ڈاکٹر غلام جیلانی برق ، مکروفریب اور دھوکے بازی کا واضح نمونہ ہیں

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

از شکیل احمد اعظمی بحرین

آج صبح پہلے عالمی ابنائے ندوہ فورم میں جناب بہاء الدین ندوی صاحب نے اور پھر دس منٹ کے بعد INF میں جناب عبد الرزاق ندوی صاحب نے ” دو اسلام ” کے عنوان سے جناب غلام جیلانی برق صاحب کی ایک تحریر پوسٹ کی جس سے جیلانی صاحب کی تقدیس و تمجید چھلکتی ہے اور پوسٹ کرنے والے موقر ندوی حضرات ان کی عبقریت اور جہبذیت سے متاثر و مرعوب بھی نظر آتے ہیں ۔ مجھے فورا احساس ہوا کہ یہ حضرات شاید جناب غلام جیلانی برق صاحب سے واقف نہیں ہیں ۔مجھے افسوس ہوا کہ کہاں تو ہمارے ندوی حضرات استشراق اور مستشرقین کی بات کرتے ہیں اور ان سے علمی و موضوعی مباحثہ و جدال کے لئے دم خم کا اظہار کرتے ہیں اور کہاں تکلیف دہ صورتحال یہ ہے کہ اپنی ہی صفوں میں موجود مستشرقین یا ان کے گماشتوں اور پیروکاروں سے بے خبر ہیں ۔میں نے عزم کیا کہ ایک مختصر نوٹ لکھ کر فورم میں پوسٹ کروں مگر آفس کے اوقات میں فرصت نہ مل سکی اور شام کے وقت بھی مشغول تھا ایک جگہ افطار پارٹی میں مدعو تھا مولویانہ وعظ بھی کرنا تھا اسی اثناء میں دیکھا کہ ہمارے انتہائی موقر سینئر ندوی مولانا اقبال مسعود صاحب مقیم کناڈا نے ایک مختصر مگر مفید نوٹ پوسٹ کیا ہے ۔مولانا سے گفتگو کی خواہش عرصہ سے تھی مگر آج جاکر پہلی مرتبہ ان سے فون پر گفتگو کی سعادت حاصل ہوئی اور ہم نے باہم تبادلہ خیال کیا اور میں نے شکریہ کے اظہار کے ساتھ عرض کیا کہ میں بھی رات میں تراویح سے فارغ ہونے کے بعد کچھ لکھوں گا ۔
آج جناب جیلانی برق صاحب کی تحریر پڑھنے کے بعد ایک بہت پرانی یاد تازہ ہو گئی ۔ میں 1977 کے پہلے ہفتے میں جب بحرین پہنچا تو اس وقت ہندوستان و پاکستان سے روزانہ نئے نئے مزدور و کاریگر اور ماہر پیشہ ور بحرین پہنچ رہے تھے ۔اعظم گڑھ کے بھی اچھے خاصے لوگ پہلے سے موجود تھے اور چند مخصوص جگہوں پر جمعہ کے روز لوگ جمع ہوتے اور ایک دوسرے سے ملتے اور متعارف ہوتے ۔اکثر بلکہ تمام لوگ اس زمانے میں بیچلرز تھے صرف ایک صاحب فیملی والے تھے ،زیادہ نہیں بس تھوڑے پڑھے لکھے تھے ایک بڑے گراج کے ذمہ دار تھے تو ان کو اعظمی برادری میں کچھ تفوق و برتری کا احساس تھا ۔اکثر اعظمیوں کے جمگھٹے میں غیر ضروری طور پر ” عالمانہ اور دانشورانہ گفتگو ” چھیڑ دیتے اور کہتے کہ ” قرآن تو ٹھیک ہے مگر حدیث پر دل جمتا نہیں ہے اور بخاری کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے بہت ساری احادیث کھٹکتی ہیں ۔ہمارے لوگ بیچارے ان کی آئے دن کی دانشوری سے پریشان تھے اسی دوران راقم السطور خاکسار بحرین پہنچا اور ایک دو مرتبہ جناب کی دانشورانہ گفتگو سننے کی سعادت حاصل ہوئی ۔میں چونکہ ان سے بہت چھوٹا اور بالکل تازہ دم محض عالمیت تک کا ندوی تھا اس لئے جواب دیتے ہوئے قدرے جھجک ہوتی تھی حالانکہ میں ان کے حدود اربعہ کو اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ محض تصنع اور تکلف یا بناوٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں، بخاری کو پڑھنا تو دور کی بات ہے انہوں نے اسے چھوا بھی نہیں ہے ۔ایک روز وہ کچھ ضرورت سے زیادہ ڈھٹائی پر اتر آئے تو میں نے کہا کہ بخاری کی کس کس حدیث پر آپ کو اعتراض یا اشکال ہے تو ٹال مٹول کرنے لگے اور کہا کہ کسی دن گھر پر آئیں گے تو دکھاؤں گا ۔میں نے کہا وقار بھائی( ان کا نام وقار اعظمی تھا ) تکلف چھوڑئے یہ بتائیے کہ آپ ” دو اسلام ” پڑھ کر سارے اشکالات اور اعتراضات کر ریے ہیں کیا؟ کیونکہ آپ کو عربی آتی نہیں اور معاف کیجئے کہ آپ یہاں لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ آپ بڑے عالم اور دانشور ہیں جبکہ آپ کچھ بھی نہیں ہیں ۔۔ ان کا چہرہ فق ہو گیا گھبرا کر کہا کہ نہیں میں تو جانتا بھی نہیں اس کتاب کو ۔بات وہیں ختم ہو گئی ۔ایک دو ماہ کے بعد عید تھی ہم کئی لوگ ساتھ میں ان کے یہاں سویاں کھانے پہنچے تو دیکھا کہ ایک جگہ چند کتابیں رکھی ہوئی ہیں ۔وقار صاحب جیسے مجلس سے اندر گئے تو میں تیزی سے کتابوں کی طرف لپکا اور پھر پایا کہ حضرت غلام جیلانی برق صاحب کی دو اسلام وہاں موجود تھی۔
ہمارے رفقاء جنہوں نے برق صاحب کا تعارف نامہ پوسٹ کیا ہے میں انہیں بتانا چاہوں گا کہ رواق شبلی کی الاصلاح لائبریری میں ہمارے وقت غلام جیلانی برق صاحب کی دو اسلام اور دو قرآن موجود تھی اور میں نے ان کا مکمل مطالعہ کیا تھا اور وہیں سے معلوم ہوا کہ جناب جیلانی صاحب کٹر منکر حدیث ہیں ۔بعد میں جب مطالعہ میں مزید وسعت آئی تو غلام احمد پرویز صاحب سے بھی تعارف ہوا ۔پاکستان میں منکرین حدیث کا حملہ اتنا زوردار اور شدید تھا کہ علماء بوکھلا گئے اور ان کا جواب دینا مشکل ہو رہا تھا مگر اللہ تعالی نے فتنہ پرویزیت اور انکار حدیث کی سرکوبی کے لئے عالم جلیل مولانا سید ابو الاعلی مودودی رح کو کھڑا کیا اور مولانا نے دفاع حدیث میں معرکہ آرا کتاب ” سنت کی آئینی حیثیت ” لکھی جس نے فتنہ انکار حدیث کے تار پود بکھیر کر رکھ دئے ۔مولانا نے اپنی کتاب ” رسائل