میرے مربی میرے مہربان مولانا شفیق الرحمن ندوی ؒ

کل کے پیغام میں راقم الحروف نے مدارس ملحقہ اور استاد محترم مولانا شفیق الرحمن ندویؒ کی خدمات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا تھا اور ان کی خدمات اور تنظیمی صلاحیتوں پر خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کیا تھا ۔

آج مزید کچھ باتیں مدارس ملحقہ کے حوالے سے ہی پیش کرتے ہیں جس میں طنز و مزاح کی لطیف آمیزش بھی ہے اور عبرت و نصیحت کے انبار بھی ۔
میں نے اوپر ذکر کیا تھا کہ مولانا کم سخن کم آمیز ضرور تھے لیکن زاہد خشک نہ تھے طبیعت میں ظرافت اور شگفتہ مزاجی بھی تھی اور کبھی یہ رگ ظرافت پھڑکتی اور بھڑکتی تو حاضرین مجلس کھل کھلا اٹھتے،اور مجلس ،مجلس زعفران بن جاتی۔
ایک واقعہ مختلف لوگوں نے مولانا مرحوم کے حوالے سے سنایا خود مولانا کے بڑے صاحبزادے طارق شفیق بھائ( لیکچرر میاں صاحب اسلامیہ انٹر کالج گھورکھ پور یو پی) نے بھی متعدد بار سنایا کہ ایک موقع پر ایک مدرسہ کے منتظم و ذمہ دار تشریف لائے اور انہوں نے مولانا مرحوم سے مطالبہ کیا کہ حضرت ! ہمیں دو باصلاحیت، تجربہ کار، اور محنتی استاد کی ضرورت ہے جن کے اندر یہ خوبیاں ہوں کہ استعداد کامل اور پختہ ہو ذہین و باصلاحیت ہو تقریری اور تحریری صلاحیت بھی بھر پور ہو اور مزید یہ کہ مدرسہ کے لئے مالی حصولیابی کے کام کو بھی اچھے انداز میں انجام دے سکتا ہو کم سے کم اتنا تو کر ہی سکتا ہو کہ تنخواہوں اور مطبخ کا انتظام ہوسکے، مولانا خاموشی سے اس ذمہ دار مدرسہ کی باتیں شرائط اور لن ترانیاں سنتے رہے اور جب وہ صاحب اپنی گفتگو سے فارغ ہوگئے تو پھر مولانا مرحوم کچھ دیر خاموش رہے اور پھر گویا ہوئے جی جناب میں نے آپ کے شرائط اور مطلوبہ اوصاف پر غور کیا ان شرائط اور مطلوبہ اوصاف پر دو لوگ ہیں جو بالکل کھرے اترتے ہیں ان میں وہ تمام صلاحیتیں،استعداد اور اوصاف ہیں جو آپ چاہتے ہیں وہ ہر اعتبار آپ کے ادارے کے لئے مفید ہوں گے ایک تو مولانا سلمان حسینی صاحب ندوی ہیں اور دوسرے مولانا خالد غازی پوری صاحب ندوی،آپ ان دونوں سے ملیں اور اپنے مدرسہ میں خدمت کے لئے بات کریں مجھ سے قدمے سخنے جو کچھ ہوسکے گا مدد کروں گا اور ضرورت پڑی تو بات بھی کروں گا ،سامنے والا شرمندہ سا اور لا جواب ہوگیا ۔

آج اکثر مدارس کے ذمہ داروں کا معاملہ یہی ہے کہ ان کے شرائط اور معیار تو اتنے اعلی اور بلند ہوتے ہیں کہ گنے چنے ہی لوگ اس معیار اور مطلوبہ اوصاف پر کھرے اتر سکیں گے لیکن جب ان سے یہ معلوم کریں گے کہ تنخواہ کیا ہوگی تو جواب ملے گا وہی سات سے آٹھ ہزار اور اس زیادہ دے ہی کیا سکتے ہیں ہم لوگ ۔
مولانا مرحوم کو اس سلسلہ میں نے متعدد موقع پر فکر مند پایا مجھ سے بھی ایک دو بار گھریلو حالات اور تنخواہ کے بارے میں سوال کیا جب میں نے اپنی تنخواہ بتائ تو حیرت کرنے لگے کہ بس اتنی ہی تنخواہ پہنچی ہے اب تک ، جب کہ وہاں تو اسباب و وسائل بھی ہیں ۔ میں خاموش ہوگیا ۔ مولانا مرحوم کو یہ احساس تھا کہ اساتذہ اور علماء کرام بے لوث خدمت انجام دیں اور اجرت سے زیادہ اجر پر نظر رکھیں لیکن ان کی بھی تو کچھ ذمہ داری ہے جو ان اساتذہ کو صرف خلوص اور للہیت کی دعوت دیتے ہیں اور یہ نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ
جس کو جان و دل عزیز
وہ اس گلی میں جائے کیوں

مولانا مرحوم چاہتے تھے کہ اساتذہ کرام کی خواہشات زمہ داران پوری نہ کریں لیکن ان کی ضروریات کی کفالت اور رہنے کا انتظام تو ضرور کریں،تاکہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اپنی نگرانی میں کرسکیں ۔
آج کتنی اچھی اچھی صلاحیت اور استعداد کے مالک فارغین مدارس خلیجی ملکوں میں دفاتر میں منشی اور کلرک ہیں، گاڑیوں کے ڈرائیور ہیں اور پٹرول پمپ پر پٹرول بھرنے کا کام کرتے ہین ۔ اور اس طرح ان کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں ۔
ایک موقع پر مولانا مرحوم پر بے چینی، قلق اور اضطراب کی کیفیت طاری ہوگئ جب ایک مدرسہ کے ایک انتہائی باصلاحیت استاد جو لکھنئو کے قریب ہی ایک بڑی شاخ میں اونچی اور معیاری کتابیں پڑھاتے تھے انہوں نے مولانا مرحوم سے تذکرہ کیا کہ مولانا!

میرے مدرسہ میں باورچی کی تنخواہ سات سو روپئے ہے اور میں سنئر استاد ہوں میری تنخواہ ابھی پانچ سو روپئیے ہیں اور جب میں نے ذمہ دار سے اس بارے میں گفتگو کی تو انہوں نے کہا کیا کروں مجبوری ہے باورچی بڑی مشکل سے مل پاتا ہے اساتذہ آسانی سے مل جاتے ہیں ۔ ایک دن باورچی کے نہ رہنے سے پورے مدرسہ کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے ۔ مولانا مرحوم اس گفتگو کو سن کر ایک طرح سے آبدیدہ ہوگئے اور یہ بھی فرمایا کہ ذمہ داروں کے سامنے بھی یہ مجبوری ہے ۔

*نوٹ باقی کل کے پیغام میں*

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اپنا تبصرہ بھیجیں