پرتابگڑھ کا سفر نویں قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

نویں قسط
طارق شفیق ندوی

عزیز القدر مولانا محمد زبیر صاحب ندوی ندوةالعلماء لکھنئو کی قدیم اور اہم شاخوں میں مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کے بانیوں میں منیجر جبار حسین مرحوم اور حاجی محمد یوسف صاحب سب سے اہم ہیں انہی دونوں کی محنت اور کدو کاوش سے کنڈہ مدرسہ کا قیام عمل میں آیا چونکہ میرے والد مرحوم مولانا شفیق الرحمن ندوی رح ملحقہ مدارس کے سکریٹری اور فعال ، تجربہ کار ذمہ دار تھے اس لئے ملحقہ مدارس کے بارے میں اور اہم شاخوں کے بارے میں بہت کچھ بتایا کرتےتھے ۔
حضرت مولانا معین اللہ صاحب اندوری ندوی نائب ناظم ندوۃ (وفات 23/ اگست 1999)کو تین شاخوں کی بڑی فکر رہتی مدرسہ ضیاء العلوم میدان پور تکیہ کلاں رائے بریلی ۔ مدرسہ فلاح المسلمین تیندوا رائے بریلی اور مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ ۔ شروعاتی دور میں مولانا معین اللہ صاحب ندوی رح اہم اور بڑے اساتذہ کو یہاں امتحان اور معائنہ کے لئے بھیجا کرتے تھے اس زمانہ میں مولانا شمش الحق ندوی مولانا عبد العزیز بٹکھلی ندوی مولانا نور عالم خلیل امینی جو ان دنوں ندوہ میں استاد تھے یہ حضرات متعدد بار مدرسہ میں تشریف لے جا چکے تھے اور مولانا عبد اللہ حسنی ندوی صاحب رح تو مدرسہ کے ناظم تھے وہ تو کثرت سے جایا ہی کرتے تھے ۔ مولانا شمس الحق صاحب ندوی نے اس کا تذکرہ حیات مولانا معین اللہ ندوی میں کیا ہے ۔
حاجی یوسف صاحب کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر عیسی ندوی ہین جو طبیہ کالج ممبئی سے کچھ سال پہلے سبک دوش ہوئے ہیں اور اب بھی اضافی خدمات انجام دے رہیں ہیں ۔ وہ کافی سنئر ندوی ہیں مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کے کلاس ساتھی ہیں اور مولانا سید سلمان حسینی ندوی مولانا عبد العزیز بٹکھلی نددی صاحب، مولانا خالد غازی پوری ندوی صاحب ، مولانا عبد اللہ حسنی ندوی رح شکیل اعظمی ندوی بحرین مولانا سعید الرحمٰن فیضی ندوی مقیم کناڈا مولانا یعقوب صاحب ندوی اور مولانا سلیم اللہ ندوی ان کے معاصر ہیں ۔ حاجی یوسف صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے محمد زبیر صاحب ندوی ہیں مردانہ حسن کے پیکر جمیل ہیں اللہ تعالی حسن سیرت کے ساتھ حسن صورت سے بھی نوازا ہے یعنی وجیہ و شکیل ہیں اور بااخلاق بھی لیکن کم سخن ہیں صلاحیت سے زیادہ صالحیت سے مزین ہیں وہ مجھ سے کافی جونئیر ہیں لیکن ندوہ ہی کے زمانے سے ہی میں ان سے متعارف ہوں۔ اچھے منتظم اور باوقار شخصیت کے مالک ہیں تواضع اور خاکساری کی دولت سے بھی مالا مال ہیں ۔

اللہ تعالٰی نے حسن سلیقہ اور حسن انتظام کا وافر حصے سے نوازا ہے ۔ نور الاسلام کنڈہ / فلاح المسلمین تیندوہ اور مرکز علم و تحقیق دار العلوم ندوہ العلماء تینوں ادارے سے کسب فیض کیا فلاح المسلمین تیندوہ میں الاصلاح بہت کامیاب ناظم رہے ندوہ سے عالمیت 1994 اور فضیلت 1996 میں کیا اس کے بعد مدرسہ الحرمین کاٹھمندو نیپال میں صدر مدرس اور نگراں بھی رہے اور اس ادارہ کو خوب ترقی دی ۔ جب بھی وہان کی تاریخ لکھی جائے گی مولانا محمد زبیر ندوی کا نام جلی حرفوں میں لکھا جائے گا ۔

بارہ چودہ سال پہلے مولانا عبد اللہ حسنی ندوی رح کے ایما اور اشارے پر وہاں سے کنڈہ ائے اور پھر نائب مہتمم کے عہدے پر متمکن ہوئے ۔ چونکہ مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کا آدھا حصہ اور نظام یعنی جونئیر سیکشن کنڈہ قصبہ میں ہے اور آدھا حصہ اور سینئر سیکشن آبادی سے چار کلو میٹر دور ہے اس لئے انتظام اور نظام کو چست اور بہتر بنانے کے لئے دو نائب مہتمم ہیں مولانا محمد زبیر صاحب ندوی کنڈہ کے نظام کو دیکھتے ہیں اور مولانا ابو بکر صدیق صاحب ندوی موئ کلاں کے نظام کو دیکھتے اور دونوں جگہ کا اہتمام مولانا اسد اللہ صاحب ندوی دیکھتے ہیں ۔

اور ناظم مدرسہ برادر مکرم مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی مدظلہ العالی ہیں ۔