نظیف الرحمٰن سنبھلی کی علمی و ادبی توقیت

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

”فکر واحساس کی قندیلیں‘‘کے تناظر میں
حکیم وسیم احمد اعظمی
نظیف الرحمٰن سنبھلی(ولادت:یکم اگست ۰۵۹۱ء)کا تعلق مغربی اُتر پردیش کے قدیم،مردم خیز قصبہ(اب ضلع)سنبھل کے ایک انتہائی برگزیدہ خانوادہئ علم ودانش سے ہے۔ان کے مضامین اور تبصرے پر مشتمل کتاب ”فکر واحساس کی قندیلیں“ مطبوعہ ۷۱۰۲ء پیش ِ نظر ہے۔اس سے پہلے کچھ اسی نوعیت اور لب و لہجہ کی اُن کی کتاب ”گلہائے رنگا رنگ‘‘۹۰۰۲ء میں شائع ہوچکی ہے۔ زیر ِ نظرکتاب پڑھنے سے واضح ہوا کہ وہ کثیر المطالعہ ہیں،جس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ان کی تحریروں میں موضوعاتی تنوع اور کثیر جہتی ہے۔گویاان کی تخلیقات ان کے زاویہئ فکر اور منہج ِ تحقیق کی روداد ہوتی ہیں۔
کتاب کے مشتملات کی فہرست پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
۱۔امروہہ کی ایک علمی شخصیت کے ادبی کمالات
۲۔مولانا محمد منظور نعمانیؒ کا اسلوب ِ بیان
۳۔مولانا نسیم احمد فریدی کی ایک تحقیقی کاوش
۴۔محمد علی کا ماتم
۵۔انسانیت اور شرافت کا پیکر: مولانا ابو الکلام آزاد
۶۔چند ہندوستانی شخصیات: اقبال کی نظر میں
۷۔اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
۸۔مولانا عبد الماجد دریابادی کا ایک شعری محاکمہ
۹۔مقالات ِ فریدیؒ
۰۱۔ہمفرے کے اعترافات! ایک جائزہ
۱۱۔علامہ شبلی نعمانی کی عربی خدمات
۲۱۔والی آسی: شخصیت اور شاعری
۳۱۔مولانا کریم بخش سنبھلی
۴۱۔مولانا محموداسرائیلی سنبھلی
۵۱۔مولانا محمد حسن بدر ؔسنبھلی
۶۱۔ڈاکٹر سعادت علی صدیقی: چند یادیں
۷۱۔”گل ِ صحرا“ میں اعجاز وارثی کی انانیت
۸۱۔سنبھل کی گذشتہ ادبی سرگرمیاں
۹۱۔حکیم محمد ایوب سنبھلی اور علامہ نیاز فتح پوری کا ایک دلچسپ مکالمہ
۰۲۔مولانا محب الحق مرحوم
۱۲۔”کردار کے غازی قاضی عدیل عباسی“
۲۲۔میرزا مظہر جان جاناں اور آب ِ حیات
۳۲۔غالبؔ اور آزردہؔ
۴۲۔مثنوی زہر ِ عشق: ایک مطالعہ
۵۲۔مرصّع نگاری
۶۲۔”وجدان“
۷۲۔جواہر پارے
۸۲۔ایک صاحب ِ دل بزرگ کا سفر نامہئ حج
۹۲۔لکھنؤ: کچھ ماضی کچھ حال
۰۳۔کچھ ”رسوم دہلی“ کے مقدمہ کے بارے میں
۱۳۔”سوط الہادی علیٰ منکر الخطاء الاجتہادی“: ایک تعارف
۲۳۔مختلف فرقوں میں بیگانگی کے حقیقی اسباب
۳۳۔فرقہ وارانہ فسادات اور ہماری ذمہ داری
۴۳۔حیات اللہ انصاری کے افسانوی ادب کا تنقیدی مطالعہ
۵۳۔حماد احمد ایڈوکیٹ

نظیف الرحمان سنبھلی کے ان مقالات/مضامین اور تبصروں میں موضوعاتی تنوع کے ساتھ ہی بعض مراحل میں فکری اور اسلوبی انحراف بھی ہے۔ وہ بہت بدیہی، واضح اور متداول خیالات و نظریات کو بحیث المجموع تسلیم کرنے کے باوصف اس کے حدود وجوانب کا شعوری آگہی کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں،چونکہ صالحیت کے ساتھ غور و فکر، اُن کے مزاج کا خاصہ ہے،اسی لیے وہ کسی بھی موضوع پر لکھنے سے پہلے نہ صرف نفس ِ موضوع، بلکہ اس کے متعلقات کا بھی بہ نظر عمیق مطالعہ کرتے ہیں،اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہوئی تو قلم اُٹھاتے ہیں، اندرون کے شدید داعیہ کے بغیر وہ قلم کو زحمت نہیں دیتے۔اپنی اِس روش کے بارے میں لکھتے ہیں:
”میرا مزاج ہے کہ میں کسی موضوع پر جب تک قلم نہیں اُٹھاتا ہوں جب تک موضوع پر میرا کما حقہ مطالعہ نہ ہو اور موضوع پر میری پوری طرح گرفت نہ ہو“ (اپنی بات،ص:۸۲)
موضوع اور اس کے متعلقات کا کماحقہ مطالعہ اور بے حد فکر وتدبر کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی تخلیقات میں دفع الوقتی عناصر نہیں ہوتے، ایسا مزاج رکھنے والا شخص اپنی تحریروں کا سب سے بڑا ناقد اور محتسب ہوتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کی تحریر اور کے معیار ِ نظر پر کوئی حرف آئے اور اسے علیٰ رؤس الاشہاد شرمندہ ہونا پڑے۔ اسی فکر و تدبر اور حزم و احتیاط نے نظیف الرحمٰن سنبھلی کی تحریروں کو اعتبار بخشا ہے اور انہیں زود نویسوں کے زمرے سے باہر رکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”میں زود نویس نہیں ہوں،زود نویس نہ ہوناہوسکتا ہے بعض کے نزدیک عیب ہو،مگر میں اس میں خوبی اور اچھائی کا پہلو بھی دیکھتا ہوں۔وہ یہ کہ اگر کسی شخص میں زود نویسی کی صلاحیت نہ ہوتو اس کے لیے موقع ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ لکھ رہا ہے،خوب غور و فکر کرے،ضروری مآخذ سے استفادہ کرے اور اپنے مسودے کوبار بار پڑھ کر خوب جانچ پرکھ لے۔اس کے علاوہ اپنے سے زیادہ قابل کسی لکھنے والے کو مسودہ دکھلا کر اس کی رائے بھی لے سکتا ہے۔میں خود یہ کوشش کرتا ہوں کہ جو کچھ لکھوں،حوالے کے ساتھ لکھوں اور ضروری سمجھوں تو اپنے مسودے پر کسی معتبر شخصیت کی رائے بھی لے لوں“۔ (پنی بات،ص:۷۲)
