پرتابگڑھ کا سفر چھٹی قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

چھٹی قسط
طارق شفیق ندوی
مولانا اسد اللہ صاحب ندوی کی پیدائش سنار گاوں فرصت گنج ضلع رائے بریلی میں ایک کسان کے گھر میں ہوئ آپ کے والد محترم کا نام حاجی مظفر تھا ابتدائ اور ثانوی تعلیم مدرسہ فلاح المسلمین تیندوا میں ہوئی ثانویہ رابعہ کا سالانہ امتحان آپ نے ندوہ میں دیا اور امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ۔ درجہ میں نمایاں اور ممتاز طلباء میں تھے۔ اچھی استعداد اور صلاحیت کے حامل تھے انتظامی صلاحیت اور قابلیت دوران طالب علمی سے ہی تھی اسی صلاحیت اور فعالیت کی بناء پر پہلے الاصلاح خورد اور پھر 1983 1984 میں جمعیۃ الاصلاح دونوں کے ناظم منتخب کئے گئے اوراپنے دور نظامت میں الاصلاح کے دائرے کو وسعت دی ۔

میری یاد داشت کے مطابق 1985 میں آپ ندوے سے فارغ ہوئے اور حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کے اشارے اور ایما پر مدرسہ نور الاسلام کنڈہ کے اہتمام کو سنبھالا اور یک گیر محکم بگیر پر عمل کرتے ہوئے اس ادارہ کو بھر پور وسعت و ترقی دی کہ آج نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کا شمار ندوہ کے اہم شاخوں میں ہوتا ہے ۔ مولانا نے اپنی پوری زندگی اس ادارہ کے لئے صرف کر دیا اور اس کو اوج و بلندی کے مقام پر پہنچا دیا ابھی اس ادارے میں عالیہ اولی تک کی تعلیم ہوتی ہے ۔ طلباء کی تعداد چھ سو زائد ہے ۔
مولانا لڑکیوں کا بھی ایک بہت بڑا ادارہ سنار گاوں میں چلاتے ہیں جہاں ایک ہزار کے قریب لڑکیاں پڑھتی ہیں اور ہاسٹل میں مقیم طالبات کی تعداد سات سو کے قریب ہے باقی بچیاں بسوں سے آتی ہیں نصف درجن کے قریب بسیں ہیں اس کے علاوہ علی میاں پبلک اسول بھی ان کا اہم ادارہ ہے جس میں مسلم اور غیر مسلم کئ سو لڑکے پڑھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کئ اضلاع میں ان کے اسکول چل رہے ہیں پرتابگڑھ میں المنصور پبلک اسکول بھی انہی میں سے ایک ہے ۔ کئ درجن مکاتب آپ کے زیر نگرانی چل رہے جس کا پورا انتظام بھی آپ خود دیکھتے ہیں ۔ مولانا مصنف اور مولف تو نہیں ہیں اگر چاہتے تو اس میدان میں آپ نمایاں ہو سکتے تھے لیکن انتظامی کاموں کی وجہ سے اس کی فرصت نہیں ملی لیکن ہزاروں طلباء آپ کی نگرانی میں پڑھ کر عالم اور فاضل بنے وہ گویا آپ کی روحانی اولاد کے درجہ میں ہیں ۔

آپ کے تربیت یافتہ نوجوانوں میں مولانا اعظم ندوی المعہد العالی حیدر آباد (جو مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی کئ کتابوں کے مترجم ہیں ) مولانا شعیب ندوی پرتابگڑھ مدرسہ ابو الحسن علی بحرو پور کے مہتمم
مولانا آدم صاحب ندوی نائب مہتمم مدرسہ بحرو پور مولانا مختار احمد ندوی اونچا ہار مدرسہ شرافت العلوم کے مہتمم.

مولانا ہارون رشید ندوی مقیم دوبئ مولانا امجد ندوی علی گڑھ مولانا ارشاد ندوی کنڈہ مولانا راحیل رضوان سعودی عرب اور بھی بہت سے علماء کرام جدید نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو مولانا کی محنت اور کدو کاوش کا ثمرہ اور نتیجہ ہیں
طارق شفیق ندوی