میرے مربی میرے مہربان مولانا شفیق الرحمن ندوی رحمتہ اللہ

تیسری قسط

حضرت مولانا شفیق الرحمن صاحب ندوی رح سے متعلق دیدہ، شنیدہ اور خواندہ بہت کچھ باتیں اور تاثرات و معلومات اور ان کی زندگی کے دیگر اہم پہلو اور گوشے پر مزید تفصیلات سے قارئین کو واقف کرانے سے پہلو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سرگزشت حیات کے بارے میں پہلے کچھ اور لکھ دوں ۔
بہار کی سر زمین دینی، مذھبی، علمی، ادبی، تہذیبی، اور ثقافتی اعتبار سے ہر دور میں ممتاز اور نمایاں رہی ہے یہاں کے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں کے لوگ محنتی، ہمتی اور جفاکش ہوتے ہیں اور یہاں کی زمیں مردم خیز ہے ۔

یہ صوفیاء علماء، اہل علم اور سادھو سنتوں کی زمین بھی ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں کی زمین جہاں ایک طرف مردم خیز ہے وہیں دوسری طرف مردم خور بھی ہے، بڑی بڑی شخصیتوں،جنیس ہستیوں اور عبقری علماء کو یہاں کی زمین نے اس طرح ھضم کرلیا اور گوشئہ گمنامی میں ڈال دیا کہ علاقہ اور اطراف کے لوگوں میں بھی وہ اپنی شہرت،شناخت، نیک نامی، مقام و مرتبہ ،وقار و اعتماد ، مقبولیت،پہچان اور رتبہ و مقام حاصل نہ کر سکے یہاں کی خمیر کی عمومی تاثیر اور خاصیت یہ ہے کہ اس خطے کی خمیر سے ذہین اور عبقری شخصیتیں جنم تو لیتی ہیں لیکن بایں ہمہ وجوہ وہ ان شخصیتوں کے حسن و نکھار اور صلاحیتوں کو باقی نہیں رکھ سکتی، اس کے لئے ان کو دور دراز کے علاقوں میں اور مرکزی مقامات میں علمی، دینی، تحقیقی اور ملی و سیاسی میدان کو منتخب کرنا پرتا ہے یہ باتیں میں اپنی طرف سے صرف نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ تجربہ اور مشاہدہ کے علاوہ حضرت قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رح کی نجی مجلسوں میں بھی اس طرح کی گفتگو سننے کا اتفاق ہوا ہے ۔ *حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رح فرمایا کرتے تھے اگر میں صرف امارت شرعیہ پٹنہ یا خانقاہ مونگیر کو دعوتی و علمی تحقیقی اور سماجی و ملی کاموں کے لئے محدود کر لیتا تو میری ذات اور میرے کاموں اور خدمتوں کا دائرہ اور ان کی نافعیت صوبائ سطح پر محدود رہ جاتی، اس لئے میں نے دلی کو مرکز بنایا تاکہ کاموں کا دائرہ اور میدان عمل ملکی اور عالمی سطح پر ہو ۔ فقہ اکیڈمی اور ملی کونسل کا قیام اسی جذبے کے تحت تھا ۔
حضرت مولانا شفیق الرحمن صاحب ندوی رح کی سعادت اور خوش نصیبی تھی کہ ان کی صلاحیت صالحیت اور علمی لیاقت کی بناء پر حضرت مولانا علی میاں ندوی رح نے نے اس گوہر نایاب کو دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو میں علمی اور تدریسی خدمت انجام دینے کے لئے منتخب کیا اورتدریس کے لئے یہاں آنے کی دعوت دی ۔

مولانا شفیق الرحمان صاحب ندوی رح دوران طالب علمی بہت ہی سعادت مند ذھین خلیق اور استاتذئہ کرام کی نگاہوں میں معتمد اور محترم و معتبر ، بلکہ منظور نظر تھے ۔ مرشد الامہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و ناظم اعلی دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو ان کو بہت چاہتے تھے ۔
حضرت مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندوی مدظہ العالی اپنے عزیز شاگرد مولانا شفیق الرحمن ندوی مرحوم کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں :
وہ اپنی حق گوئ اور بے باکی میں اپنی مثال آپ تھے اور حالات چاہے جیسے ہوں وہ حق بات کہنے سے کبھی پیچھے نہیں ہتتے تھے اور ہر طرح کی مداہنت سے دور تھے جب کہ فی زماننا مداہنت کا رواج بہت زیادہ ہے اور دین کا کام بھی محض دنیاوی غرض پر انجام دینے کے لئے فخر محسوس کیا جاتا ہے ۔۔۔ یہ زمانہ خود غرضی اور غلط فہمیوں کا ہے اس میں سچائ کا اعتراف کرلینا بہت مشکل ہے مولانا نے ہمیشہ سچائ، اعتراف اور خیر خواہی کا نمونہ پیش کیا ۔۔۔ انہوں نے دین داری اور تقوی کی اعلی نمونہ زندگی کے ہر شعبے میں پیش کی،اور علالت کے زمانے میں بھی مفوضہ ذمہ داریوں کو انجام دیتے رہے ۔۔۔۔

مدرسہ احسانیہ سمرا گوپال گنج کے بھی مولانا ناظم اور ذمہ دار تھے اس مدرسہ کے ایک ذمہ دار اور خادم سیٹھ اسلام تھے جو مدرسہ کے منتظمین میں تھے اور اپنی کافی رقم اور آمدنی کا حصہ مدرسہ میں صرف کرتے تھے لیکن مزاج میں شدت اور حدت تھی طلباء کی غلطیوں پر ان کا کھانا بند کر دیا جاتا تھا لیکن وہ مزاج کی سختی کی بناء پر اساتذہ کرام کی تاخیر اور معمولی کوتاہی پر بھی باز پرس کرتے ، ان کا بھی کھانا بند کردیتے تھے بیچ کے لوگ ان کی باتوں کو اور ان کے اس منفی طرز عمل کو چھپا کر رکھتے اور مولانا مرحوم کو اس کی اطلاع نہیں ہونے دیتے تھے ، جب مولانا مرحوم کو اس کی اطلاع ہوئ اور مولانا جب مدرسہ تشریف لائے تو سیٹھ اسلام کے سامنے پوری جرآت و ہمت کے ساتھ اپنا موقف رکھا اور کمال بے کاکی کے ساتھ کہا سیٹھ صاحب ! آپ اپنا عطیہ اور امداد اپنے پاس رکھ لیجئے عوام کے پیسہ سے مدرسہ چل جائے گا ۔ لیکن اساتذئہ کرام کی بے وقعتی اور بے عزتی یہ برداشت نہیں ہے ۔ سیٹھ صاحب مولانا مرحوم کی اس جرات اور ہمت پر دنگ رہ گئے اور کوئ جواب ان سے نہیں بن پڑا ۔ مولانا رح خود خود دار،شگفتہ مزاج ، اور باوقار تھے اور طبقئہ علماء کو اسی حال میں دیکھنا پسند کرتے تھے ۔ مولانا اس بات کو بھی ناپسند کرتے تھے کہ مدارس کے اساتذہ بلا ضرورت طلباء کو اپنے گھر بلائیں ان سے خدمت لیں بلکہ جسمانی خدمت کے تو وہ کسی طرح بھی قائل نہیں تھے ۔ یہی ندوہ اور ندوے سے ملحق اداروں کا مزاج بھی ہے ۔

نوٹ باقی کل کے پیغام میں
محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اپنا تبصرہ بھیجیں