نظیف الرحمٰن سنبھلی حق شناس،حق آگاہ اور حق گو ادیب ونقاد ہیں،ان کی فکرمیں روایت کا احترام اور ان کے ادبی رویّے میں صالحیت ہے،اسی لیے وہ ادب اور معاشرہ میں جو کچھ دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں،بغیر کسی مصلحت اور مصالحت کے قلم بند کردیتے ہیں۔آج اردو زبان کی مذہبی اور سائنسی تحریروں کو اردوادب کی’’مین اسٹریم‘‘سے الگ تصور نہ کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ اردو زبان و ادب سے صرف شعر وشاعری،ناول،افسانہ،تذکرہ اور سوانح مراد لیے جانے پراردو کے جمہور علماء اور دانشوروں کا گویا اجماع ہے۔اِس زبان میں دانشوری کے حوالے سے جتنی بھی تحریریں اور تحریکیں آپ کے مطالعے میں رہی ہوں گی،ان کا محور اور مرکز یقینا یہی اصناف ِ ادب رہی ہوں گی اور بالفرض اگر کوئی اور بات در آئی ہو تو اس کی حیثیت بے حد ضمنی اور قطعی لامرکزی ہوگی۔یہ طرز ِ فکرنظیف الرحمٰن سنبھلی پر اپنی جملہ کیفیات کے ساتھ واضح ہے،وہ اس مضمحل سوچ سے بے حد آزردہ بھی ہیں اوراس کا محاسبہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اردو ادب کو اتنا محدود کردیا گیا ہے کہ اس میں شعر وشاعری ناول،افسانے اور کچھ ایسی ہی اصناف جگہ پاسکیں ہیں۔حالانکہ ادب تاریخی،دینی،مذہبی،معاشی اور اقتصادی سب ہی طرح کی نگارشات کو محیط ہے۔مگر ہمارے ادیبوں کا موضوع زیادہ تر شعروشاعری، ناول،افسانے یا بہت زیادہ کیا تو تذکرے اور سونح تک محدود رہتا ہے۔حالانکہ یہ رویّہ ترقی یافتہ زبانوں کے لیے مضر ہوتا ہے،اس لیے کہ اس رویّہ سے زبان کا دائرہ تنگ ہوجاتا ہے“۔ (مضمون—مولانا منظور احمد نعمانی کا اسلوب ِ بیان،ص:۵۳)
حالانکہ اردو زبان وادب کا ماضی مباحث اور موضوعات کے اعتبارسے بڑا متنوع اور وسیع المشر ب رہا ہے۔ اسی تناظر میں وہ مزید لکھتے ہیں:
”ہمارے سابق ادیب،جو اردو زبان وادب کے ستون کہلاتے ہیں،جیسے سرسید،حالی، شبلی،عبد الحق وغیرہ کا تو یہ رویّہ نہ تھا۔ان بزرگوں کا تحریری سرمایہ ہمارے ادب کا بہترین حصّہ ہے۔ جس میں تنوع ہے۔ ان ہستیوں نے اردو زبان کی جو خدمت کی اور اسے جو اسلوب دیا،اسی سے ہماری زبان اس لائق ہوئی کہ اس میں سنجیدہ مضامین لکھے جاسکے۔ان ہی بزرگوں کی بدولت آج اردو ترقی یافتہ زبانوں کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے“۔ (مضمون—مولانا منظور احمد نعمانی کا اسلوب ِ بیان،ص:۵۳)
ادب کہتے کسے ہیں؟ اور ادبیات کے دائرے میں کیا کچھ آسکتا ہے؟ اس کی نشاندہی کرتے ہوئے نظیف الرحمٰن سنبھلی لکھتے ہیں:
” ادب یہی تو ہے کہ کسی خیال کو ایسی سہل اور دل آویز اسلوب میں ادا کردینا،جس سے خیال پوری طرح واضح ہوجائے اور قاری مصنف کے مطلب و مدعا کو آسانی سے سمجھ لے۔جب ادب کی یہ تعریف ٹھہری تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی تحریر کے ادبی ہونے نہ ہونے کا معیار مصنف کے اسلوب یا طرز ِ نگارش پر ہوتا ہے“۔ (مضمون—مولانا منظور احمد نعمانی کا اسلوب ِ بیان،ص:۶۳)
اردو کامذہبی ادب،اسی طرح اردو کا سائنسی اور طبّی ادب اس امر کا متقاضی ہے کہ اس کا بھر پور جائزہ لیا جائے،اس پر تحقیق کی جائے، اس کی لسانی توقیت کی جائے، لیکن اس زاویے سے کوئی لائق ِ ذکر کام ابھی نہیں ہوا ہے۔نظیف الرحمٰن سنبھلی نے اپنے ماموں مولانا محمد منظور نعمانیؒ کی تحریروں کا اِس زاویے سے جائزہ لے کر اردو دانشوروں کو اس نہج پر سوچنے کی راہ دکھائی ہے اور انہیں یہ احساس دلایا ہے کہ اردوزبان وادب کی مملکت کی اپنی بصیرتوں سے توسیع کیجئے اوراپنی بصارتوں پرنزول الماء سے اثرپذیری کا الزام نہ آنے دیجئے۔ مولانا محمد منظور نعمانیؒ کے اسلوب ِ نگارش کے بارے میں لکھتے ہیں:
”مولانا نعمانی کے اسلوب ِ بیان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ عمیق سے عمیق بحث میں بھی نہایت سلیس زبان استعمال کرتے ہیں۔ان کے جملے نہ زیادہ طویل اور نہ زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں۔موضوع کیسا ہی کیوں نہ ہو،علمی ہو،تاریخی ہو،تحقیقی ہو یا قرآن وحدیث کی تفسیر وتشریح ہو،ان کے عام اسلوب میں فرق نہیں آتا۔وہ اپنے ما فی الضمیر کو اس طرح حیطہئ تحریر میں لاتے ہیں کہ اس کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں رہتا،اگر کسی بحث میں مثال پیش کرتے ہیں تواسے بھی اس طرح فٹ کردیتے ہیں کہ وہ اصل متن اور موضوع سے بے تعلق نہیں معلوم ہوتی۔ان کے اسلوب میں ناہمواری نہیں ہوتی۔گرامر کے اعتبار سے ان کے جملے اور ترکیبیں چست ہوتی ہیں اور روز مرّہ تو ان کی تحریر کی خصوصیت ہے ہی“۔ (مضمون—مولانا منظور احمد نعمانی کا اسلوب ِ بیان،ص۶۳)
مولانا نعمانیؒ کے اسلوب ِ بیان کے بارے میں ان کے صحافی فرزند حفیظ نعمانی کا یہ مختصر سا اقتباس بھی بہت کچھ بیاں کرتا ہے:
”والد ماجدؒ کی تمام کتابوں کو انگریزی زبان میں ڈاکٹر آصف قدوائی مرحوم نے منتقل کیا ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ ابّا جی (وہ ان کو یہی کہتے تھے)آپ کی کتابوں میں چھوٹے جملے،آسان زبان اور مترادفات بالکل نہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ میرے لیے ایک کھیل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزی زبان کا یہی مزاج ہے“۔ (مقدمہ،ص:۵۱)
