میرے مربی، میرے مہربان مولانا شفیق الرحمن ندوی رح

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

میرے وہ قارئین جو میرے پیغام کو حرفا حرفا پڑھتے ہیں اور اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں یا موضوعات و عناوین کی طرف اشارہ اور توجہ دلاتے رہتے ہیں ان میں ایک اہم نام (بلکہ بعض اعتبار سے سر فہرست نام) ڈاکٹر سعید الرحمٰن فیضی ندوی صاحب مقیم کناڈا کا ہے، وہ براربر نئے موضوعات و عناوین کی طرف رہنمائی کرتے رہتے ہیں گزشتہ دنوں غائبا ۱۷ یا ۱۸ فروری کو جب ان سے لکھنئو میں تفصیلی ملاقات ہوئ تو انہوں نے مشورہ بلکہ ایک طرح سے حکم دیا کہ ہفتہ میں ایک دن اہم شخصیات اور اساتذہ میں سے کسی ایک پر لکھوں اور دیدہ شنیدہ اور خواندہ کو قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کروں ۔ اور یہ مضمون مقالات کے انداز میں نہ ہو بلکہ تاثراتی انداز کا ہو تاکہ قارئین کو اکتاہٹ نہ ہو اور ان کے شوق،دلچسپی اور امنگ میں کمی نہ آنے پائے ۔ فیضی صاحب نے اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : کہ سال میں تقریبا ۵۵ ہفتے ہوتے ہیں اس طرح پچپن شخصیات کا مختصر تعارف، تذکرہ اور خاکہ سال بھر میں سامنے آجائے گا ،تو ایک اہم کام ہوجائے گا اور جدید نسل قدیم کے کارناموں سے واقف ہوجائیں گے ، بالفاظ دیگر خلف کے لئے سلف کے کارنامے مہمیز ثابت ہوں گے اور ان کے اندر بھی کچھ کر گزرنے کا حوصلہ اور جذبہ پیدا ہو گا ۔ انہیں کے اشارے،حوصلے اور مشورے پر عمل کرتے ہوئے یہ پروگرام اور ارداہ بنایا ہے کہ ہفتہ میں ایک یا کبھی دو دن شخصیات میں سے کسی شخصیت پر لکھوں گا گزشتہ سے پیوستہ پیر (سوموار) کو میں نے ایک قدیم ندوی فاضل (مولانا ابو الجلال ندوی رح) جو خود حلقئہ ندوہ کے لئے بھی اجنبی اور گمنام تھے ان کا تعارف اور تذکرہ کیا تھا ۔ اور یکم اپریل کو حافظ عظیم اللہ رائے بریلوی رح کا ذکر خیر بھی اسی جذبہ سے کیا گیا تھا ۔
آج ہم اپنے ایک انتہائی مہربان مخلص استاد و مربی کا تذکرہ کر رہے ہیں جنہوں نے میرے لئے رہنما خطوط طے کئے اور غیر مناسب اور غیر مستحکم جگہ اور شعبے کو اختیار کرنے سے منع کیا ۔ اس سے مراد حضرت مولانا شفیق الرحمان ندوی رح ہیں ۔ جو میرے ایسے مربی محسن اور استاد ہیں جن کے احسانات اور مفید مشوروں کو کبھی بھلا نہیں سکتا، جن کی یادوں کے نقوش کبھی مٹ نہیں سکتے اور جن کے ہدایات اور رہنمائیوں کو کبھی فراموش نہیں جاسکتا ۔

اہل علم جب کبھی کسی شخصیت کا تذکرہ کرتے ہیں یا ان کی زندگی اور سوانح پر کچھ لکھتے ہیں تو سوانح کے تذکرے سے پہلے ماحول علاقہ اور پیدائش اور خاندان کا تذکرہ کرتے ہیں لیکن ہم خلاف قیاس حضرت مولانا شفیق الرحمان ندوی رح کا تذکرہ اور ذکر خیر ان کی وفات سے کرتے ہیں ۔
مولانا کی وفات کا واقعہ دوشنبہ ا۳/ ربیع الثانی مطابق ۲۲ / جون ۲۰۰۲ء کو ان دنوں پیش آیا جب دار العلوم ندوة العلماء میں گرمیوں کی تعطیل کا زمانہ تھا لیکن جنازہ میں شرکت کرنے والوں نے بتایا کہ تب بھی جنازے میں زبردست بھیڑ تھی ۔ سوء اتفاق ان دنوں خاکسار بھی گرمی کی چھٹی کی وجہ سے اپنے وطن مالوف میں تھا،اخبارات اور فون کے ذریعے حضرت استاد رح کی وفات کی اطلاع ملی، مسافت کی وجہ سے جنازہ میں شرکت کی کوئ صورت اور سبیل نہیں تھی ۔ مرحوم استاد کے بڑے صاحبزادے جن سے خود میرے گہرے روابط ہیں (بلکہ ان کے کافی سنئر ہونے کے باوجود ان سے بے تکلفی اور دوستانہ ہے) ان سے فون پر تعزیت (پیش) کی، گلو گیر ہوکر تسلی کے کلمات کہے اور مرحوم کے بعض محاسن اور خوبیوں کا تذکرہ کیا ۔
گھر سے واپس آنے کے بعد ایک رات حضرت استاد محترم رح کو خواب میں دیکھا کہ میں ندوہ گیا ہوں اور عصر کی نماز پڑھنے کے بعد جب مسجد کے صحن کی طرف آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مولانا صحن میں مشرق کی طرف رخ کئے حسب معمول کھڑے ہیں میں حیرت اور استعجاب کے عالم میں قریب پہنچا سلام کیا اور عرض کیا کہ حضرت آپ تو انتقال کر گئے ہیں پورے ہندوستان میں اور جہاں جہاں آپ کے جاننے والے ہیں سب کو اس کی اطلاع کردی گئ اخبارات و رسائل اور پرچوں میں آپ کی وفات کی خبریں ہیں اور آپکی زندگی پر مضامین ہیں مولانا مرحوم مسکرانے لگے اور فرمایا: نہیں بیٹا ! میں تو زندہ ہوں تم تو خود ہی دیکھ رہے ہو ہاں پیر اور گھٹنے میں تھوڑتی تکلیف بڑھ گئ تھی لیکن میں اب بالکل ٹھیک ہوں ۔ پھر کنڈہ مدرسہ اور وہاں کے تعلیمی حالات کے بارے میں کچھ دریافت فرمایا ۔

جب فجر سے پہلے نیند کھلی تو طبعیت کو بہت ہشاش بشاش پایا اور عجیب کیفیت اپنے اندر محسوس کیا۔ خیال آیا کہ اس خواب کا تذکرہ اپنے مخلص اور مہربان بھائ طارق شفیق صاحب سے کروں، دل میں بار بار یہ تقاضا آرہا تھا ۔ پھر ان کو فون پر یہ خواب سنایا اور عرض کیا کہ امی جان کو بھی سنا دیں ۔
اس خواب کی تعبیر آپ قارئین باتمکین ! خود نکال سکتے ہیں کیونکہ آپ میں اکثر اہل علم و فضل اور صاحب تقوی و طہارت ہیں ۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے اس خواب کا تذکرہ سوائے طارق بھائ اور بعض اپنے انتہائی قریبی رفقاء اور شاگردوں کے جو کہ اب خود موقر استاد ہیں کنہیں اور کے سامنے بیان نہیں کیا۔ خواب کا مسئلہ یہ کہ بہت سے لوگ اس کو بیان کرنے میں غلو اور افراط و تفریط سے کام لینے لگتے ہیں اور پھر بسا اوقات اس سے فتنے کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بات کہیں اور تک پہنچ جاتی ہے ۔ اس لئے اسلامی تعلیم یہی ہے کہ خوابوں کی زیادہ تشہیر نہ کی جائے ہر رطب و یابس کے سامنے اس کا تذکرہ نہ کیا جائے بس صاحب صلاح و تقوی اور نیک لوگوں سے اس کی تعبیر معلوم کرلی جائے ۔ عموما خواب وغیرہ خیالات و افکار دن رات کی بھاگ دوڑ اور انسان کی ذہنیت اور سوچ کا حاصل نتیجہ اور عکس ہوتے ہیں انسان جیسا کچھ سوچتا ہے اسی طرح وہ خواب بھی دیکھتا ہے ۔ بعض خواب بلکل سچ ہوتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو یہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور نبوت و رسالت میں سے کوئ چیز بچی نہیں ہے سوائے خواب کے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لم یبق من النبوة الا المبشرات قالوا : وما المبشرات یا رسول اللہ! قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم : الروئیاء الصالحة
نبوت و رسالت کی چیزوں میں سے سوائے مبشرات کےاب کوئ چیز باقی نہیں ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا یہ مبشرات کیا ہیں؟ اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچے خواب ۔

میں نے اس خواب کی تعبیر یہ سمجھی کہ اللہ تعالی نے مولانا کو زبان اور نگاہ کی حفاظت کی بناء پر جنت کا حق دار اور مستحق بنا دیا ہے کیوں کہ مولانا مرحوم میں یہ دو خوبیاں بدرجہ اتم پائ جاتی تھیں اور جن کو اپنانے پر حدیث شریف میں جنت کی بشارت سنائ گئ ہے ۔ میں نے مولانا مرحوم کو ہمیشہ نگاہیں نیچی کئے ہوئے پایا اور کبھی فضول اور لا یعنی باتیں کرتے نہیں سنا ۔ مولانا انتہائی اصولی ، صاحب صلاح و تقوی، نظام و ضابطہ کے پابند مخلص اور بے ضرر انسان تھے ۔

نوٹ باقی کل کے پیغام میں، دیدہ شنیدہ اور خواندہ کا تذکرہ کریں گے آپ اپنی آراء اور مشوروں سے نوازتے رہیں

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