کائناتی نظام میں کوئی رعایت نہیں

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

از:محمدصابرحسین ندوی ایم پی
حقیقت یہ ہے کہ کائناتی نظام و قانون میں کسی کی کوئی رعایت نہیں،اس میں موجود ہر چیز اپنے خاصہ کے ساتھ خاص ہے،اس کے سامنے اولی وادنی،معروف وغیر معروف اور صاحب وجاہت یا کم وجیہ شخصیت،نیز شاہ وگدا اور فقیر و بادشاہ میں کوئی رو و گنجائش نہیں ہے،تلوار کو صرف کاٹنا آتا یے،اسے اس سے کوئی سروکار نہیں؛ کہ اس کی تیزی اور دھار تلے کس کا سر ہے،وہ کس فرقہ یا کس مذہب کا پیرو کار یے،طوفان کے آگے ہر شئی تنکے کی طرح بہہ کر رہے گی،سیلاب کی سر کشی؛ بلا کسی تمیز کے ہر کسی کو غرق کرکے رہے گی،ندیاں اور جھرنوں کی خو ش رنگیاں اگر ہر نظر کو خیرہ کرنے کیلئے ہے؛تو وہیں اس کا ہر قطرہ پیاسوں کی پیاس بجھانے اور سوکھے حلق کو ٹھنڈک پہونچائے گی،سورج کی تپش میں کوئی  خاص حصہ کا مالک نہیں،بارش کا ہر ابر باراں ہے،اور اگر وہ “آیات من آیات اللہ” ہے، تو اس سے کسی کو مفر نہیں، یہاں اقل قلیل یا اکثر کثیر کا کوئی رتبہ نہیں،مومن یا کافر کے نام پر کوئی تقسیم نہیں،سبزہ  ہراس شخص کیلئے ہے، جو اس کے ضابطہ کا پاس رکھے،اور خشک سالی کی ہلاکت بھی کسی کا پتہ نہیں پوچھتی۔*
   غور و تدبر میں اگرچہ دوچند مثالیں ایسی مل جاتی ہیں؛ جو خارق عادت اور معجزات سے تعبیر ہوتی ہیں، ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا، اسماعیل علیہ السلام پر چھری نے اپنی صلاحیت کھودی،موسی کو سمندر نے راستہ دے دیا؛ لیکن یہ واقعات کتنے ہیں،اگر ہیں تو ان کی اصل حیثیت کیا گم ہوگئی! نہیں یہ خارق عادت اور قدرت الہی کا تماشہ ہے، اسے حقیقی کائناتی نظام سے مربوط کرنا مناسب نہیں، اور اسی کو ہر کسی کے سامنے بیان کرتے ہوئے مسلمات پر قدغن لگانا، یا ذہنی آزمائش مین مبتلا ہونا اچھی بات نہیں،اگر کہیں ایسا ہوتا ہے؛ کہ کسی نے تلوار پر اپنی گردن پھیر لی، یا کسی جھلستی آگ میں خود کو ڈال دیا اور ابراہیم کا سا نظارہ کرنا چاہتا ہے،بنا برین اس کی جان جان آفریں کے سپر ہوجاتی ہے، اور وہ راہی ملک ہوجاتا ہے، تو احباب حل وعقد جانتے ہیں؛ کہ وہ خود کشی کا مرتکب ہو کر عند اللہ اس کی وعیدوں کا سزاوار ہوگا،اللہ تبارک وتعالى صاف کہہ دیا ہے: “لا تلقوا أيديكم الي التهلكة”.
     *حضرت مولانا عبد الماجد دریابادی جیسے وقت کے عظیم انشاء پرداز،مصلح اور دین شناس و فلسفی نے بھی اس فلسفے پر اپنی شہرہ آفاق کتاب اور سرگزشت “آپ بیتی”میں یوں روشنی ڈالی ہے”•••کائنات عنصری کی ایک عظیم الشان وعظیم القدر کارگاہ میں خالق کائنات نے اپنے قانون میں مروت ورعایت کسی کی بھی نہیں رکھی یے، اپنے بھیجے اور اترے ہوئے دین تک کی نہیں،! اپنی مسجدوں، اپنے قرآن،اپنے کعبہ،اپنے رسول تک کی نہیں، تلوار میں جو کاٹ رکھ دی ہے،وہ اپنا جوہر آپ ہی کو دکھائے گی،چاہے اس کے سامنے مصحف اقدس کے اوراق آجائیں،چاہے مسجد کے محراب وممبر،چاہے کعبہ کے دیوار ودر اور چاہے کسی ولی وصدیق کا جسد اور چاہے کسی نبی مکرم کا جسم اطہر!*
پیش ایں فولاد بے اسپر میا
کزبریدن،تیغ را نبود حیا!”     (آپ بیتی:۱۹۷)

✍ *محمد صابرحسین ندوی،ایم پی*