میرے مربی میرے مہربان حضرت مولانا شفیق الرحمن ندویؒ

*بر صغیر ہندو پاک* کے دینی مدارس خاص طور پر تمام (مدارس نظامیہ) میں فقہ کی باقاعدہ پہلی نصابی کتاب *نور الایضاح* ہے جو داخل نصاب ہے ، یہ *ابو الاخلاص حسن بن عمار شرنبلالی* متوفی ۱۰۴۹ھج کی تصنیف ہے، بلا شبہ فن کی پہلی کتاب کے اعتبار اور حسن ترتیب کے اعتبار سے بھی اچھی کتاب ہے ،یہ خاص عبادات طہارت صلوۃ صوم زکوة اور حج کے احکام پر مشتمل ہے اور اس میں جزئیات و فروع کا بھی خاصا اہتمام ہے،احکام کی ترتیب بھی خوب ہے اگر چہ بعض مقامات پر مسائل کے نقل کرنے میں سہو ہوگیا ہے بعض جگہ سنن کو آداب یا آداب کو سنن کا درجہ دے دیا گیا ہے ۔ طہارت کے باب میں غسل اور استنجاء وغیرہ کے بہت سے مسائل بہت واضح اور کھلے لفظوں میں لکھے گئے ہیں اور اتفاق یہ کہ یہ کتاب فقہ کے بالکل ابتدائ اور کم عمر طلباء کو پڑھائ جاتی ہے ،اس لئے اس کی تشریح و توضیح میں اساتذہ کو بھی حجاب آتا ہے اور طلباء بھی حجاب محسوس کرتے ہیں ۔ اور بعید نہیں کہ اس کے اخلاقی اور نفسیاتی اثرات بھی طلباء قبول کرتے ہوں ۔

*حضرت مولانا علی میاں ندوی رح* بھی اس کتاب کی عظمت و اہمیت کے قائل تھے لیکن طلباء کی عمر (عمر مراہقت کی وجہ سے) اور نفیسات کے اعتبار اور غسل و طہارت کے بعض مسائل کے بالکل کھلے لفظوں میں ہونے کی وجہ سے اس کتاب کو پہلی نصابی کتاب کے اعتبار سے داخل نصاب کو مناسب نہیں خیال کرتے تھے ۔
حضرت مولانا رح اس کے لئے برابر فکر مند رہے کہ اس سے پہلے *فقہ* میں نصاب کے طور ایک ایسی کتاب لکھی جائے جس کی زبان آسان سہل سلیس اور رواں ہو اور جس میں بہت سے ان مسائل کو حذف کر دیا جائے جو طلباء کی عمر و سن کے اعتبار سے ان کے شایان شان نہیں ہے ۔ حضرت مولانا رح کو اس کام کا اس قدر احساس تھا کہ آپ نے خود یہ کام کرنا شروع کر دیا اور *دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنئو* کے ایک لائق و فائق استاد *مولانا نذر الحفیط صاحب ندوی* کو معاونت کے لئے منتخب کر لیا لیکن دیگر تصنیفی، تالیفی، علمی، ملی، اور دعوتی و تبلیغی مشغولیات کی وجہ سے یہ کام صرف آغاز تک ہی رہ گیا ۔ لیکن چونکہ آپ اس کام کو وقت کی ایک اہم ضرورت اور تقاضا خیال کرتے تھے اس لئے آپ نے ندوہ کے ایک دوسرے انتہائی کامیاب ، محنتی اور لائق استاد مولانا شفیق الرحمن ندوی کو اس کام کے لئے پابند بنایا اور ان کے سامنے کام کا نمونہ اور خطہ بھی پیش کردیا ۔ مولانا مرحوم نے بہت کم وقت میں اس اہم اور ضروری کام کو بہتر انداز میں پورا کر دیا ۔ اور *الفقہ المیسر* کے نام سے ایک وقیع کتاب منطر عام پر آگئ ۔ آپ نے اس کتاب کی تالیف میں اصل محور و مرکز اور مصدر *نور الایضاح* ہی کو بنایا اس کتاب کی بے شمار خصوصیات و امتیازات کی وجہ سے، پھر فقہ کی دیگر اہم کتابوں اور مراجع سے بھی استفادہ کیا ۔ ہر باب کے شروع میں اس باب کی مناسبت سے قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کے ذکر کا اہتمام کیا اور پھر آسان اور سہل زبان میں اس کی لغوی اور اصطلاحی و شرعی تعریف کے ذکر کا اہتمام کیا نیز جہاں جہاں نئے اوزان کی ذکر ضرورت پڑی وہاں اس کا ذکر کیا ۔احناف کے اختلافی مسائل کا ذکر نہ کرکے صرف مفتی بہ قول کو نقل کرنے کا ا ہتمام کیا۔
الغرض اس کتاب نے بڑی حد تک اس ضرورت کو پوری دیا جس کا خواب ندوہ کے بانیان اول مولانا سید محمد علی مونگیری اور علامہ شبلی نعمانی رح نے دیکھا تھا اور اصلاح نصاب کی جس سعی کی داغ بیل ڈالی تھی اور جس خواب کو مفکر اسلام *حضرت مولانا علی میاں ندوی رح* شرمنڈئہ تعبیر ہونا دیکھنا چاہتے تھے ۔

