ناپسندیدہ اور مبغوض ہے وہ شخص

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا* سے مرفوعا روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : *ابغض الرجال الی اللہ الالد الخصم*( بخاری و مسلم)
کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ ہے جو ضدی قسم کا جھگڑالو ہو ۔

ایک دوسری حدیث میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ نے فرمایا : *کفی بک اثما ان لا تزال مخاصما* ( ترمذی شریف)
ان دونوں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جھگڑالو ذہنیت اور ہمیشہ جھگڑتے رہنا یہ شریعت میں بہت ہی ناپسندہ عمل ہے اس کی سخت مذمت ہے ۔ ایسا شخص سماج اور سوسائٹی کے لئے مصیبت اور فتنہ ہوتا ہے، جس کو بس جھگڑا کرنے میں مزہ اور لطف آتا ہو۔ اور جو ہر وقت لوگوں سے بحث و مباحثہ قیل و قال اور جھگڑنے کے لئے آمادہ رہتا ہو ۔
جو شخص فتنہ و فساد اور جھگڑالو ذہنیت کا ہوتا ہے ایسا شخص کبھی چین اور سکون سے نہیں بیٹھ سکتا وہ ہر وقت اپنا ذہنی توازن کھوئے ہی رہتا ہے ۔ ایسے شخص سے خیر و بھلائ اور نفع کی امید و توقع نہیں کی جاسکتی ۔ ایسا شخص خدا کی نگاہ میں سب سے زیادہ مردود و مبغوض ہوتا ہے ۔ جو شخص ہمیشہ لڑتا جھگڑتا رہتا ہو گھر اور خاندان سماج اور معاشرہ کے لئے ہمیشہ جھگڑے اور فتنہ کا ذریعہ بنتا ہو، لوگ اس کے اس رویے سے ڈرتے رہتے ہوں ایسا شخص خواہ کسی اور گناہ میں ملوث ہو یا نہ ہو خدا کی نگاہ میں اس کے گنہگار ہونے کے لئے یہی ایک برائ بہت ہے کہ وہ جھگڑالو قسم کا آدمی ہے ۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے تین چیزیں ناپسند کی ہیں پہلی چیز جو اس نے ناپسند کی ہیں وہ ہے قیل وقال دوسری چیز ہے کثرت سوال خواہ مخواہ سوال کرنا جہاں پوچھنے اور سوال کی ضرورت نہ وہاں بھی سوالات و اعتراضات کرتے رہنا اور تیسری چیز ضیاع مال ہے ،یعنی مال کو بے مقصد و مصرف برباد کرنا ۔
(مسلم شریف )
قیل وقال لا حاصل باتیں اور بے معنی اور بے مقصد بحث و مباحثہ، جھگڑنا اور تکرار کرنا ،کسی بات میں کھود کرید اور حجت بازی یہ دین میں ناپسندہ عمل ہے ،یہ بگڑے ہوئے اور منفی ذہنیت کی علامت اور پہچان ہے ۔ ایسا شخص جو قیل وقال اور بحث و مباحثہ کا دلدادہ ہوتا ہے اسے اسی میں دلچسپی ہوتی ہے اور مزہ آتا ہے ۔ جب تک وہ بحث و مباحثہ اور تکرار نہیں کرلیتا دوسروں سے الجھ نہیں لیتا اس کو سکون نہیں ملتا اس کی قوت و توانائ کا بڑا حصہ اسی کے نذر ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اس کے یہاں غور و فکر اور گہرے سوچ و بچار اور سمع و طاعت کا جذبہ اور صلاحیت مجروح ہوکر رہ جاتا ہے ۔ اس میں ایک طرح کا کبر و گھمنڈ اور نخوت و تکبر پیدا ہوجاتا ہے اور وہ ہر کام میں عیب تلاش کرنے کو اپنی جیت اور فتح تصور کرتا ہے ۔ ایسا شخص اپنے لئے بھی نقصان دہ ہوتا ہے اور سماج و معاشرہ کے لئے بھی مضر ناسور اور درد سر بن جاتا ہے اور لوگ اس کتراتے اور پرہیز کرتے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں سے خدا را سامنا نہ ہوسکے ۔

یہ ایک روحانی اور اخلاقی بیماری ہے اس مرض اور بیماری میں مبتلا شخص کو چاہئے کہ وہ جلد کسی طبیب حاذق اور ماہر اور تجربہ کار حکیم سے رجوع کرےباور ان سے اپنی بیماری اور کیفت بتا کر نسخہ لکھوائےباور اسی حکیم و طبیب کے بتائے نسخے پر پابندی سے عمل کرے ۔ یعنی اہل اللہ اور علماء و صلحاء کے پاس جاکر اپنا صحیح علاج کرائیے ۔ اور اس میں جلدی کرے کیوں کہ یہ بیماری اور مرض متعدی ہے بہت جلد اس کے اثرات دوسروں تک متعدی ہو جاتے ہیں ۔
اللہ تعالٰی ہم سب کی ایسی منفی ذہنیت اور متعدی مرض و بیماری سے حفاظت فرمائیے آمین ۔
محمد قمرالزماں ندوی