کسی بھی اسلوب کی بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں بھر پور ترسیل ہو،اس کا قاری خلط ِ مبحث جیسی کوفت میں نہ پڑے، بات سیدھی،سادی ہو،جوقاری کے ذہن و دماغ اور قلب پر حکمرانی کرے۔نظیف الرحمٰن سنبھلی کی تحریریں پڑھنے اس سے اس کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔
کتاب میں شامل مقالہ/ مضمون ”گل ِ صحرا“میں اعجاز وارثی کی انانیت‘ مستقبل میں ”تحلیل ِنفسی‘‘کے معتبر حوالے کے طور پر جاناجائے گا،یہ بات دیگر ہے کہ حفیظ نعمانی ”معاملہ شریعت کا نہیں ادب کا ہے“لکھ کر بات کو رفع دفع کرادینا چاہتے ہیں،لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس مضمون کے پس منظر میں نظیف الرحمٰن سنبھلی نے لفظ’انانیت‘ کے تناظر میں انسانی نفسیات پر بڑی سیر حاصل بحث کی ہے،جو ’بشر‘ کی تفہیم میں نہ صرف ممد ومعاون ہے،بلکہ ’ہم زاد‘ کے راز ِ دروں کو بھی آشکار کرتی ہے۔اُنہوں نے ’انانیت‘ کی تلاش اور تفہیم کے لیے جو سانچے وضع کیے ہیں، ان میں:
۱۔ انانیت کیا ہے؟
۲۔انانیت کا تاریخی تصور کیا ہے؟
۳۔ انانیت کیوں کر معرض ِوجود میں آتی ہے؟
۴۔شخصیت اور انانیت میں باہم کیا ربط ہے؟
….وغیرہ کے ذریعہ بات کو منقح کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ تحریر کرتے ہیں:
”انانیت کا فلسفہ اتنا ہی قدیم معلوم ہوتا ہے جتنا خود انسان،—- اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب انسان نے یہ سوچنا شروع کیا ہوگا کہ ’میں کیا ہوں؟یہ کائنات اور اس کی ہر جہت میں بسیط موجودات کیا ہیں؟ تو اس غور وخوض اور فکر کے نتیجے میں اسے اپنی ذات کا عرفان کما حقہ حاصل ہوا ہوگا۔بس خود شناسی کے اس اوّلین تجربہ ہی سے انسان کے دل میں انانیت کی داغ بیل بڑی ہوگی۔“(”گل صحرا“میں اعجاز وارثی کی انانیت،ص۲۴۱)
گویا جب ’انانیت‘ خالصتاً انسانی وصف ٹھہرا تو:

”جب انسان لاشعور کی منزل میں ہوتا ہے تو یہ وصف بالکل ابتدائی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔اس منزل میں انسان اشیائے کائنات سے حیرانی محسوس کرتا ہے اور اس کی انانیت ’خام بدم‘ سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔مگر لاشعور کی منزل سر کرکے شعور کی دہلیز پر قدم رکھ کر جیسے جیسے اس کا رخش ِ عمر آگے بڑھتا جاتاہے،اس کی انانیت پختہ ہوتی جاتی ہے،مگر ہنوز ’قوت ِ تام‘ حاصل نہیں کرپاتی۔قوت ِ تام کے حصول کے لیے کچھ داخلی و خارجی عوامل کی ضرورت ہوتی ہے،جو اسے خود اس کی فطری وبدیہی صلاحیت اور اس سماج کے نشیب و فراز سے ملتے ہیں،جس کی وہ لازمی اِکائی ہوتی ہے۔ان عوامل کی مدد سے انانیت تدریجی طور پر تکمیل کو پہنچتی ہے۔بالفاظ ِ دیگر یوں کہیے کہ انسان کے غور وفکر کی صلاحیت جب فن کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی تکمیل کا دم بھرتی ہے تو اسے اپنی تکمیل کا احساس بدرجہئ اتم ہونے لگتا ہے۔یہ احساس اِتنا تیز وتند ہوتا ہے کہ گوشت پوست کے محدود خول میں قید نہیں رہ پاتا اور بنا بریں فنون ِ لطیفہ کی مختلف اصناف میں اس کی تیزی اور تندی کی آواز بازگشت سنائی دینے لگتی ہے“۔ (گل صحرا میں اعجاز وارثی کی انانیت،:۴۴۱)
وہ مزید لکھتے ہیں:
” شخصیت جن اجزاء سے مل کر بنتی ہے،ان میں ایک جز اَنانیت بھی ہے۔یہ جز شخصیت کی گہرائیوں میں پنہاں ہوکر اپنی وحدت ختم کردیتا ہے،مگر نمو چوں کہ اس کی خاصیت ہے،اس لیے شدت ِ شوق اسے ظاہر کرنا چاہتی ہے۔اب یہ شخصیت کے ظرف پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس روپ میں ظاہر کرتی ہے۔ پختہ اَنانیت ہمیشہ ’کل‘ کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے۔لیکن بعض ظروف اَنانیت کی قوت ِ نمو اور شدت ِ شوق کے متحمل نہیں ہوپاتے اور اسے بے وقت یعنی نشووارتقاء کا سلسلہ ختم ہونے سے قبل ہی ظاہر کردیتے ہیں۔اَنانیت کے اس طرح ظاہر ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شخصیت،گھن گرج،غنائیت،بلند پروازی، تخریب اور تعلّی میں سے کوئی نہ کوئی پیرایہ اختیار کرلیتی ہے،جس میں خلوص کم اور تخریب زیادہ ہوتی ہے۔اَنانیت کے اس طرح ظاہر ہونے کو میں اس کا جزوی اظہارکہتا ہوں،جو فن کار کی ناپختہ اَنانیت کی دلیل ہے“۔ (گل صحرا میں اعجاز وارثی کی انانیت،ص۵۴۱۔۴۴۱)
اسی تناظر میں نظیف الرحمٰن سنبھلی نے غالبؔ،مولانا ابو الکلام آزاد کی تحریروں میں ’انانیت‘کی نشان دہی کی ہے اور ایک آدھ جگہ مولانا عبد الماجد دریابادی کے یہاں بھی اس کے عناصر تلاش کئے ہیں۔اس تمہیدی گفتگو کے بعداُنہوں نے اعجاز وارثی کے’’گل ِ صحرا‘‘سے اَنانیت کے عناصر یکجا کیے ہیں۔تحلیل ِنفسی پر مرتکز اُن کا یہ مضمون داخلی توانائی سے بھرپور ایک معیاری مضمون ہے۔
نظیف الرحمٰن سنبھلی بلاشبہہ سنبھل کی ادبی یافت اور بازیافت کے تناظر میں ایک مستند حوالہ ہیں۔اُنہوں نے اپنے مقالات اورمضامین میں سنبھل اور اہل سنبھل کو خوب برتا ہے۔اپنے استاذ دوست ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی سنبھل یافت وبازیافت کی روایت کو تحقیقی صحت کے ساتھ آگے بڑھایا ہے اور اردو تحقیق کوایک نئی فکر، نیا لب و لہجہ دیا ہے۔”فکر و احساس کی قندیلیں‘‘میں اُن کے ۵۳ مقالات اور تبصرے شامل ہیں۔جن میں مولانا محمد منظور نعمانی کا اسلوب ِ بیان،مولانا کریم بخش سنبھلی،مولانا محمود اسرائیلی سنبھلی،مولانا محمد حسن بدرؔ سنبھلی،سنبھل کی گذشتہ ادبی سرگرمیاں کلیتاً فرزندان ِسنبھل سے تعلق رکھتے ہیں۔حکیم محمد ایوب سنبھلی اور علامہ نیاز فتح پوری کا ایک دلچسپ مکالمہ،ڈاکٹر سعادت علی صدیقی —چند یادیں،’گل ِ صحرا‘ میں اعجاز وارثی کی انانیت،مولانا محب الحق مرحوم اوروجدان وغیرہ مضامین میں بھی سنبھل دھڑکتا ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ سنبھل ہے ہی ایسی سرزمین،جس پر جتنا لکھا جائے،جتنا پڑھاجائے کم ہے۔حفیظ نعمانی نے ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی سنبھل شناسی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اُنہوں نے اس تاریخی بستی کی لکھوری کی بنی ہوئی سیکڑوں عالی شان ویران شکستہ اور بوسیدہ عمارتوں کی ایک ایک اینٹ کا مطالعہ کیا ہے اور وہاں کی اینٹوں سے آنے والی علم کی خوشبوؤں سے اپنے جسم وروح کو معطر کیا ہے،کچھ یہی روش نظیف الرحمٰن سنبھلی نے بھی اختیار کی ہے اور اس طرح اپنے استاذ دوست کی روح کو بھی شاد کیا ہے۔
اس مجموعہ میں قدیم علمی قصبہ(اب شہر،ضلع)امروہہ کے اہل ِ قلم کی علمی فتوحات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔وہ تحریرکرتے ہیں:
”اس مجموعہ میں پانچ مضامین ایسے ہیں جو مولانا نسیم احمد فریدی ؒ کی نگارشات کے متعلق ہیں،جو واقعی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔انہیں شامل ِمجموعہ کرنے کی وجہ یہ رہی کہ مجھے مولانا کی شخصیت میں ایک روحانی کشش نظر آتی تھی اور ان سے بایں وجہ محبت بھی تھی۔اس لیے ان کی تحریروں پر مضامین قلم بند بھی ہوئے۔ان کے مطالعہ سے علمی و ادبی فائدہ کے علاوہ ہندوستان کی عظیم اسلامی شخصیتوں کے بارے میں بھی جان سکیں گے“۔ (اپنی بات:ص:۸۲)
مولانا نسیم احمد فریدی ؒکی علمی شخصیت کاتعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
” مولانا نسیم احمد فریدی امروہوی (متوفی:۸۸۹۱ء)ایک جامع الکمال بزرگ عالم دین اور ایک بہترین تذکرہ نگار،محقق،نقاد اور انشا پرداز تھے۔انہیں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ،ان کے خلفاء اور اس سلسلہ سے وابستہ دوسرے بزرگوں سے بڑی عقیدت و محبت تھی۔ان بزرگوں کے حالات وواقعات مولانا نے مختلف نگارشات میں لکھے ہیں۔سراج الہند شاہ عبد العزیز دہلویؒ،تذکرہ شاہ غلام علی دہلویؒ،تذکرہ شاہ ابو الرّضا دہلوی ؒ،تذکرہ شاہ عبد الرحیم دہلوی فاروقیؒ،مولانا کے قلم سے نکلے ہوئے علمی وادبی شاہکار ہیں۔مولانا کی یہ نگارشات پڑھئے،ذرا محسوس نہ ہوگا کہ آپ کوئی خشک اور غیر ادبی تحریر پڑھ رہے ہیں۔ جابجا آپ کو حسین ودل آویز زبان ملے گی،ادب وانشاء کے نمونے ملیں گے،خوب صورت فقروں اور جملوں سے مزین زبان سے آپ لطف اندوز ہوں گے۔عجب بات یہ ہے کہ مولانا طبعاً جتنے سادہ مزاج تھے،ان کی نثر میں اتنا ہی شکوہ،وقار اور رعنائی دیکھنے کو ملتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہر محب اپنے محبوب کا ذکر خوب سے خوب تر اور حسین سے حسین تر لفظوں میں کرانے کی خواہش وتمنا رکھتا ہے۔مولانا کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے کہ وہ بھی اپنے محبوب کا تذکرہ بڑی سج دھج سے کرتے ہیں،جس سے وہ خود بھی محظوظ ہوتے ہیں اور قاری کے لیے بھی لطف کا سامان مہیا کرتے ہیں“۔ (امروہہ کی ایک علمی شخصیت کے ادبی کمالات،ص:۱۳)
نظیف الرحمٰن سنبھلی نے جس والہانہ انداز میں صرف چند سطروں میں اپنے ممدوحؒ کا تعارف کرایا ہے،اس سے نہ صرف مولانا ممدوح کی شخصیت قاری پر واضح ہوجاتی ہے، بلکہ خود سنبھلیؔ کا ان سے تعلق اور شیتفگی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
مولانا نسیم احمد فریدی امروہوی مولانا ابو الکلام آزاد کے مداحوں میں رہے ہیں،لیکن ان کا تحقیقی مزاج خلاف ِ واقعہ باتوں کا متحمل نہیں ہوتا،چنانچہ جب مولانا آزاد کے انتقال کے معاً بعد مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی نے ’’آزاد ؔکی کہانی خود آزادؔ کی زبانی‘‘شائع کی تو اس کے بعض اندراجات علمی دنیا میں مختلف فیہ قرار پائے تھے۔اس بارے میں نظیف الرحمٰن سنبھلی لکھتے ہیں:
