میرے مربی میرے مہربان مولانا شفیق الرحمن ندوی رح

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

دوسری قسط

دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو کے جن اساتذہ کرام کو ندوہ آنے سے پہلے ہی سے میں جانتا تھا اور ان سے متعارف تھا اور وہ بھی ہمیں جانتے تھے ان میں میں مولانا شفیق الرحمن ندوی رح بھی تھے سن ستاسی کی بات ہے ضیاء العلوم میدان پور تکیہ کلاں رائے بریلی سے عربی اول پڑھنے کے بعد بعض مجبوری کی بناء پر عربی دوم پڑھے بغیر مدرسہ انوار الاسلام مادھو پور سیوان میں میرا داخلہ عربی سوم میں کرا دیا گیا اور اس داخلہ کا ذریعہ خال مکرم مولانا ریاض احمد ندوی تھے اور انہوں گویا ایک طرح سے دباؤ بنا کر اور زور دیکر مولانا مطیع الرحمٰن ندوی سے کہہ سن کر میرا داخلہ مطلوبہ درجہ میں کروا دیا جب کہ سچائ یہی تھی کہ میں اس درجہ کے لائق نہیں تھا کتاب الصرف اور کتاب النحو اور ادب کی کتاب پڑھے بغیر ثانویہ رابعہ کا کلاس پڑھنا میرے لئے لوہے کے چنے چبانے کے مترادف تھا بہت محنت اور مشکل سے اس مرحلے کو میں نے طے کیا کلاس کے لڑکے بھی مجھ پر طنز کرتے تھے کہ سفارش کی بنیاد پر اس درجہ میں داخلہ کرولئے ہو، میں چپ رہتا اور کوئ جواب نہیں دیتا ۔ آج اکثر مدرسوں میں یہی ہو رہا ہے کہ لوگ زور اور دباو بنا کر اپنے ساتھیوں اور معاصر سے سفارش کرکے اوپر درجہ میں طلباء داخلہ کروا دیتے ہیں اور بعد میں وہ بچے صلاحیت کے اعتبار سے کمزور رہتے ہیں اور درجہ میں بھی فسڈی رہتے ہیں خود میرا شمار بھی انہی طلباء میی ہے یہ الگ بات ہے کہ کمال دانائ اور چالاکی سے اپنے اس عیب کو چھپائے ہوا ہوں اور ہر وقت ڈرا اور سہما رہتا بوں کہ ایسا نہ ہوجائے کہ

بھرم کھل جائے گا عاجز تیری نغمہ سرائی کا
اگر ارباب فن کے سامنے تیرا کلام آیا ۔

آج مدراس کے ذمہ داروں کو اور طلباء کے سرپرستوں کو ان باتوں پر سخت دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔ سیوان کے مدرسہ میں داخلہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ اس مدرسہ کے ناظم حضرت مولانا شفیق الرحمن ندوی صاحب ہیں اور جو فقہ کی کتاب الفقہ المیسر جو درجہ میں پڑھائی جارہی ہے اس کتاب کے مصنف بھی مولانا ہی ہیں ۔

مولانا ایسے ویسے ناظم نہیں تھے بلکہ وہاں کی تمام سرگرمیوں اور ںظام تعلیم پر پوری نظر رکھتے تھے اتفاق ایسا ہوا کہ اس سال مولانا مرحوم کا تین مرتبہ ندوہ سے مدرسہ میں آنا ہوا جن میں سے ایک موقع تھا سالانہ پروگرام کا جس میں حضرت قاری صدیق صاحب رح تشریف لائے تھے اور ندوہ سے کئ اہم اساتذہ اور خاص طور پر مولانا محمد مرتضی صاحب مظاہری تشریف لائے تھے ۔ اس مدرسہ کے بانیوں میں مولانا محمد جعفر صاحب رح جو حضرت سید احمد شہید رح کے قافلے میں تھے ان کا یہاں قیام ہوا تھا اور وہ قافلہ یہاں سے گزرا تھا اس نسبت سے مولانا مرتضی رح اس مدرسہ سے خاص تعلق رکھتے تھے اور حضرت قاری صاحب رح کے وہ ہم سبق بھی تھے اس لئے خاص طور پر اس جلسہ میں تشریف لائے تھے بہت بڑا پروگرام ہوا تھا اگر حافظہ خطا نہ کر رہا ہو تو یاد پڑتا کہ اس پروگرام میں حضرت امیر شریعت مولانا عبد الرحمن صاحب جو شاید اس وقت نائب امیر شریعت تھے وہ بھی تشریف لائے تھے اور مولانا اقبال صاحب مظاہری عبد الغفور صاحب سابق وزیر اعلی بہار اور بھی بہت سے اہم لوگ اس پروگرام میں تشریف لائے تھے بہت کامیاب جلسہ ہوا تھا اس کامیابی کے پیچھے حضرت مولانا مرحوم کی محنت دعائے نیم شبی اور ان کے خلوص کا بڑا دخل تھا مولانا قیام الدین اشرف جو گھورکھ پور ریلوے اسٹیشن میں اہم عہدے پر تھے مدرسہ کے اہم منتظم تھے وہ مولانا سے ملنے بار بار لکھنئو جاتے اور پروگرام کے سلسلہ میں صلاح و مشورہ کرتے تھے میں بہت ہی چھوٹا تھا لیکن مجھے بھی اہم علماء کرام کی خدمت کرنے والے گروپ میں شامل کیا گیا تھا مجھے یاد ہے کہ عشاء کی نماز سے نصف گھنٹہ پہلے جب مولانا مرحوم قاری صدیق صاحب رح کو لےکر آئے تو حضرت قاری صاحب اتنے تھکے ہوئے تھے کہ مولانا شفیق الرحمان ندوی رح نے ہم طلباء کو اشارہ کیا کہ حضرت کے پاوں دباو اور مالش کرو

ہم طلباء نے پیر دبانا شروع کیا، قاری صاحب رح فرماتے بیٹا ! اور زور سے پوری طاقت سے اور قاری صاحب رح مستقل اچھی اچھی باتیں سناتے رہے اور دعائیں دیتے رہے۔ مولانا شفیق الرحمان ندوی صاحب میری فعالیت سے بہت خوش ہوئے اور مولانا سے تعارف ہوا اور میں نے جب اپنے مامو جان مولانا ریاض احمد ندوی کے حوالہ سے اپنا تعارف کرایا تو یہ اخیر تک کام آیا اور مولانا سے تعلق اور وابستگی بڑھتی ہی رہی اور جب ندوہ سالانہ امتحان دینے کے لئے آیا تو مولانا بہت محبت سے ملے اور پھر تو مولانا تاحیات میرے مربی اور سرپرست رہے ۔ دوران قیام ندوہ مولانا سے خاص طور پر عصر کی نماز کے بعد ملتا اس زمانے میں مولانا شہباز صاحب سے بھی عصر کے بعد ملنے کا معول تھا وہ کنویں پر بیٹھے ہوتے اور ہم لوگ کھڑے کھڑے ان سے سوالات کرتے رہتے تھے ۔

مولانا شفیق الرحمن ندوی صاحب رح کی رہنمائی اور ان کی تربیتی انداز کے سلسلہ میں مزید باتیں کل کے پیغام میں ان شاءاللہ تعالی پیش کروں گا ۔

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