پرتابگڑھ کا سفر پانچویں قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

پانچویں قسط
طارق شفیق ندوی
عشاء کی نماز کے بعد دیر تک مولانا اسد اللہ صاحب ندوی میرا ہاتھ پکڑے گفتگو کرتے رہے ، مدرسہ کے ابتدائی حالات اور بعض مقامی مشکلات سے بھی آگاہ کیا ، میرے تاثرات کو پسند فرمایا ، دئیے گئے کم وقت میں اپنی بات کو مکمل کرنے پر مبارکباد دی مزید چند تعریفی کلمات بھی کہے ۔ کھانا ساتھ ہی تناول فرمایا اور رات کو سفر کرنے سے منع کیا بلکہ اپنے گھر قیام لئے اصرار کیا اور صبح لکھنؤ پہنچا دینے کی ذمہ داری بھی لی۔ میں نے اپنی مصروفیت اور کالج کی ذمہ داریوں کا حوالہ دیا تو فرمایا کہ اچھا میری گاڑی سے رائے بریلی تک چلو وہاں سے لکھنؤ چلے جانا۔

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
کنڈہ سے رائے بریلی تک کا راستہ بہت خوش گوار ماحول میں تیزی سےکٹ گیا ایک تو ان گاڑی بہت اچھی تھی ، ڈرائیور بھی تجربہ کار تھا۔ دوسی طرف گفتگو بھی خالص علمی ، دینی اور تحریکی و تعمیری ہو رہی تھی کچھ دیر کے بعد ذکر چھڑ گیا مادر علمی دارالعلوام ندوۃ العلماء کا اور ہم لوگ اوراق ماضی میں کھو ہوگئے۔
لوٹ ماضی کی طرف اے گردش ایام تو
حضرت مولانا ابو العرفان خان ندوی رح ( وفات 18 / نومبر 1988 ) کی باغ و بہار شخصیت اور ان کی تبحر علمی ، حضرت مولانا سید محمد مرتضی نقوی مظاہری رح ( وفات 2 / نومبر 1995 ) کی مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رح سے عقیدت اور کتب خانہ علامہ شبلی کے لئے ان کی خدمات ، لائق و فائق منتظم اور قابل قدر مہتمم مولانا محب اللہ لاری ندوی ایم اے علیگ رح ( وفات 29 / نومبر 1993 ) کی انتظامی صلاحیت ،طلبہ پر ان کا دبدبہ اور رعب ، اور ندوہ کے ہر فرد کے دل میں ان کا احترام موضوع سفر رہا۔ انھوں نے دوران سفر خاص طور پر اس کا ذکر کیا کہ آپ کے والد ماجد حضرت مولانا شفیق الرحمن ندوی رح ( وفات 24 / جون 2002 ) میرے مشفق و محسن استاذ تھے میری علمی رہنمائی کرتے تھے میرا کوئی معاملہ مہتمم صاحب کے پاس جاتا تو آپ کے والد مرحوم میرے وکیل و موئد ثابت ہوتے نور اللہ مرقدہ ۔ آپ کے والد صاحب اس وقت انتظام و انصرام میں شریک اور مشیر ہوا کرتےتھے۔اور مہتمم صاحب کو ان پر بڑا اعتماد تھا۔

اسی کے ساتھ بات چل پڑی مولانا اسد اللہ صاحب ندوی کے ہم جماعت مولانا غضنفر الحق ندوی کی شخصیت اور ان کی پگڑی، مولانا محمد عادل حسین ندوی کی ذہانت و فطانت کی ، ( سن فضیلت 1985 ) جو بیک وقت النادی العربی کے امین العام بھی تھے اور جمعیۃ الاصلاح کے ناظم بھی ۔ اس کے بعد محترم المقام ہر دلعزیز شخصیت کے مالک جناب سعید احمد قاضی ( سن فراغت 1984 ) کی شوخی و ظرافت اور بذلہ سنجی کا بھی ذکر رہا۔ قاضی جی نیپال کے بڑے مخیر تاجر ہیں بغرض تجارت پوری دنیا کا سفر کرتے ہیں وہ اگر اپنا سفر نامہ لکھیں تو سفر نامہ ابن بطوطہ سے کم نہ ہوگا ۔ حضرت مولانا احمد کمال عبدالرحمان ندوی مدنی ( سن فضیلت 1970 ) بانی ناظم جامعہ رحمانیہ اسلامیہ کشی نگر کا بھی ذکر خیر ہوا اور میں نے ان کی ہر ممکن امداد و تعاون کے لئے درخواست بھی کی کیونکہ مولانا نے شرک وبدعت کے علاقہ میں اپنا مدرسہ قائم کیا ہے وہ ایک طرح سے جہاد کر رہے ہیں جو حضرات میری اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں ان سے بھی مالی امداد کی اپیل ہے۔
رائے بریلی سے لکھنؤ تک کا سفر بذریعہ کار مولانا مفتی رحمت اللہ ندوی مکمل ہوا ۔مفتی صاحب نے راستہ میں دو کتابیں عنایت فرمائیں جسے ویشالی ٹرین کے سکنڈ اے سی میں مطالعہ کرتا رہا اور گورکھپور آگیا ۔ اسٹیشن سے سیدھے کالج گیا اور تفویض ذمہ داریوں میں مشغول ہو گیا ۔
(1) رونقِ محفل جانِ دوستاں
یہ کتاب ان تأثراتی مضامین پر مشتمل ہے جو مولانا حافظ امتیاز احمد ندوی مرحوم
( وفات 16/ نومبر 2016 )کے انتقال کے بعد اہل تعلق نے لکھے ہیں اور جسے مولانا کفیل احمد ندوی استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے دسمبر 2017 میں کتابی شکل میں شائع کیا ہے اور ابھی مورخہ 15/ مارچ 2018 کو اس کا رسم اجراء ہوا ہے۔اس کتاب میں ناچیز کا بھی ایک مضمون ( فعال عالم دین مولوی امتیاز احمد ندوی مرحوم ) شامل ہے۔

( 2 ) تذکرہ حافظ عظیم اللہ رائے بریلی رح
حافظ عظیم اللہ رح ( ولادت 1920 وفات 25 فروری 2007 ) نیک ، مخلص ، بلند ہمت اور صاحب عزیمت انسان تھے انھوں نے پوری زندگی دینی کام میں صرف کیا اور پچاس سے زائد مدارس و مکاتب قائم کئے۔
اس کتاب کو ان کے فرزند اکبر مولانا حافظ محمد یوسف مظاہری نے مرتب کیا ہے۔
باقی آئندہ
کل لکھنؤ ، علیگڑھ اور دلی کا سفر ہے دعا کی درخواست ہے.
طارق شفیق ندوی