پرتابگڑھ کا سفر چوتھی قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

چوتھی قسط
طارق شفیق ندوی
جلسہ گاہ پہنچا تو دیکھتا ہوں کہ اسٹیج لگا ہوا ہے ۔ طلبہ قطار میں نظم وضبط کے ساتھ خاموشی سے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ضلع کے مختلف مکاتب فکر کے علماء ، زعماء اور دانشور حضرات بھی موجود ہیں ۔ جس سے پروگرام کے داعی مولانا محمد قمر الزماں ندوی کے خلوص و محبت ، وسیع تعلقات اور مدرسہ کی عوامی مقبولیت اور محبوبیت کا بھی بخوبی اندازہ ہوا ۔

جن چند شرکاء سے ملاقات ہوئی ان کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں مولانا محمد فاروق قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند پڑتاب گڑھ ، مفتی جمیل الرحمن قاسمی ، مولانا اسرار احمد قاسمی ، مولانا سفیان فیصل مانک پوری ، مولانا آدم ندوی ، مولانا نسیم ندوی ، مولانا معین الدین ندوی برادر صغیر مولانا ناصر الدین ندوی سندیلوی نائب مہتمم مدرسہ سیدنا ابی بکر صدیق مہپت مئو لکھنؤ اور سب سے زیادہ خوشی ہوئی مولانا محمد قمر الزماں ندوی کے چھوٹے بھائی عزیزی حافظ محمد شہباز سے مل کر جو جامعہ اسلامیہ قلندر پور مظفر پور اعظم گڑھ میں پڑھتے تھے تو پابندی سے مدرسہ جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ ملنے آیا کرتے تھے معلوم ہوا کہ وہ اپنے علاقہ کے ایک اسکول میں ٹیچر ہیں اور خاص طور پر جھارکھنڈ سے اس تقریب میں شرکت کے لئے آئے ہیں۔
جلسہ گاہ میں پہنچتے ہی سب سے پہلے ناظم جلسہ مولانا محمد فاروق ندوی نصیرآبادی نے جلسۂ صدارت کے لئے

حضرت مولانا اسد اللہ ندوی کا نام پیش کیا اس کے بعد بحیثیت مہمان خصوصی ان کے بغل میں داہنی طرف مجھے بیٹھنے کا حکم دیا پھر میرے داہنے طرف مولانا مشتاق احمد ندوی اور مفتی رحمت اللہ ندوی کی نششت متعین ہوئی اور مولانا صدر الاسلام ندوی کو صدر جلسہ کے بائیں طرف کی کرسی پر بیٹھایا گیا ۔ ان علماء کرام کے پر نور وجود سے اسٹیج کافی بارونق ہوگیا۔
تلاوت قرآن پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا اور طلبہ نے متعدد نعتیں پڑھیں پھر وہ تین بچے جنھوں نے قرآن حفظ کیا تھا بالترتیب (1) محمد صفوان شیبانی ابن مولانا محمد قمر الزماں گڈا ، جھارکھنڈ (2) محمد یاسر ابن محمد شاکر نصیرآباد رائے بریلی (3) محمد انیس ابن محمد حبیب ایٹھا پڑتاب گڑھ نے قرآن پڑھ کر سنایا اور ان کی دستار بندی ہوئی دینی کتابوں کے علاوہ نقد رقومات کے ذریعہ ان کو انعام سے نوزا گیا ان کے علاوہ بھی مختلف پروگراموں میں اول ، دوم ، سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو بھی انعامات سے نوازا گیا۔
تقسیم انعامات کے بعد ناچیز کو تأثرات پیش کرنے کے لئے ڈائس پر مدعو کیا گیا اور اس عاصی اور گناہ گار بندہ کا تعارف کچھ اس انداز سے کرایا گیا کہ مجھ پر رقت طاری ہوگئی اور جو کچھ کہنا تھا ذہن سے محو ہوگیا ۔ بہر حال تحصیل کنڈہ ، مدرسہ نور الاسلام ، مولانا اسد اللہ ندوی کی مخلصانہ جد وجہد اور ان کے کارنامے نیز مولانا محمد قمر الزماں ندوی کی علمی شخصیت اور خدمات کو موضوع بنایا ( ان شاء اللہ ان پر تفصیلات سے اگلی قسط میں لکھوں گا ) البتہ اس موقع پر چند غیر مرتب باتیں کہیں وہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

حمد وثنا کے بعد میں نے کہا کہ
(1) بزرگوں کے اس دیار میں اپنی حاضری کو سعادت سمجھتا ہوں اور اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اسی کی توفیق خاص سے یہاں آنا ہوا۔
(2) عزیز طلبہ ! میں آپ سے بھی کہتا ہوں آپ ہمیشہ اپنے رب اور اب کا شکر ادا کیا کریں کہ انھوں نے آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک شہرت یافتہ مدرسہ کا انتخاب کیا۔
(3)یہاں کے اساتذہ محنتی ، مخلص ، دیندار اور ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے اپنے عظیم اساتذہ سے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ آپ کے سینہ میں منتقل کر دینا چاہتے ہیں اب یہ آپ کی دلچسپی اور لگن پر منحصر ہے کہ آپ ان سے کس قدر فائدہ اٹھاپاتے ہیں۔
(4) عزیز طلبہ ! آپ کے مہتمم حضرت مولانا اسد اللہ ندوی باپ جیسے شفیق سرپرست ہیں۔ آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے فکر مند رہتے ہیں ملک اور بیرون ملک کا دشوار ترین اسفار کرتے ہیں روز ایک نئی مصبیت کا سامنا کرتے ہیں باطل کی آنکھ میں کھٹکتے ہیں لیکن اللہ کی ذات پر مکمل یقین کے ساتھ اپنے مشن میں آگے بڑھتے جاتے ہیں بڑی حکمت و دانائی سے کام لیتے ہیں اور دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتے ہیں یہ اللہ کے ان منتخب بندوں میں ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین و شریعت کی تبلیغ کے لئے چن لیا ہے علاقہ میں مساجد کی تعمیر اور مدارس کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتے رہتے ہیں لھذا ان کی قدر کیجئے اور ان سے استفادہ کیجئے۔ عزیز طلباء آپ کے قصبہ کو راجہ بھیا کے بڑے بڑے واقعات اور کارناموں سے بھی جانا جاتا ہے لیکن یاد رکھیے وہ دن دور نہیں جب یہ علاقہ حضرت مولانا اسد اللہ ندوی کی دینی جد وجہد علمی خدمات ،خلوص و للہیت کی وجہ سے جانا جائےگا اور آپ جیسے طلبہ سے پوری دنیا میں اس کا نام روشن ہوگا۔
(5)عزیز طلبہ ! میں نے آپ کے مدرسہ کو بنظر غائر دیکھا ہے یہاں کے ماحول ،درودیوار اور اس کے نقش ونگار کو ندوی فکر و تہذیب کا شاہکار اور یادگار پایا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سن 1980 کے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بیٹھا ہوں۔

(6)عزیز طلبہ ! میں شکرگزار ہوں اپنے محب اور قابل قدر علمی شخصیت مولانا محمد قمر الزماں ندوی کا کہ انھوں نے یہاں آنے کی بہترین سبیل پیدا کی اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا محمد قمر الزماں ندوی اپنی دینی ،علمی تحریروں اور ملک کے مختلف سیمیناروں میں شریک ہو کر مدرسہ کا نام روشن کر رہے ہیں۔
میرے بعد حضرت مولانا اسد اللہ ندوی مدظلہ العالی نے قرآن مجید کی اہمیت و افادیت اور عصری معنویت نیز حافظ قرآن کی عزت و عظمت اور رفع درجات پر بصیرت افروز خطاب فرمایا پھر حضرت کی ہی دعا پر جلسہ کے اختتام کا اعلان ہوا اور متصلاً عشاء کی نماز پڑھی گئی۔نماز کے بعد عشائیہ کا انتظام تھا جس میں مدرسہ کے اساتذہ ،طلبہ اور دیگر جملہ اسٹاف کے علاوہ سو سے زائد مہمانوں نے لذیذ کھانا تناول فرمایا۔
باقی آئندہ
طارق شفیق ندوی