”ہماری معلومات میں سب سے پہلے مولانا نسیم احمد فریدیؒ نے اس کا بہ نظر ِ غائر مطالعہ کیا۔اس کتاب میں مولانا آزاد کے خاندانی پس منظر میں…..شیخ جمال الدینؒ،مولانا منور الدینؒ اور مولانا آزاد کے والد مولانا خیر الدینؒ کے جو حالات وواقعات بیان کئے گئے ہیں اور مولانا آزاد کے نانا کو شاہ ولی اللہؒ کے خاندان کا شاگرد بتایاگیا ہے نیز ’جامع مسجد کے مباحثہ‘ ’ڈولے کی رسم‘ اور ’نہر ِ زبیدہ‘ کی مرمّت وغیرہ میں مولانا خیر الدین اور مولانا منورالدین کے کردار کا مثبت طور پر تذکرہ کیا گیا ہے۔ایسے تمام حالات وواقعات کا مولانا فریدیؒ نے بڑی دقّت ِ نظر سے جائزہ لیا تھا اور جس کے نتیجہ میں مولانا کے قلم سے ایک مفصّل تبصرہ تیار ہوگیا۔“ (مولانا نسیم احمد فریدی کی ایک تحقیقی کاوش،ص:۰۵)
مولانا فریدی کا یہ تبصرہ ماہ نامہ’’الفرقان‘‘میں اس کے مدیرمولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کے ’نوٹ‘ کے ساتھ شائع ہوا تھا اور علمی حلقوں میں اس کی پذیرائی بھی ہوئی تھی۔اس حوالہ سے نظیف الرحمٰن سنبھلی لکھتے ہیں:
”بلاشبہہ مولانا نے تحقیق کا حق ادا کردیا ہے۔انہوں نے ’کہانی‘ میں درج بہت سے واقعات کو غلط اور بے اصل پایا ہے، مگر چونکہ ’کہانی‘ آزاد ؔکی زبانی بتائی گئی ہے،اس لیے مولانا آزاد پر لکھنے والے زیادہ تر اہل ِ قلم ان کے والد صاحب اور والد کے نانا مولانا منور الدین صاحب کے بارے میں وہی باتیں اور وہی واقعات دُہراتے رہتے ہیں،جو ’کہانی‘ بیان کرتی ہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مولانا آزاد کی شخصیت بہت ہی بھاری بھرکم اور علمی شخصیت ہے۔دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مولانا آزاد پر لکھنے والے، مولانا فریدیؒ کی تحقیق سے واقف ہی نہ ہوں۔مثال کے طور پرابو سعید بزمی صاحب کی کتاب ”مولانا ابو الکلام آزاد: تنقید وتبصرہ کی نگاہ میں“۹۵۹۱ء میں شائع ہوئی تھی۔اس میں ’’نہر ِ زبیدہ“کی مرمّت کو مولانا کے والد کا کارنامہ بتایا گیا ہے،جب کہ مولانا فریدیؒ نے ثابت کیا ہے کہ نہر ِ زبیدہ کی مرمّت مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی نے کرائی تھی۔در اصل بزمی صاحب نے مولانا عبد الرزاق صاحب کی تقلید میں اس واقعہ کو مولانا خیر الدین صاحب سے منسوب کردیا۔یاد رہے کہ مولانا عبد الرزاق صاحب کی کتاب بزمی صاحب سے پہلے شائع ہوئی تھی،زیادہ امکان ہے کہ بزمی صاحب کو ”الفرقان‘‘کے تبصرہ کا علم ہی نہ ہو“۔ (مولانا نسیم احمد فریدی کی ایک تحقیقی کاوش،ص:۲۵۔۱۵)
لیکن ملک زادہ منظورؔ احمد کے ساتھ اِس طرح کے’حسن ِ ظن‘سے کام لینا گویاعلم اور تحقیق،دونوں سے صرف ِ نظر کرنا اور مستقبل کے محقق کو راہ داری دینا ہوگا۔اس سلسلہ میں نظیف الرحمٰن سنبھلی کا ایک طویل اقتباس ہدیہئ قارئین ہے،جس میں ا ن کے تحقیقی مزاج اور فکری رویّے کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے،وہ لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر ملک زادہ منظورؔ صاحب نے بھی تو اپنے تحقیقی مقالہ”مولانا آزاد: فکر وفن کے آئینہ میں‘‘میں مولانا آزاد کے خاندانی بزرگوں…..شیخ جمال الدین ؒ،مولانا منور الدینؒ اور مولانا خیر الدینؒ صاحب وغیرہ سے وہی باتیں اور وہی واقعات منسوب کئے ہیں،جو مولانا عبد الرزاق صاحب ’آزاد کی زبانی‘ میں ہمیں بتاتے ہیں۔حالانکہ ڈاکٹر صاحب کے لیے موقع تھا کہ وہ تحقیق کا حق ادا کرتے،’الفرقان‘ ان کی دست رس سے دور نہ تھا،جب کہ وہ اپنے مقالہ کی تیاری میں ”الفرقان“کے ”شاہ ولی اللہ نمبر“سے بھی استفادہ کرچکے تھے۔اس لیے شبہ ہوتا ہے گہ”الفرقان“ کا وہ شمارہ جس میں مولانا فریدیؒ کا تبصرہ شائع ہوا تھا،وہ ملک زادہ صاحب کے علم میں رہا ہو،مگر اُنہوں نے مولانا آزاد کی عظمت کا لحاظ رکھتے ہوئے ’کہانی‘ کے بیان کردہ حالات وواقعات پر مولانا فریدیؒ کی تحقیق کو اہمیت نہ دی ہو“۔ (مولانا نسیم احمد فریدی کی ایک تحقیقی کاوش،ص:۲۵)
اس طرز ِ فکر اور منہج ِ تحقیق کے بارے میں نظیف الرحمٰن سنبھلی کسی لاگ لپٹ کے بغیر لکھتے ہیں:
” اسے تحقیق کا مثبت طریقہ نہیں کہا جاسکتا۔“ (مولانا نسیم احمد فریدی کی ایک تحقیقی کاوش،ص:۲۵)
مولانا نسیم احمد فریدیؒ کی تحقیق ”آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی‘‘پر تبصرہ کے بعد بھی مولانا ابو الکلام آزاد کے احوال و علمی آثار پرمتعدد کتابیں اور مقالات لکھے گئے،جن میں ہماری زبان‘دہلی کے ۵۱/اپریل ۶۸۹۱ ء کے شمارہ میں شائع مولانا فریدیؒ کے برادر زادہ ڈاکٹر نثار احمد فاروقی کا مضمون”مولانا آزاد کا خاندانی پس منظر“اور ”جامعہ‘‘نئی دہلی کی خصوصی اشاعت ماہ جولائی تا دسمبر ۹۹۹۱ء میں پروفیسر مشیر الحق کے انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ’’مولانا آزاد: حقائق اور قیاسات‘‘ازپروفیسر اختر الواسع کا ذکر یہاں ضروری ہے۔ثانی الذکر کے بارے میں نظیف الرحمٰن سنبھلی لکھتے ہیں:
”اس مضمون میں مشیر الحق صاحب نے ’آزاد کی کہانی‘ کے بعض اندراجات پر تحقیقی تنقید کی ہے،لیکن یہ تنقید مولانا فریدیؒ کے تبصرہ کے مقابلہ میں اجمالی نوعیت کی ہے۔مشیر الحق صاحب کی علمی حیثیت مسلّم،مگر اس میں شبہ ہے کہ انہوں نے مولانا فریدیؒ کی تحقیق سے استفادہ نہ کیا ہو،کیوں کہ ان کا مضمون بہت بعد کا ہے“۔ (مولانا نسیم احمد فریدی کی ایک تحقیقی کاوش،ص:۳۵۔۲۵)
