں پہلے سے کچھ اضافہ کردیتا ہوں، پہلی چیز تلاوت قرآن، دوسری چیز درود شریف کی کثرت اور تیسری چیز سیرت و سوانح اور شخصیات سے متعلق کتابوں کا مطالعہ ۔
اکابر کی خدمات اور ان کی حالات زندگی کا مطالعہ میرا محبوب اور پسندیدہ مشغلہ ہے،اس میں جی اور طبعیت خوب لگتی ہے اور ذہنی سکون و اطمینان بھی ملتا ہے ،یقین نہ ہو اس نسخہ کو ضرور آزمائیے ۔
آج طبعیت کچھ اچاٹ اچاٹ اور بجھی بجھی سی تھی مغرب کی نماز کے بعد اپنی ہی مرتب کردہ کتاب انسانی *عظمت کے تابندہ نقوش* مطالعہ کرنے لگا حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کی وسعت ظرفی کا ایک واقعہ مشہور ادیب ،مفسر قرآن اور انشاء پرداز مولانا عبد الماجد دریا آبادی کی زبانی پڑھا جی میں آیا کہ ہم جیسے ناکارئہ علم و عمل کے لئے اس میں بہت کچھ پیغام ہے ،اور آج کے موجودہ حالات میں اس وسعت ظرفی اور اعلی سیرت و کردار کی خاص ضرورت ہے کیوں نہ اپنے قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کردوں ۔ اور اگر اس پر کسی ایک فرد نے بھی عمل کرلیا تو عند اللہ اجر و ثواب کا حق دار بھی بن جاؤں گا اگر اللہ نے چاہا ۔
مولانا عبد الماجد دریا آبادی رح اپنی مشہور و معروف تصنیف (جو اپنے رنگ و آہنگ کے اعتبار سے اور نقوش و تاثرات کی حیثیت سے ایک منفرد اور شہرئہ آفاق کتاب ہے) *حکیم الامت* میں تحریر فرماتے ہیں :
۳۱ء اب ختم ہو رہا تھا،لیکن ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اپنے ایک عزیز دوست ،اور محترم کرما فرما اور نامور ہم نام کی وفات کی خبر گویا اچانک ملی، مولانا عبد الماجد قادری، بدایوں کے مشہور قدیم خاندان علماء و مشائخ کے ایک فرد تھے،خود بھی عالم ،تحریک خلافت کے برجوش کارکن،جمعیت علماء کے ممتاز رکن اور بڑے ہی خوش تقریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عقائد میں بڑے زبردست قادری،اور ذرا غالی قسم کے صوفی تھے ۔ حضرت مولانا تھانوی کی طرف سے قدرتا دل صاف نہ تھا ،دوران گفتگو میں ناملائم الفاظ زبان پر آجائے ناگزیر (ضروری ) تھے ۔ وفات کی خبر سنتے ہی ذہن ادھر منتقل ہوا کہ دعاء مغفرت حضرت سے کرانی چاہئے ،بے تکلف ایک عریضہ اس مضمون کا لکھ بھیجا ۔ یہ رنگ بھی مولانا کا،اگر آپ نے نہ دیکھا تو گویا مولانا کو دیکھا ہی نہیں ۔ دیکھئے ایک عمر بھر کے مخالف کا ذکر کس انداز سے کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
*میں کل کے خط کا جواب لکھ کر روانہ کرچکا ہوں کہ دوسرا کارڈ آیا،جس سے ایک محب اسلام و اہل اسلام کا مفارقت ناسوتی کا علم ہوکر قلق ہوا ،رائے کا اختلاف میری نظر میں کچھ زیادہ وزنی نہیں ہے ۔ اصول اور نیت پر نظر رہنی ہے ،سو مرحوم کے متعلق اس کے خلاف کوئ بات نہیں سنی گئ،اس لئے خاص تعلق ہے، اللہ تعالی ان کے ساتھ مغرفت کا معاملہ فرماویں اور امت کو ان کا نعم البدل عطا فرماویں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو معلوم ہے کہ میرے قلب میں بحمد للہ تعالی کسی کی طرف سے غل نہیں ہے اور ایسی گفت و شنید میں میرا عقیدہ یہ ہے کہ ان کو گناہ بھی نہ ہوتا تھا،کیونکہ وہ روایات کے تحت معذور ہیں ،اس لئے معافی کی حاجت بھی نہیں، لیکن اس سے آپ کی طبیعت خوش نہ ہوگی ،اس لئے آپ کے مذاق کا اتباع کرکے صریح الفاظ میں دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میں نے سب کچھ ان کو معاف کیا ،آپ بھی معاف فرمائیں ۔ اور ان کو تو ایک خاص امتیاز تھا کہ وہ بدایوں کے متوطن تھے، جو ہمارے شیخ المشائخ حضرت سلطان جی کا۔ اہل بدایوں کے لئے یہ سمجھ کہ ایسے امور کو گوارا کرتا ہوں کہ بدا،یوں،ہی تھا* (انسانی عظمت کے تابندہ نقوش مرتبہ راقم الحروف بحوالہ حکیم الامت صفحہ ۲۲)
محترم قارئین باتمکین!
اس واقعہ میں ہم سب کی نصیحت اور عبرت کے لئے بہت کچھ چیزیں پنہاں اور پوشیدہ ہیں، شرط یہ ہے کہ ہم ان تحریروں اور کتابوں کو، اور ان واقعات و حکایات کو اپنی اصلاح کی غرض سے پڑھیں ۔ الحمد للہ اکثر لوگ اسی جذبے سے پڑھتے اور مطالعہ کرتے ہیں لیکن ایک طبقہ اور جماعت وہ ہے جو اپنی اصلاح اور اور فائدے کے لئے کم نقد و تبصرہ اور قیل وقال کے لئے زیادہ پڑھتی ہے، یہ سوچ منفی ہے ۔ مثلا اسی واقعہ کو جو اوپر ہم نے بیان کیا اب اگر کوئ اس کو پڑھنے کے بعد سب سے پہلے یہ فکر کرے کہ اس واقعہ کو کنڈم اور بے حیثیت کیسے ثابت کیا جائے اور اسی میں پوری طاقت و انرجی صرف کردے تو یہ سوچ بہتر نہیں ہے ۔ ہاں لکھنے والے کی بھی ذمہ داری ہے کہ کسی واقعہ کو بغیر حوالہ اور ریفرنس اور ثبوت کے قطعا تحریر نہ کرے اور مبالغہ آمیزی سے کلی طور پر پرہیز اور اجتناب کرے ورنہ ایک تماشہ اور معمہ بن جاتا ہے اور عبرت و نصیحت کے بجائے ایک لطیفہ اور کھیل اور ہنسی کی محفل بن جاتی ہے ۔
اس واقعہ کو ہم سب غور و فکر اور تدبر کے ساتھ پڑھیں اور اپنے اندر بھی ایسی ہی وسعت ظرفی پیدا کریں اسلاف کے اس طرح کے واقعات ہمیں بہت کچھ مہمیز لگانے کے لئے کافی ہیں بس شرط ہے کہ اسی نیت اور جذبہ سے پڑھیں ۔
*نوٹ کی بورڈ کی خرابی کی وجہ سے بعض املائ غلطی کا امکان ہے ۔ اس کے لئے پیشگی معذرت ہے ۔*

محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں