چکن گنیا اورڈینگوکا آزمودہ علاج طب یونانی میں ہے!

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

حکیم نازش احتشام اعظمی
یقینی طور پر یہ امر نظام فطرت کی کرشمہ سازی ہے کہ ہر بدلتے موسموں کے دوران فلواوراس قبیل کی دوسری بیماریاں حضرت انسان کواپنا نشانہ ضرور بنا تی ہیں۔لہذا نظام فطرت کے مطابق بدلتے ہوئے موسم میں نزلہ زکام ،کھانسی اوربخار جیسی عام بیماریاں بڑی تیزی سے حملہ آور ہوتی ہیں۔یہ بھی طبی نظام کا ہی حصہ ہے کہ موسمکے تغیر کے وقت پیدا ہونے والے عوارض اگرچہ معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں۔مگراس کی مضرت رسانی کا سب سے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہے کہ یہی معمولی نزلہ ،زکام ،کھانسی اور بخار مریض کوحیرت انگیز حدتک کمزور کردیتے ہیں۔موسم کی تبدیلی کے وقت جسم کے اندر پیدا ہونے والی تکالیف عام کمزوریوں کے ساتھ ہماری جسمانی قوت دفاع Defensive power of the bodyیعنی(جسم کے اندر موجود مرض سے لڑنے کی صلاحیت) کوکبھی کبھی بالکل ناکارہ بنادیتی ہیں اور اسی کمزور کی حالت میں ملیریا،ڈینگو،چکن گنیا یاسوائن فلو(خنزیری بخار) کے جراثیم مچھر کے کاٹنے یا کسی دوسرے ذرائع سے جسم کے اندر داخل ہوجائیں تو دوچار دن میں ہی سنگین صورت اختیار کرلیتے ہیں،جس سے بسااوقات قیمتی جانیں موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں۔اگر چہ جدید میڈیکل سائنس ملیریا اور اس قبیل کی دوسری بیماریوں کیلئے مچھر کو قصوروار ٹھہراتے ہیں جو واقعاتی طورپر بالکل درست ہے۔مگر ملیریا ،ڈینگو یا چکن گنیا کے مہلک روپ دھار لینے کی اہم وجہ یہی ہے کہ موسم کی تبدیلی کے نتیجے میں رونما ہونے والے معمولی کے عوارض ہمیں پہلے سے ہی کمزور کرچکے ہوتے ہیں،لہذامہلک بخاروں کیلئے قصور وار مچھر کے کاٹتے ہی ہماری حالت تشویشناک بن جاتی ہے۔لہذا حفظ ماتقدم کے طور پر ضروری ہے کہ موسمی تبدیلی کے وقت ہمیں اپنے خوردونوش اور بودو باش پر پوری توجہ دینی چاہئے۔خاص طور پر یہ کوشش کرنی ازحد ضروری ہے کہ نزلہ زکام سے ہم بچے ر ہیں۔اس کیلئے کسی بڑے اوراسپیشلسٹ ڈاکٹر کی ظالم جیبوں میں اپنی گاڑھی کمائی ٹھونسنے کی ضرورت نہیں ہے۔البتہ اگر آپ کو پیسہ برداشت نہیں ہورہا ہے تو اللہ کے نام پر ضرورتمندوں کے درمیان تقسیم کرکے اپنی آخرت کے بنک میں جمع کرادیجئے۔فلو ،نزلہ زکام جیسی تکالیف سے بچنے کیلئے ہمیں قدرت کے ذریعہ پیداکی گئی جڑی بوٹیوں اورسبزی ترکاریوں کا استعمال خاص طور پر بڑھا دینا چاہئے اورادرک،گڑکے علاوہ جوشاندہ وغیرہ کااستعمال ہمارے جسم کو اندرسے توانااورنزلوں سے محفوظ رکھتا ہے۔بخار اپنے آپ میں کوئی بڑی تکلیف دہ چیز نہیں ہے ،شیخ الرئیس بوعلی سینا اپنی کتاب القانون میں لکھتے ہیں کہ بخار ایک عارضی حرارت کانام ہے جو پہلے قلب میں بھرتی ہے اور قلب سے روح و خون اور شرا ئین کے ذریعے تمام بدن میں پھیل جاتی ہے۔ جس سے یہ حرارت تمام بدن میں اس طرح بھڑک اٹھتی ہے کہ بدن میں ضرر پیدا ہو جاتا ہے۔قانون کے مطابق ڈپریشن ، غصہ اور تکان کی حرارت اس درجہ تک نہ پہنچنے پائے کہ طبعی افعال بدن مین خلل پیدا کردیں۔شیخ الرئیس کے اس قول پر کہ بخار ایک عارضی حرارت ہے علامہ نفیسی اس طرح تشریح کرتے ہیں یہ حرارت عارضی اس لحاظ سے ہوتی ہے کہ نہ تو یہ بدن کے بنانے میں داخل ہے اور نہ یہ بدنی ماہیت کا جزو ہے۔ بلکہ یہ بدن میں فضلات و مواد کے اکٹھا ہونے کے وقت پیدا ہو تی ہے۔ کیونکہ فضلات جب اکٹھا ہو جاتے ہیں تو ان میں فطرتی طور پر حرارت پیدا ہو جاتی ہے اور فضلات گندے اور متعفن ہو جاتے ہیں۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ ہم بیرونی فضلات میں بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔بخار کو عارضی حرارت کہنے سے بدن کی اصلی حرارت اس سے الگ ہو جاتی ہے کیونکہ اصلی حرارت بدن کے بنانے میں داخل ہے اور بدن کا ایک حصہ اور جزو ہے۔جب تک بدن قائم رہتاہے یہ حرارت بھی بدن کے اندر موجود رہتی ہے۔یہ حرارت انسانی بدن سے بحالتِ صحت اور مرنے کے بعد جب تک بدن قائم رہتاہے الگ نہیں ہوتی۔شیخ کی تشریح کے مطابق بخار خود کوئی بیماری نہیں، بلکہ یہ دوسری بیماریوں کی علامت ہے۔ اگر یہ بخار ڈینگو یا چکن گنیا وغیرہ کی علامات ظاہر کررہا ہے تو ہمیں اس بات پر خاص توجہ دینی چاہئے کہ کسی بھی حال مریض لاغری اور کمزور کی چپیٹ میں نہ آنے پائے۔
ماہرین کے مطابق بخار انفیکشن کیخلاف جسم کا فطری دفاع ہے۔ انفیکشن کے علاوہ بخار کی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔یہاں میں اس بات کوپھر دہرانا چاہوں گا کہ بخار اپنے آپ میں کوئی زیادہ مہلک عارضہ نہیں ہے، بلکہ بخار کی حالت میں پیدا ہونے والاضعف ہمیں تشویش لاحق کردیتا ہے۔
صحت کی حالت میں ایک جوان وتندرست آدمی کی حرارت اگر تھرمامیٹر سے معلوم کریں تو 98.4 سے 97.4 فارن ہائیٹ تک ہوتی ہے 97 سے کم اور 99 درجے سے زیادہ حرارت صحت نہیں ہوتی۔
حا لتِ بخار میں حرارتِ جسم بہت بڑھ جایا کرتی ہے۔ 101درجے پر خفیف بخار ہوتا ہے۔ 102 اور 103 درجے پر معمولی بخار ہوتاہے ،104 اور 105 درجے پر شدید بخار ہوتا ہے۔ اگر مریض کا درجہ حرارت 110 یا 112 درجے تک پہنچ جائے تو اسے قریب المرگ سمجھنا چاہئے۔جب 97 درجے سے حرارتِ جسم کم ہو تو یہ ضعف کی دلیل ہے۔ اگر حرارتِ جسم 95 درجے ہو تو ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے ہیں، اگر ایسے مریض کی خبر گیری نہ کی جائے اور اس کے جسم کی حرارت 93 درجے تک کم ہو جائے تو ایسی صورت میں بھی عموماً مریض تلف ہو جاتا ہے۔اب ہم اختصار کے ساتھ ان بخاروں کی علامات اورتعارف قلمبند کررہے ہیں جو اس وقت ملک و بیرون ملک میں قیامت برپا کئے ہوئے ہے۔
ملیریا: ملیریا بخار میں ٹھنڈ اور کپکپی کے ساتھ بخار آنا، بخار 102 ڈگری تک ہو سکتا ہے، سر میں درد، بدن میں درد، جی متلاناعمومی علامات ہیں،سنگین نوعیت میں مریض بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پسینہ آکر بخار اتر جانا جلد کاٹھنڈا پڑ جانا وغیرہ ملیریا کی بیماری کی علامات ہیں۔
ڈینگو : ڈینگو بخار کے ساتھ تیز سر درد، آنکھوں کے ارد گرد چاروں طرف درد ہونا، رگوں پٹھوں اور جوڑوں میں درد ہونا، جسم پر سرخ دھبے پڑنا وغیرہ ڈینگو بخار کی علامات ہیں۔ڈینگو کی ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی پہلی فرصت میں مریض کوجلداز جلد نزدیکی اسپتال تک پہنچا دینا چاہئے۔
چکن گنیا : چکن گنیا بخار کی اہم علامات ہیں اچانک تیز بخار آنا اور ٹھنڈ لگنا، جوڑوں میں خاص کر ہاتھ کی انگلیوں کے پوڑوں میں،پیر کے چھوٹے جوڑوں میں درد اور سوجن آنا، رگوں پٹھوں میں درد ہونا، کبھی کبھی جسم پر سرخ دانے بھی آ سکتے ہیں، چکن گنیا بخار کی سرسری شناخت ہیں۔
ہم یہاں چکن گنیا کی اس تازہ رپورٹ کو بیان کررہے ہیں جس میں چکن گنیاکے نقصانات پر بڑی اچھی ریسرچ کی گئی ہے۔چکن گنیاسے متعلق کی گئی نئی تحقیق کے مطابق مچھر سے پیدا ہونے والا یہ وائرس نوزائیدہ بچوں اور 65 سال سے زائد عمر والوں کے دماغ کے اندرشدیدقسم کا انفیکشن پیداکردیتا ہے، حتیٰ کہ یہ بخارموت کا باعث بن سکتا ہے۔ مڈغا سکر کے جزیرہ ری یونین میں 2005۔06میں پھوٹ پڑ نے والی چکن گنیا کی بیماری کے بعد اس کی نئی تحقیق پر کام شروع کیا گیا تھا جس کے یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ یہ دماغ پر بہت جلد اثرانداز ہوتا ہے۔ افریقہ، ایشیا، دی کریبین آئی لینڈس کے علاوہ ستمبر 2015ء تک میکسیکو میں بھی چکن گنیا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 7,000 بتائی گئی ہے۔ان دنوں دنیا کے کم و بیش ہر خطہ میں مختلف قسم کے بخاروں کا حملہ ہے۔امریکہ کی کم از کم 23 ریاستوں میں گردن توڑ بخار کی ایک غیر معروف قسم کے پھیلنے سے 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ان ریاستوں میں اس بخار سے تیرہ ہزار سے زائد افراد متاثر بتائے گئے ہیں۔ہند۔پاک میں بھی جاری وباء کے دوران دہلی میں ان دنوں ڈینگو کا قہر بڑھتا ہی جا رہا ہے تودوسری جانب بخار کا دودورہ ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اب تک اس سے 2درجن افرادکی موت کی اطلاع آچکی ہے۔ تاہم دہلی میونسپل کارپوریشن( ایم سی ڈی) نے مذکورہ تعداد اموات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اسپتال میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب ڈاکٹر داخلہ دینے سے انکار کرنے لگے ہیں۔ایم سی ڈی کے مطابق راجدھانی میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد 68 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی ہفتہ کو ڈینگو کے 4نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی تھی، جس میں دو سینٹرل زون، ایک جنوبی اور ایک قرولباغ زون میں ہے۔ گزشتہ سال ڈینگو کے 216 واقعات سامنے آئے تھے۔ اس سال ڈینگو کا اثر مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ڈینگو کی علامات نظر آتے ہی لوگ اسپتال پہنچ رہے ہیں۔لوگوں کا الزام ہے کہ اسپتالوں میں ان کا صحیح علاج نہیں ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ پرا ئیو یٹ اسپتال میں بھی لاپروائی برتی جا رہی ہے۔اطباء کے پاس بھیڑ بڑھ رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ لوگ اس موسم میں خاص احتیاط برتیں۔ یہ موسم ڈینگو کے مچھر کے پنپنے کیلئے بہتر ہے اور اگر لاپروائی کی گئی تو ڈینگو کی وبا کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔یہاں ہم یہ بتانااپنا پیشہ ورانہ فرض سمجھتے ہیں کے اب تک ڈینگو،چکن گنیا،زیکااورسوائن فلو جیسے امراض کی کوئی خاص دوا جدید طریقہ علاج (ایلوپیتھک)میں تیار نہیں کی جاسکی ہے۔اس کے برعکس اس قسم کی علامات والے بخاروں کے جڑی بوٹیوں یعنی طب یونانی کے ذریعہ علاج کا پتہ سترہویں صدی کے ابتدا سے طبی تواریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔لہذا مناسب ہے کہ اس کیلئے دیسی طریقہ علاج کو ہی اختیار کیا جائے جو انتہائی مجرب اورغیر مضر بھی ہے۔