مشہور عالم دین اور صاحب قلم مولانا *محمد رضوان القاسمی رح سابق ناظم دار العلوم سبیل السلام حیدر آباد* اپنے ایک مضمون میں اس کتاب کی اہمیت اور فقہ کے نصاب تعلیم میں اس کو شامل کرنے کی ضرورت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
*یہ حال کی تصنیف ہے، جو دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنئو کے کہنہ مشق اور مقبول استاذ مولانا شفیق الرحمن ندوی کے قلم سے ہے اور ندوہ کے بانیان اول مولانا سید محمد علی مونگیری رح اور علامہ شبلی رح نے اصلاح نصاب کی جس سعی کی داغ بیل ڈالی اس کا ایک حصہ ہے، یہ نور الایضاح کا بدل ہے،عبادات کے احکام جمع کئے گئے ہیں، زبان نہایت رواں ،سہل و عام فہم ،طلباء کی عمر کے مطابق اور ترتیب عمدہ ہے احکام کا انتخاب بھی بڑی عمدگی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ کم سن طلباء کے لئے جن مسائل کی ضرورت نہیں اس کے ذکر یا بہت اظہار کے ساتھ ذکر سے گریز کیا گیا ہے ۔ اس بات کی مستحق ہے کہ داخل نصاب کی جائے ۔ مگر افسوس کہ فی زمانہ ذہنی تحفظات اور تنگنائیاں بعض مفید کتابوں کے قبول کئے جانے میں مانع ہو جاتی ہے* ۔ (فقہ اسلامی اصول خدمات اور تقاضے ص ۳۷۷)
مولانا ڈاکٹر حسنین احمد ندوی حال مقیم حیدر آباد اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

*ہندوستان کے دینی مدارس میں مبتدی طلبہ کے لئے فقہ کی پہلی کتاب کے طور پر نور الایضاح جو شیخ حسن بن عمار مصری کی تالیف ہے پڑھانے کا رواج ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ کتاب مبتدی طلبہ کے لئے بہترین کتاب ہے ،لیکن پھر بھی اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ نور الایضاح کے طرز پر ایک نئ کتاب مرتب کی جائے،جس میں ان مسائل کو بھی شامل کیا جائے جو بعد کی پیداوار ہیں جیسے ریل اور ہوائ جہاز میں نماز ،اسی طرح قدیم اوزان کی تشریح، جدید اوزان میں ۔ الفقہ المیسر جسے مولانا شفیق الرحمٰن ندوی نے ترتیب دیا ہے ،اس ضرورت کو بہت حد تک پورا کر دیا ہے۔ یہ کتاب جو قسم العبادات پر مشتمل ہے ،اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر بحث کا آغاز اس سے متعلق آیات و احادیث سے کیا گیا ہے اور فقہی اختلافات کو ذکر کرنے کے بجائے فقہ حنفی کے صرف مفتی بہ اقوال کو نقل کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب ندوۃ العلماء لکھنئو سے طبع ہوئ ہے ۔ اور مبتدی طلبہ کے لئے بہت مناسب ہے*

*نوٹ باقی کسی اور دن کے پیغام میں*
ارادہ تھا کہ وقفہ وقفہ سے اس سلسلہ کو پورا کروں گا لیکن بعض لوگوں اور ساتھیوں کے اصرار پر آج اس مضمون کی ساتویں قسط لکھ رہا ہوں اگلی قسط کا انتظار کل نہیں کرکے کسی اور دن کریں گے ۔ سہولت کے اعتبار حسب وعدہ میں اپنے تمام اساتذہ کے بارے میں ان شاءاللہ تعالی کچھ نہ کچھ لکھوں گا آپ حضرات دعا فرماتے رہیں ۔
محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اپنا تبصرہ بھیجیں