اوّل الذکر یعنی ڈاکٹر نثار احمد فاروقی کے بارے میں نظیف الرحمٰن سنبھلی نے جو رائے قائم کی ہے،اس کی تائید میں ایک سواد ِ اعظم آسکتا ہے،وہ لکھتے ہیں:
”اس مضمون میں ’کہانی‘ کے بعض بیانات واندراجات پر تنقید کی گئی ہے۔مگر حوالہ کہیں بھی مولانا فریدیؒ کے تبصرہ کا نہیں دیا گیا۔حالانکہ اگر ڈاکٹر فاروقی صاحب ”الفرقان‘‘میں شائع شدہ مولانا فریدیؒ کے تبصرہ کا حوالہ دے دیتے تو اس سے خود اُن کے چچا(مولانا فریدیؒ)کا قد اُونچا ہوتا تھا،مگر ہمارے علمی حلقوں میں سب کچھ چلتا ہے“۔ (مولانا نسیم احمد فریدی کی ایک تحقیقی کاوش،ص:۳۵)
نظیف الرحمٰن سنبھلی مزید لکھتے ہیں:
” مولانا آزاد میرے ممدوح ہیں،لیکن مولانا فریدیؒ کے’تبصرہ‘کے نتیجہ میں ’آزاد کی کہانی‘ بروایت مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔اس لیے کہ مولانا آزاد کی بے پناہ علمیت،ان کی ذہانت اور ان کے حافظہ کے سب معترف ہیں ہی،پھر آخر وہ واقعات ’کہانی‘ میں کیسے در آئے جو مولانا فریدیؒ نے غلط ثابت کئے ہیں۔مولانا نسیم احمد فریدیؒ کا رقم کردہ تبصرہ محققین کو دعوت دیتا ہے کہ انہیں اس امر کی تحقیق کرنی چاہئے کہ کیا ’کہانی‘ کی اصلیت وہی ہے جو مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی ہمیں بتاتے ہیں یا کچھ اور؟“ (مولانا نسیم احمد فریدی کی ایک تحقیقی کاوش،ص:۳۵)
”فکر و احساس کی قندیلیں“میں ایک مضمون’’ہمفرے کے اعترافات! ایک جائزہ‘‘بھی بہت اہم ہے۔اس کو پڑھنے کی سفارش خود مقالہ نگار نے بھی کی ہے۔’ہمفرے کے اعترافات‘ اس کی ذاتی ڈائری بتائی جاتی ہے۔یہ سوال یقیناً ذہن میں آیا ہوگا کہ ہمفرے کون ہے؟ اور اس کی ڈائری کیوں کر اتنی اہم قرار پائی کہ جس پر گفتگو کی جارہی ہے؟ اس بارے میں نظیف الرحمٰن سنبھلی لکھتے ہیں:
”ہمفرے….ایک جاسوس تھا۔وہ برطانیہ کے نوآبادیاتی علاقوں کی وزارت میں ملازم تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانچ پڑتال کے سلسلہ میں اچھی کارکردگی نے اسے وزارت ِ خزانہ(کذا)میں ایک اچھے عہدہ پرفائز کیا گیا تھا۔اسے سلطنت ِ عثمانیہ کے زیر ِ نگیں علاقوں عراق،شام اور حجاز کے شہروں میں جاسوسی کے کام پر مامور کرکے بھیجا گیا“۔ (ہمفرے کے اعترافات! ایک جائزہ،ص:۰۹)
ہمفرے کی ڈائری دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران جرمن رسالے’’اسپیگل“ میں بالاقساط شائع ہوئی،اس کا عربی ترجمہ ایک لبنانی ادیب نے کیا،پھر اردو ترجمہ پاکستان کی ادبی رہ سے ہندوستان آیا اور یہاں ”سنّی دنیا“ رضا نگر،محلہ سوداگران،بریلی(اُتر پردیش)سے اس کی باز اشاعت ہوئی۔یہ کتاب عربی اور اردو میں کیوں منتقل کی گئی؟ اگر اس کے مندرجات سے آگہی فتنہئ مغرب سے تحفظ مقصود ہے،تواس کا خیر مقدم،لیکن اگر ایک جاسوس کے لکھے پر ایقان مطلوب تھا تو بے حد افسوس،۔اِس اشاعت کے پیش لفظ میں ماہنامہ’’سنّی دنیا‘‘کے ایڈیٹر عبد المنعم عزیزی لکھتے ہیں:
”پیش ِ نظر کتاب ایک برطانوی جاسوس مسٹر ہمفرے کی یاد داشتوں اور اس کے کارناموں کا مجموعہ ہے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ انگریز کس قدر عیّار ہیں اور اختلافات بین المسلمین کے کیسے کیسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں“۔ (ہمفرے کے اعترافات! ایک جائزہ،ص:۱۹)
اسی کے معاً بعد اس عیّار انگریز کی باتوں پر گویا یقین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اب یہ بھارت کے مسلمانوں کے مطالعہ کے لیے پہلی بار شائع کی جارہی ہے تاکہ فتنہئ نجد کے اصل خد وخال کودیکھیں کہ کس طرح برطانیہ اور حکومت ِ نجد کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دوسوسالہ پرانی سازش پروان چڑھی۔اس کتاب نے دنیائے وہابیت کو متزلزل کرکے رکھ دیا ہے“ (ہمفرے کے اعترافات! ایک جائزہ،ص:۱۹)
قابل ِ غور بات یہ ہے کہ کن محرکات کے باعث ہمارے یہ مرد ِ حُر ایک نشان زد’عیّار‘اور‘ اختلافات بین المسلمین‘ کے مجرم سے خیر کی توقع کربیٹھے؟ اس ڈائری میں ہمفرے کی شیخ محمد بن عبد الوہاب سے ملاقات اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ’فتنہئ نجد‘ کی بات کہی گئی ہے۔اس مضمون میں نظیف الرحمٰن سنبھلی نے علی رؤس الاشہاد اس ڈائری کے مندرجات کے تضادات کی نشان دہی کرکے اس کے حقیقی، واقعی اور افادی ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے،جو اُن کے تحقیقی ذہن کی غمازی کرتا ہے۔
”فکر واحساس کی قندیلیں‘‘میں شامل بعض مضامین کو نشان زد کرتے ہوئے حفیظ نعمانی لکھتے ہیں:
”کتاب کے مضامین میں میرزا مظہر جان جاناں اور آب ِ حیات، غالبؔ اور آزردہ ؔ، اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ اور’گل ِ صحرا‘میں انانیت،جیسے مضامین شاید نظیف میاں بھی نہ لکھتے اگر سعادت مرحوم سنبھل نہ جاتے اور وہ ہندو کالج،مراد آباد میں بی کام کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے جیسے کم علم کے لیے یہ معرکہ کے مضامین ہیں“۔ (مقدمہ،ص:۸۱)
بلاشبہ’’میرزا مظہر جان جاناں اور آب ِ حیات‘‘بے حد مطالعہ کے بعد لکھا گیا ایک تحقیقی مضمون ہے۔مولانامحمد حسین آزادؔ کی ”آبِ حیات‘‘شعرائے اردو کے تذکرہ پر ایک اہم دستاویز تصور کی جاتی ہے،لیکن دستاویزی سچائی یہ بھی ہے کہ اس میں غیر دستاویزی باتیں کچھ اس غیر ذمہ دارانہ اندازمیں شامل کی گئی ہیں کہ جس سے اس کی اہمیت اور معنویت متأثر ہوئے بغیر نہیں رہی۔ اس کتاب میں مولانا محمد حسین آزاد ؔنے ایسے ایسے حوالے وضع کیے ہیں اور اس دلیرانہ انداز سے کتاب میں شامل کیے ہیں،کہ ان پر سچ کا گمان گزرے،جب کہ وہ صریحاً خلاف ِ واقعہ ہیں۔انہوں نے متعدد شاعروں کے بارے میں غیر سچ باتیں لکھی ہیں اوراپنے زور ِ قلم جادو رقم سے انہیں سچ ثابت کرنا چاہا ہے،انہی شعراء میں میرزا مظہر جان جاناں بھی ہیں۔پہلے مولانا سید عبد الحئی کے ”گل ِ رعنا‘‘کے حوالہ سے مولانا محمد حسین آزاد کی اس کتاب کے بارے میں ایک اقتباس ملاحظہ کریں:
”اس کتاب کی مقبولیت کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جو غلط اور نادرست روایتیں مصنف کے جادو نگار قلم نے لکھ دی ہیں،وہ آج اردو کی انشا پردازی کے قالب میں روح کی طرح پیوست ہوگئی ہیں اور ضرب المثل کی طرح زبانوں پر چڑھ گئی ہیں،جس طرح اُقلیدس کے اصول ِ موضوعہ بے چوں چرا مانے جارہے ہیں،اسی طرح ان کو بے تکلف کام میں لایاجاتا ہے۔“ (گل ِرعنابحوالہ فکر واحساس کی قندیلیں،ص:۱۷۱)
اچھی بات یہ ہے کہ مولانامحمد حسین آزادؔ کی اس غیر علمی اور غیر صحیح روش پر داروگیر کا سلسلہ بھی کم وبیش اُسی دور سے شروع ہوگیا تھا۔بعد کے اَدوار میں تو مولانا سید عبد الحئی، مولانا حبیب الرحمٰن خاں شیروانی اور مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے آزاد کی ان خامیوں کی علی رؤس الاشہاد نشان دہی کی،بلکہ علمی محاسبہ بھی کیا۔نظیف الرحمٰن سنبھلی نے اپنے اس مضمون میں اسی صالح روایت کو آگے بڑھایا ہے اور مولانا محمد حسین آزادؔ نے میرزا مظہر جان جاناں کی شخصیت اور شاعری پرجو غیر سچ لکھا ہے،اس کی نشان دہی کی ہے اور نہ صرف آزادؔ کی اِس روش کو اُن کی ا حساس ِ کمتری پر محمول کیا ہے بلکہ ان میں ’کچھ اور‘بھی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ آزادؔ کی تحلیل ِ نفسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”وہ خود بھی کسی نہ کسی درجہ میرزا صاحب کی پُروقار شخصیت سے مرعوب تھے،لیکن مرعوبیت کی اس کیفیت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔نتیجہ ظاہر تھا،کتاب میں میرزا صاحب کو نشست تو مل گئی اور آب ِ حیات پی بھی لیا۔مگر صاحب ِ آب ِ حیات کے قلم سے ان کو حیات ِ جاوید نہ مل سکی۔آج لوگ اس کو اگر اختلاف ِ مذہب پر محمول نہ کریں تو پھر کیا کریں؟“ (میرزا مظہر جان جاناں اور آب ِ حیات،ص:۱۷۱)
کتاب میں شامل مضمون ’’کچھ رسوم ِ دہلی کے مقدمہ کے بارے میں“ بھی بے حد اہم ہے اور مضمون نگار کی فکر ِ صالح اورعلم التاریخ سے شعوری تعلق و آگہی کا غماز ہے۔’رسوم دہلی‘ مولوی سید احمد دہلوی کی تالیف ہے،جو ایک عرصہ سے کمیاب تھی،جسے اردو اکادمی،دہلی نے ترتیب دِلواکر ڈاکٹر خلیق انجم کے مقدمہ کے ساتھ ۶۸۹۱ء میں شائع کیا ہے۔اس کے مقدمہ میں ڈاکٹر خلیق انجم نے کچھ ایسی باتیں لکھ دیں جو نظیف الرحمٰن سنبھلی کے نزدیک خلاف ِ واقعہ اور تاریخی تناظر میں ’نادرست‘ ہیں،مثلاً:
(الف) خلفاء بنو اُمیّہ مسلمان ضرور تھے مگر ان میں مسلمانوں والی بات کوئی نہیں تھی۔“
(ب) بیشتر علماء ہمیشہ ہی سے مشترکہ کلچر کے خلاف رہے لیکن اس مخالفت کا پہلی بار منظم طور پراظہارحضرت سید احمد سرہندی مجدد الف ثانی سے ہوا۔
(ج) اس لیے مجدد الف ثانی کے تقریباً دو سو سال بعد سعودی عرب میں محمد عبد الوہاب نے غیر اسلامی رسم ورواج کے خلاف ایک تحریک شروع کی۔“ (بحوالہ کچھ ’رسوم ِ دہلی‘کے مقدمہ کے بارے میں،ص۲۲۱۔۱۲۱[
نظیف الرحمٰن سنبھلی نے مستند حوالوں سے ڈاکٹر خلیق انجم کی اس فکر اور اس تحریر کو غلط ثابت کردیا۔اوّل الذکر تحریر یعنی”الف“ پر قدغن لگاتے ہوئے مولوی محمد اسلم جیراج پوری کی کتاب ”تاریخ الامت‘‘حصّہ سوم،مطبوعہ ۳۲۹۱ء کے صفحہ ۲۳۵ میں ’عہد ِ بنو اُمیّہ میں مدنیت ِ اسلام‘ کے حوالہ سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں:
”بنی عباس چونکہ بنی اُمیّہ کے سخت ترین دشمن اور مخالف تھے اور ان کی خلافت کو مٹا کر جانشین ہوئے تھے،اس کی وجہ سے ان کے درباروں میں خلفاء ِ بنو اُمیّہ کے معائب میں مبالغہ کیا جاتا تھا اور ان کے کارناموں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی تھی نیز بعض فرقہ جو بنی اُمیّہ سے مذہبی عداوت رکھتے تھے وہ بھی ان کی برائیوں میں غلو کرتے تھے۔تاریخ کی کتابیں چونکہ دولت ِ عباسیّہ میں لکھی گئیں اس لیے بنی اُمیّہ کے متعلق وہ روایتیں جو ان کے دشمنوں یا خلفائے عباسیّہ کے تقرب کے لیے ان کے حاشیہ نشینوں نے تراشی تھیں،ان کتب میں درج ہوئیں۔اس لحاظ سے بنو اُمیّہ کی تاریخ یک طرفہ ہم تک پہنچی ہے“۔ (تاریخ الامت‘ حصّہ سوم، بحوالہ کچھ ’رسوم ِ دہلی‘کے مقدمہ کے بارے میں،ص:۲۲۲)
یہ اقتباس نقل کرنے کے بعد نظیف الرحمٰن سنبھلی نے ڈاکٹر خلیق انجم کے اس مقدمہ کے بعض اندراجات،مثلاً حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کو ’سید احمد سرہندی‘ لکھنے اور ’مجد الف ثانی کے تقریباً دوسوسال بعد سعودی عرب میں محمد بن عبد الوہاب کے غیر اسلامی رسم ورواج کے خلاف تحریک شروع کیے جانے کی غیردرست باتوں اور دعووں کو مسترد کیا ہے اور بڑے خوب صورت انداز میں ’محمد بن عبد الوہاب‘ لکھ کر ڈاکٹر خلیق انجم کی تحریر’محمد عبد الوہاب‘ کی تصحیح کی ہے۔
نظیف الرحمٰن سنبھلی کا مضمون ”مثنو ی زہر ِعشق—ایک مطالعہ‘‘بھی بوجوہ اہمیت کا حامل ہے۔میرزا شوقؔ لکھنوی کی یہ مثنوی اردو ادب ِ عالیہ کا شاہ کار تصور کی جاتی ہے،لیکن سنبھلیؔ نے اس پر جس نہج کے اعتراضات وارد کیے ہیں،ان سے صرف ِ نظرنہیں کیا جاسکتا،مثلاً وہ لکھتے ہیں:
”—-یہ بات بھی بعید از فہم ہے کہ ایک مشرقی خاتون اپنے بیٹے سے حسن وعشق کی معروف اصطلاحوں میں بات کرے۔شوقؔ نے ہیرو کی ماں کی زبانی جو کلمات ادا کرائے ہیں،وہ ایک سنجیدہ قاری کے ذہن پر کوئی اچھا اثر نہیں چھوڑتے“۔ (مثنو ی زہر ِعشق—ایک مطالعہ،ص:۴۸۱)
نظیف الرحمٰن سنبھلی کے اس طرز ِ نقد پر پروفیسر شارب رُدولوی لکھتے ہیں:
”اُنہوں نے مثنوی ”زہر ِ عشق‘‘پر بھی مضمون لکھا ہے،جو اُن کے جیسا مزاج رکھنے والے شخص کے لیے ایک مشکل کام تھا۔ اُنہوں نے تہذیبی لحاظ سے بعض باتوں پر اعتراض بھی کیا ہے،لیکن بڑی بات یہ ہے کہ اس کی زبان و بیان،سلاست وسادگی،منظر کشی اور حسن ِ تاثیر کی پوری داد دی ہے“۔ (پیش لفظ،ص:۲۱)
مضمون نگار نے ’زہرِ عشق‘ کے پلاٹ،کردار اور مکالموں پر بھی نقد کیا ہے،لکھتے ہیں:
”مثنوی کا قصّہ سیدھا سادا اور الم ناک ہے مگر شوقؔ نے قصّہ کا آغاز بڑے ہی پھسپھے انداز سے کیا ہے۔وہ ہیرو اور ہیروئن کو بہت جلد ملا دیتے ہیں،جس سے قصّہ میں خلا محسوس ہونے لگتا ہے،پھر ہیروئن کا خودکشی کرنا بھی کوئی فنکاری کی علامت نہیں ہے،بہتر ہوتا اگر دونوں کو فرار دکھایاجاتا،جیساکہ اکثر مثنوی نگاروں نے کیا ہے“۔ (مثنو ی زہر ِعشق—ایک مطالعہ،ص:۴۸۱)

مثنوی ”زہر عشق“کا لسانی اور تہذیبی تناظر میں جائزہ لے کر نظیف الرحمٰن سنبھلی نے نقدونظر کی ایک نئی روایت قائم کی ہے،جس کوصالحیت کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس کتاب میں شامل ایک مضمون ”لکھنؤ:کچھ ماضی کچھ حال میری نظر میں“ بھی اچھا مضمون ہے۔رضوان احمد فاروقی ایک البیلا اور منفرد اسلوب ِ بیان رکھتے ہیں،اُن کی یہ کتاب پچھلے دنوں میرے مطالعہ میں بھی رہی ہے،اس لیے اس کے بارے میں نظیف الرحمٰن سنبھلی نے جو رائے قائم کی ہے کم و بیش وہی رائے میری بھی ہے،مثلاً وہ اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:
”خود مصنف موصوف نے اس کتاب کو قلم برداشتہ تحریر سے تعبیر کیا ہے،مگر میرے خیال میں کتاب میں شامل شروع کی تحریروں کو ہی قلم برداشتہ کہا جاسکتا ہے،بعد والی تحریریں جو مشہور شخصیتوں،مصنفوں کے بارے میں ہیں،اس میں آورد صاف نظر آتا ہے۔پھر بھی اردو کے انشائی ادب میں ان تحریروں کو خواہ قلم برداشتہ کہا جائے یا نہیں،اپنا ایک مقام ہے،جس سے اس موضوع پر آئندہ جو بھی قلمی کاوش ہوگی،اس کتاب کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔“ (لکھنؤ کچھ ماضی کچھ حال‘میری نظر میں،ص:۸۱۲)
رضوان احمد فاروقی کی ادبی دیانت اور ان کے بے باک بیانیہ پر مبارک باد دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
”لائق ِ مبارک باد ہیں رضوان فاروقی کہ آج کے دور میں جب کہ ادب سستے داموں میں فروخت کیا جارہا ہے اور سچ اور جھوٹ کا امتیاز مٹتا جارہا ہے،اُنہوں نے ’’سچ کہوں گا،سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا‘‘ کا دعویٰ ٹھوک کر بڑے بڑوں کو اہل ِ علم کی عدالت میں لاکھڑا کیا ہے“۔ (لکھنؤ:کچھ ماضی کچھ حال‘میری نظر میں،ص:۰۲۲)
مختصر یہ کہ نظیف الرحمٰن سنبھلی کی’’فکر واحساس کی قندیلیں‘‘میں شامل بیشتر مقالات، مضامین اور تبصرے عمیق مطالعہ،غیر معمولی تحقیق اور علم التاریخ سے بے حد شغف کی غمازی کرتے ہیں اور بیشتر مراحل میں وہ اپنی علمی بصیرت سے اپنے قاری کو ورطہئ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔
اس کتاب میں پروفیسر شارب رُدولوی کا پیش لفظ،حفیظ نعمانی کا مقدمہ،ڈاکٹر عمیر منظر،رضوان احمد فاروقی اور ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی کی تأثراتی تحریریں اور مصنف ِ کی’’اپنی بات‘‘شامل ہے،جن سے صاحب ِ کتاب اورکتاب کی توقیت وتفہیم میں یقینا مدد ملتی ہے۔