میرے مربی میرے مہربان حضرت مولانا شفیق الرحمن صاحب ؒ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

استاد محترم *حضرت مولانا شفیق الرحمن ندوی* کا ایک اہم اور نمایاں کارنامہ مدارس ملحقہ کی نگرانی اور ان کے مدراس کی نگرانی ایک دیانت دار منتظم کی طرح کرتے اور پوری دلچسپی کے ساتھ اس کام کی انجام دہی میں اپنا وقت لگاتے ۔ دار العلوم سے الحاق کی درخواست کرنے والے مدارس کا معائنہ کرکے اس کی پوری رپورٹ حضرت ناظم صاحب ندوۃ العلماء لکھنئو کی خدمت میں پیش کرتے اور مثبت رپورٹ آنے کے بعد الحاق کا فیصلہ ہوتا ۔ مولانا مرحوم اس سلسلے میں (یعنی مدارس ملحقہ کے معائنہ میں) بہت ہی ذمہ دارانہ اور دیانتدارانہ رویہ اختیار کرتے تھے ۔ حضرت مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندوی مدظہ العالی آپ کی اس خوبی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
وہ اس معاملہ میں انتہائی دیانت دار اور احساس ذمہ داری سے سرشار تھے ،کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ کسی ملحقہ مدارس کا معائنہ کرنے جائیں اور وہاں ان کی خاطر تواضع ہو،اور اس مدرسہ کے بعض ممبران کی خوشامدانہ روش سے متاثر ہوکر وہ واقعہ کے خلاف کوئ رپورٹ تیار کریں،اور ان کی خوشی کے لئے وہ ناظم صاحب و دیگر ذمہ دار حضرات سے ان کے لئے الحاق کی سفارش کریں ۔(قافلئہ علم و ادب صفحہ 620/از مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی صاحب )
ذیل میں نمونہ کے طور پر مولانا مرحوم کی دو تحریر یا یہ کہیئے دو رپورٹیں پیش خدمت ہے :
ایک مدرسہ والوں کے الحاق کی درخواست پر آپ اس مدرسہ کا معائینہ کرتے ہیں اور حضرت ناظم صاحب ندوۃ العلماء کی خدمت میں رپورٹ یوں پیش کرتے ہیں ۔

 

بخدمت گرامی جناب ناظم صاحب ندوۃ العلماء مدظلہ العالی
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
جناب عالی!
۲/جمادی الاولی ۱۴۲۱ھج بروز جمعرات ساڑھے دس بجے دن میں مدرسہ پہنچا ،وہاں بلکل سناٹا پایا،دو کمرے ،جن کی دیواریں اینٹ کی ہیں، اور چھت کچی ہے ،کمروں میں دروازے نہیں ہیں ،کمروں کے سامنے زمین خالی ہے ،جس کی بنیادیں تین طرف سے بھری ہوئ ہیں، کمروں کے شمال میں ملبے کی صورت میں ایک زمین ہے ۔ واپسی کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک صاحب سے ملاقت ہوئ، انہوں نے بتایا کہ وہ اس مکتب میں پڑھاتے ہیں، چالیس بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں،درجہ حفظ بھی ہے ،طلباء مقامی بھی ہیں ،حفظ کے استاذ گھر گئے ہوئے ہیں ،میں نے ان سے کہا کہ طلباء کو میں نے دیکھا نہیں، اس لئے آپ طلباء کا رجسٹر، اساتذہ کا رجسٹر اور تنخواہ کا رجسٹر دکھا دیں،انہوں نے رجسٹر دکھانے سے معذوری ظاہر کی،اور کہا کہ رجسٹر صدر صاحب کے یہاں ہے، اس لئے کہ مدرسہ میں رجسٹر رکھنے کی کوئ جگہ نہیں ہے، میں نے ان کو مہلت دی کہ دو گھنٹے کے اندر رجسٹر لاکر دکھلا دیں ،لیکن وہ ایسا کچھ نہ کرسکے ،کچھ دیر کے بعد مدرسہ کے ایک ذمہ دار آگئے ،ان سے بھی چند سوالات کئے،مگر صحیح جوابات نہیں دے سکے ،البتہ چلتے وقت انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ اطلاع دے کر دوبارہ آئیں تو میں مدرسہ کے اندر طلباء کو دکھا سکتا ہوں، اور سارے رجسٹر بھی ۔

