11

پوری قوم اس وقت صم بکم عمی بن کر تماشائی بنی بیٹھی ہے

  • فیس بک پر شیئر کریں
  • ٹوئٹر پر اشتراک کریں
  • گوگل پلس پرشیئرکریں
  • پی ڈی ایف یا پرنٹ نکالیں
  • ای میل پر بھیجیں

آج ہم پر جو الم گزر رہے ہیں جو ستم ٹوٹ رہے ہیں جن جن جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہ دنیا کا کونسا شخص ہے جسے معلوم نہیں وہ کونسی آنکھیں ہیں جو دیکھ نہیں پا رہی ہیں وہ کونسی سماعت ہے جو سن  نہیں سکتی  لیکن اس کے باوجود پوری قوم اس وقت صمٌ بکمٌ عمیٌ بن کر تماشائی بنی بیٹھی ہے آخر کیوں…..? کیا ہمیں اس کا حق نہیں کہ میں اپنی قوم سے پوچھ سکوں کہ آج ہماری ایسی حالت کیوں ہے ? ہمارے بچے سسک سسک کر تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں ہماری مائیں بے آبرو کیوں ہورہی  ہیں ہمارے بزرگوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر گولی سے چھلنی کیا جارہا ہے ہماری  بہنوں کی عزت وعصمت محفوظ نہیں ہیں کیا میں  اس قابل نہیں کہ میری سسکیاں کوئی سن سکے ہمارے زخموں پر کوئی مرحم رکھ سکے کیا ہم لوگ  انسانی نسل و نسب سے مختلف ہیں  اگر نسل انسانی سے مخلتف نہیں  تو پھر یہ دردواذیت کے  ستم ہم پر ہی کیوں…… ? میں پوچھتا ہوں اپنے برادران انسان سے کہ میرا جرم کیا ہے میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے ہماری معصوم بچیوں کا کیا قصور تھا جنہیں لفظ ماں تک بولنے نہ آیا تھا کہ وہ ظالموں کی تلوار کا نشانہ بنیں میری اس بوڑھی ماں کا کیا قصور تھا کہ ان بدبختوں نے  پیاس سے تڑپا تڑپا کر ہمیشہ کی نیند سلادیا اس بوڑھے باپ کا کیا قصور تھا جنہیں ان ظالموں نے سڑکوں پر دوڑا دوڑا کر اذیت ناک سزا دی اور پھر بندوق کی گولیاں ان کے  سینوں میں اتاردی آخر کیوں… ? شاید اسی لئے کہ ہم مسلمان ہیں ہم لوگوں  نے خدا کے ایک ہونے کا اقرار کیا ہے ہم نے رسول اللہﷺ کے آخری پیغمبر ہونے کا اعلان کیا ہے مزید یہ کہ ہم رشوت نہیں لیتے ہم جھوٹ نہیں بولتے ہم زنا نہیں کرتے  اس لئے… آخر کیوں… کس لیے…? اگر یہی بات ہے تو سنیے  اور غور سے سینے  اور ہمارے  قوم کے سرداران حکمران اور سیاستدان بھی سنیں جو چپکی کی گھوٹ پئے بیٹھے ہیں  اگر ہمیں اِس لیے مارا پیٹا کاٹا چھانٹا جارہا ہے کہ ہم مسلمان ہیں تو ہمارے  لئے ایسے جینے سے بہتر ہے کہ ہم لوگ جام شہادت پالیں اگر اسی لئےظلم و ستم کے پتھر برسائے جارہے ہیں تو برسنے دیا جائے لیکن یاد رکھیں ہمارے لئے خدا اور اس کے رسولﷺ کی عزت و عظمت سے بڑھ کر ہمارے لئے دنیا کی کوئی چیز معنی  نہیں رکھتی ہے  اگر اس لئے ہماری نسلیں مٹتی ہیں تو مٹ جائیں لیکن اپنے اسلاف کے دین میں اسراف نہیں ہونے دیں گے. مختصر یہ کہ ہماری قومیں ابھی صم بکم عمی بن کر تماشائی بنی بیٹھی ہیں لیکن یہی ظلم وستم مزید آگے بڑھ کر {خدا نہ کرے }آپ کے گھروں تک پہونچی تو پھر آپ اس وقت کیا کریں گے کیا اسی طرح آپ میٹھی نیند سوتے رہیں گے یا پھر اسلام کی بقا کی خاطر کمر بستہ ہوکر متحرک ہونگے  خصوصاً ہمیں  یہ بات زیادہ ستائے جارہی ہے کہ جب بھی  یہ قوم بیدار ہوگی تو ایک سفید کاغذ کا ٹکڑا اور قلمدان سے ایک قلم اپنے ہاتھوں لئے نیند کی مدہوشی کے ساتھ آج کے اس دردناک منظر کو صفحہ قرطاس پر رقم کرے گی اور پھر اسی مدہوشی کی طرف پہونچ جائے گی چنانچہ جب ہماری دوسری نسلیں آئیں گی تو بس تاریخ کے ان پنوں کو پڑھ کر آنسوں کے چند قطرے  بہا لے گی اور پھر سسکتی آواز سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے غم و افسوس کا اظہار کرے گی اور تاریخ کے ان پنوں کو لپیٹ کر اپنی الماری میں سجا دے گی اور اپنے کاموں میں مصروف ہوجائے گی یہاں تک دنیا کو یہ بھی پتہ نہ ہوگا کہ ہمارے پرکھوں کی کوئی قربانی بھی رہی ہے اور رہی سہی قربانی کی داستان بھی گھن لگ کر بوسیدہ ہوجائیں گی اور جب کل ہم سے ہمارا  پروردگار یہ پوچھے گا کہ دنیا سے کیا لائے ہو تو اس  وقت حسرت و ندامت کے علاوہ ہمارے پاس کچھ بھی نہ ہوگا اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے.

آمین

عبیدالرحمان عقیل ندویؔ

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں