پرتاپگڑھ کا سفر تیسری قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

تیسری قسط
طارق شفیق ندوی
عصر کی نماز پڑھ کر جیسے ہی مسجد سے باہر نکلا ، ایک نئی اور چمچماتی ہوئی شاندار گاڑی پر نظر پڑی ، معلوم ہوا کہ یہ گاڑی جناب سید محمد طٰہٰ صاحب کی ہے جو میرے فاضل دوست ڈاکٹر سید سہیل احمد ندوی کے برادر نسبتی ہیں ۔ بڑے باذوق اور دلچسپ انسان ہیں۔

ملاقات ہوئی تو اپنی خوش مزاجی اور حاضر جوابی سے گرویدہ بنالیا۔ یہیں پر کلاس ساتھی جناب اشتیاق احمد ندوی حال مقیم ممبئ کے پھو پھا زاد بھائی مولانا ابو بکر صدیق ندوی سدھارتھ نگری سے ملاقات ہوئی جو بڑے محنتی اور جفاکش انسان ہیں مدرسہ ھذا میں نحو کے استاذ ہیں تقریباً 25 سالوں سے تدریسی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اسی گاڑی سے قدیم مدرسہ نور الاسلام جانا ہے جہاں عصرانہ کا اہتمام ہے اور اساتذہ منتظر ہیں۔ گاڑی جیسے ہی مدرسہ کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی مردانہ حسن کے پیکر جمیل مولانا محمد زبیر ندوی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا مولانا زبیر ندوی میرے چھوٹے بھی حافظ و قاری مولانا خالد شفیق ندوی حال مقیم دوبئی سے دو سال جونئیر ہیں ۔

اس وقت یہ ایک اچھے منتظم اور مدرسہ کے نائب مہتمم ہیں اور تعلیمی نظام ان ہی کے سپرد ہے اس کے بعد ایک بزرگ اور پرکشش شخصیت کی طرف میری توجہ ہوئی تو وہ خود آگے بڑھ کر ملے اور بتایا کہ میرا نام محمد ذاکر حسین ندوی ہے نصیرآباد کا رہنے والا ہوں اور آپ سے جونئیر ہوں پھر کسی نے بتایا کہ موصوف گزشتہ سال حج کی سعادت بھی حاصل کر چکے ہیں اس کے بعد ایک سینئر ساتھی مولانا محمد فاروق ندوی جو فرصت گنج رائے بریلی کے رہنے والے ہیں اور (جن کی سن فراغت 1987 ہے ) سے ملاقات ہوئی موصوف مولانا وصی سلیمان ندوی بانی مدیر ماہنامہ ارمغان اور ناظم تعلیمات جامعہ امام ولی اللہ پھلت ضلع مظفر نگر کے کلاس فیلو ہیں۔ ندوہ سے فراغت کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے گریجویشن بھی کیا اور انگریزی زبان میں دسترس بھی حاصل کی ان کا مطالعہ وسیع و عمیق ہے لیکن یہ انتہائی سادگی پسند اور سادہ مزاج انسان ہیں ان کو دیکھ کر کوئی ان کی صلاحیت اور خصوصیات کا اندازہ نہیں لگا سکتا ہے یہ گدڑی کے لعل ہیں اور مدرسہ میں انگریزی کے استاذ ہیں۔ ان تینوں حضرات نے پہلے پورا مدرسہ دیکھایا پھر مہمان خانہ لے گئے جہاں عصرانہ کا خصوصی انتظام تھا بے۔ مہمان خانہ کو دیکھ کر ندوہ اور تکیہ کے مہمان خانہ کی یاد آئی ، وہی انداز وہی سادگی ، ہر ہر چیز ندوہ سے اخذ کی ہوئی۔ ناشتہ اور بے تکلف باتوں سے فارغ ہوکر مدرسہ کی پرسکون اور خوبصورت مسجد میں مغرب کی نماز پڑھی فالج زدہ ہونے کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں دشواری ہوئی جسے پچھلی صف کے نمازیوں نے بھی محسوس کیا اور شرمندگی کا اظہار کیا کہ پہلے سے معلوم ہوتا تو کرسی کا انتظام کر دیا جاتا میں نے کہا مجھے خود ندامت ہوتی ہے کہ اس کم عمری میں کرسی پر نماز پڑھوں لیکن کیا کیا جائے مجبوری جو کروائے۔

مغرب کی نماز کے بعد متصلاً مدرسہ جدید آنا ہوا جہاں مولانا مشتاق احمد ندوی ( سن فراغت 1985) اور مولانا صدر الاسلام ندوی استاذ مدرسہ فلاح المسلمین تیندوا رائے بریلی سے ملاقات ہوئی اور خاص کر مدرسہ نور الاسلام کنڈہ کے مخلص و فعال مہتمم حضرت مولانا اسد اللہ ندوی مدظلہ بڑے جوش وتپاک اور خوش دلی سے ملے ، گلے لگا لیا، تھوڑی دیر تک ملی و سماجی حالات پر گفتگو کی ، گورکھپور کے احوال و کوائف کو جانا وزیر اعلیٰ ادتیہ ناتھ یوگی جی کی شخصیت اور ان کے کام کے طریقہ کار پر بھی گفتگو ہوئی ۔ مولانا ابھی ایک روز قبل ہی قطر کے سفر سے وآپس ہوئے تھے اس لئے دبئی اور قطر کے احباب ندوہ کا بھی ذکر خیر آیا اور پھر اس کے بعد ہم سبھی لوگ جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوگئے۔

طارق شفیق ندوی