 

فقط و السلام
شفیق الرحمن
۳/جمادی الاولی ۱۴۲۱ھج

( قافلئہ علم و ادب صفحہ۶۲۱ از مولانا اعظمی صاحب ندوی )

 

ایک اور نمونہ حضرت مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندوی مدظہ العالی مہتمم دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو کی ہی تحریر میں ملاحظہ کیجئیے۔
مولانا اعظمی صاحب مدظلہ العالی لکھتے ہیں؛
جب مدرسہ احسانیہ سیوان کے ذمہ داروں اور مولانا ظہیر احمد ندوی،اس مدرسہ کے صدر کے مابین شدید اختلاف ہوا ،اور مدرسہ کے ذمہ داروں اور گاوں کے لوگوں نے ان کے خلاف ایک بہت طویل اور شکایات سے بھری رپورٹ ماہ صفر ۱۴۲۱ھج میں اس وقت کے مہتمم (راقم) سعید الرحمٰن اعظمی کے پاس رجسٹرڈ ڈاک سے بھیجی، اور انہوں نے وہ رپورٹ ندوةالعلماء کے ناظر عام مولانا سید محمد حمزہ حسنی ندوی کی خدمت میں ارسال کی، اور ان کے ذریعہ مولانا شفیق الرحمن صاحب ندوی مرحوم کو اس رپورٹ سے مطلع کیا گیا اور انہوں نے پوری رپورٹ پڑھ کر اس کے جواب میں جو کچھ لکھا وہ مناسب ہے کہ وہ عبارت یہاں نقل کر دی جائے ۔

جناب عالی !
ضلع گوپال گنج بہار سے آئ ہوئ تحریر دیکھی جو مولوی ظہیر احمد صاحب کے خلاف ہے،یہ تحریر یک طرفہ ہے ،وہاں کے لوگوں نے مدرسہ کے بے قصور طلباء کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا ہے ،اور اپنی تحریر میں اس کا کوئ ذکر نہیں کیا ہے ،اس لئے یک طرفہ تحریر کی بنا پر کوئ رائے قائم کرنا مناسب نہ ہوگا ،بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ یہ بنو اعمام کی لڑائی ہے ،اس کی جڑیں گہری اور پرانی ہیں ،اور دور کے آدمی کے لئے اس کا سمجھنا آسان نہیں ہے، سمرا مدرسہ کو بعض لوگوں نے جس طرح اپنی سیاست کا اکھاڑا بنا رکھا ہے ،اس پس منظر میں مولوی ظہیر احمد جیسے شخص کا وہاں ہونا ضروری ہے ۔

شفیق الرحمن ندوی

(بحوالہ قافلئہ علم و ادب صفحہ ۶۲۵/۶۲۴)
مولانا کے اس رپورٹ اور تحریر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی جرآت ،بے باکی اور صداقت و حق گوئ میں اپنی مثال آپ تھے اور حالات اور رخ خواہ چاہیے جیسے ہوں وہ مرد قلندر حق بات کہنے سے نہیں رکتے اور کسی طرح کی مداہنت کوبرداشت نہیں کرتے تھے ۔

 

آج کے ماحول اور حالات میں اہل مدارس کو اور خصوصا وہاں کے ارباب اہتمام کو مولانا مرحوم کی زندگی اور ان کی صداقت و حق گوئ اور ایمانی جرآت سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے اور ان کی اصول پسندی کو نمونہ بنانا چاہیئے آج زیادہ تر مدارس اسلامیہ میں اصول پسندی معاملات کی صفائ عدل و مساوات اور ہر ایک کو اس کا جائز حق دینے کا ماحول ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ اللہ معاف کرے صداقت و دیانت میں بھی کمی آتی جارہی ہے طلباء کی تعداد لکھنے میں بھی افراط و تفریط ہے اور دباو اور ماحول بنا کر تصدیق نامہ، غلط سفارش اور توصیہ حاصل کرنے میں بھی حد افراط و تفریط تک پہنچ گئے ہیں ۔
*نوٹ باقی کل کے پیغام میں*

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی