نورالاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کا سفر آٹھویں قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

آٹھویں قسط
طارق شفیق ندوی
فاضل دوست مولانا قمر الزمان ندوی کے اندر دینی خدمت کا جذبہ بھی خوب ہے اسی دینی اور علمی خدمت کو انجام دینے کی غرض سے انہوں نے سرکاری نوکری کو قربان کر دیا اور مدرسہ کے اندر رہ کر دینی خدمت کو ترجیح دی خاندان کے کچھ بزرگوں کا خاص طور پر ان کے نانا جان کا حکم تھا کہ وہ سرکاری ملازمت اختیار نہ کریں لیکن اراکین مدرسہ اور سکریٹری کی اصرار اور خواہش تھی کہ وہ بورڈ مدرسہ میں فاضل کی جگہ خالی عہدہ قبول کر لیں لیکن ان کے مزاج غیرت اور طبیعت نے اس کو قبول نہیں کیا اور اس کی طرف آمادہ نہیں ہوئے ۔

موصوف کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ جتنے مدرسہ نور الاسلام وہاں کے ماحول اور آس پاس کے اضلاع بلکہ اب تو ملک اور بیرون ملک متعارف ہیں اتنا ہی متعارف اور اتنی ہی مقبولیت و نیک نامی علاقہ اور ضلع میں بھی ہے ۔ گاوں کا ہر باشعور یہاں تک کہ بچہ بچہ مولانا کی خدمات اور اور مولانا کی محنت سے واقف ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا نے اپنے وطن اور علاقہ کو بھی میدان عمل بنایا ہے ۔

ہر بڑی چھٹی گاوں میں گزاتے ہیں رمضان کا مہینہ علاقہ والوں کے لئے وقف کر دیا ہے اور آئے دن دینی پروگرام بھی کراتے رہتے ہیں اور اس کے لئے خود دامے درمے سخنے قدمے اپنے کو تیار رکھتے ہیں ۔ جب کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ علماء اور اہل علم جب کسی شہر اور علاقہ میں خدمت انجام دیتے ہیں تو وہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں وہیں مکان بنا لیتے ہیں اور علاقہ و وطن سے بالکل کٹ جاتے موت اور جنازے یا خوشی اور غمی کے موقع پر کبھی جاتے ہیں تو لوگوں میں اجنبی رہتے ہیں نئ نسل ان کو پہچانتی نہیں اور اس طرح دھیرے دھیرے ان کا تعلق مزید کٹ جاتا ہے ۔ بہت سے اہل علم نے راقم الحروف کے سامنے افسوس اور پچھتاوے کا اظہار کیا کہ میرا وطن اور علاقہ کے چھوڑنے کا اور وہاں سے کٹ جانے کا فیصلہ درست نہیں تھا ۔

مولانا موصوف اس سلسلہ میں لوگوں کے لئے خاص طور پر طبقہ علماء کے لئے ایک آڈیل اور نمونہ ہیں ان کی زندگی کے اس وصف کو ہم سب کو اپنانا چاہیے ۔
اس کے بعد مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پر کچھ لکھوں گا اور اس سفر نامہ میں جن شخصیات کا ذکر یے ان کا مختصر تعارف بھی الگ سے کرانے کی کوشش کروں گا ان شاء اللہ.