میرے مربی میرے مہربان حضرت مولانا شفیق الرحمن ندویؒ

مولانا شفیق الرحمن ندویؒ کی صلاحیت و لیاقت اور ان استعداد و قابلیت دوران طالب علمی ہی سے نمایاں تھی وہ اپنے درجہ کے ممتاز اور نمایاں طلباء میں تھے،اور اپنے اساتذہ کرام کی نگاہ میں مقبول و محبوب بھی تھے ۔ ان کی صلاحیت و صالحیت اور استعداد کا اعتراف ان کے اساتذہ کو بھی تھا۔

مولانا مرحوم نے دوران طالب علمی عربی مضامین لکھنا شروع کردئے تھے ،مختلف موضوعات پر انہوں نے درجنوں گراں قدر مضامین تحریر کئے ہیں جو پندرہ روزہ *الرائد* میں شائع ہوئے جو کہ طلباء ندوہ کی عربی انمجن النادی العربی کی طرف سے برسوں سے مسلسل پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔
اور جس کی اہمیت و افادیت اور عربیت کے قائل اور معترف عرب بھی ہیں ۔
مولانا مرحوم غالبا ابتدائی دور میں اس کے مدیر یا معاون مدیر بھی تھے۔
مولانا مرحوم کی اگر چہ مستقل اور باضابطہ تصنیف صرف *الفقہ المیسر* ہے ۔ جو قسم العبادات سے متعلق ہے اس کا دوسرا مرحلہ تھا قسم المعاملات جس میں بیع و شراء اور نکاح و طلاق اور دیگر عایلی مسائل کو قسم العبادات ہی کی طرح آسان و سہل اور سلیس زبان میں ترتیب دینا تھا لیکن مولانا کی تدریسی، تنظیمی و انتظامی مشغولیات نیز گھریلو مصروفیات اولاد کی تعلیم و تربیت اور دیگر تقاضوں نے ان کو موقع اور فرصت نہیں دیا اور اس طرح یہ کام ادھورا اور تشنہ رہ گیا ۔ اور ندوہ نے فقہ اسلامی کے نصاب کی جدید تدوین و ترتیب کا جو بیڑا اٹھایا تھا وہ ایک طرح سے وقتی طور پر موقوف سا ہوگیا ۔ ایک زمانہ کے بعد دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو کے ایک دوسرے انتہائی باصلاحیت اور لائق و فائق فرزند *مولانا محمد راشد ندوی* (مہتمم مدرسہ ضیاء العلوم میدان پور تکیہ کلاں رائے بریلی و مندوب اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا) نے اس اہم کام کی ذمہ داری لی اور ان کی محنت اور جد وجہد سے الفقہ المیسر کی دوسری جلد (قسم المعاملات) منظر عام پر آئ جو ہر اعتبار سے مدارس اسلامیہ کے فقہ کے نصابی کتاب کے اعتبار سے مفید بلکہ مفید تر ہے ۔ اور بہت سے مدارس میں خاص طور پر مدرسة البنات میں ا*لمختصر القدوری* کی جگہ داخل نصاب ہے ۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ *المختصر القدوری* کا نعم البدل ہے لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ سہولت پسندی اور سہل انگاری کے اس دور میں جدید مثالوں اور جدید اوزان کا جو اس میں ذکر اور اضافہ ہے اس اعتبار سے یہ کتاب اس لائق ہے کہ اس کو داخل نصاب کیا جائے یا *المختصر القدوری* پڑھنے والے طلباء کے لئے اس کتاب کے مطالعہ کو لازمی قرار دیا جائے اور ان اس کا پابند بنایا جائے ۔

ہر چند کہ مولانا محمد راشد صاحب ندوی نے اس کتاب کو سہل اور آسان بنانے کی کوشش کی لیکن وہ اس طرح کامیاب نہ ہو سکے جس استاد محترم جناب *مولانا شفیق الرحمن ندوی رح* نے آسان اور سہل زبان میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی کہ عبادات کے ابواب بنسبت معاملات و معاشرت (عائلی ابواب) کے آسان و سہل ہیں جبکہ معامات کے ابواب کی جو اصطلاحات اور تعریفات ہیں و قدر مشکل اور پیچیدہ ہیں ۔
میں نے اوپر اس کا تذکرہ کیا تھا کہ مولانا نے مستقل تصنیفات و تالیفات کے لئے اپنا وقت فارغ نہیں کیا اور نہ اس کے لئے پوری یکسوئ حاصل کی، انتظامی مصروفیات اور گھریلو تقاضوں نے بھی اس کی مہلت نہیں دی ۔ لیکن اگر مولانا مرحوم اس میدان کے لئے بھی اپنا کچھ وقت فارغ کر لیتے اور مستقل لکھتے رہتے تو ان کا شمار ہندوستان کے اہم اور کامیاب اصحاب قلم میں ہوتا۔ لیکن جو کچھ لکھا اور جتنا بھی لکھا وہ معیاری تحریر تھی ۔ ایک زمانہ میں *دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو* کے معتمد تعلیمات اور مشہور صاحب قلم *ڈاکٹر عبد اللہ عباس صاحب نے رح* نے دہلی سے ایک معیاری ماہنامہ *ذکر و فکر* کے نام سے شائع کیا تھا،افسوس کے چند ہی سال اس کی مدت رہی لیکن یہ پرچہ انتہائی معیاری اور وقیع پرچہ تھا جس کے ایڈیٹر مولانا ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی رح اور معاون ڈاکٹر محمد محسن عثمانی ندوی تھے مجلس مشاورت اور ادارت میں انتہائی باکمال اساتذہ اور اصحاب علم و فن کے نام تھے ۔ اہم لکھنے والوں میں مولانا شفیق الرحمن ندوی صاحب بھی تھے ۔ آپ اس ماہنامہ میں مستقل ایک کالم *عالم اسلام کی ثقافتی سرگرمیاں* لکھا کرتے تھے الحمد للہ مجھے متعدد شمارے ذکر و فکر کے *الاصلاح* کے دار الاخبار کے ذریعہ سے پڑھنے کا موقع ملا تھا شاید ایک دو شمارے میرے کتب خانے (*سید قطب الدین مدنی لائبریری*) میں اب بھی موجود ہے ۔
مولانا *خلیجی ممالک* کی ثقافتی سرگرمیوں کو جس انداز سے پیش کرتے تھے یقینا وہ انہیں کا حصہ تھا ۔

مولانا کا مضمون حشو و زائد سے بالکل پاک ہوتا تھا مترادفات کا استعمال شاذ و نادر ہوتا جملے مختصر اور سٹیک ہوتے جہاں تاکید کی ضرورت پڑتی وہیں تاکید کے الفاظ استعمال کرتے مولانا کا اسلوب تحریر رواں سہل اور سیال ہوتا پیچیدہ اور مشکل و ثقیل الفاظ کم سے کم استعمال کرتے ،اسلوب تحریر نہ ایجاز تھا نہ اطناب بلکہ ۔ خیر الامور اوسطھا۔ کے مطابق صواب والا اسلوب ہوتا جتنی ضرورت الفاظ کے استعمال کی ہوتی اتنا ہی استعمال کرتے بیجا لفاظی کا ان کے یہاں کوئ دخل نہیں تھا ۔ حضرت استاد مرحوم کے مضمون کو پڑھنے کے بعد اس زمانہ میں یہ احساس ہوتا تھا کہ جس طرح ہدایہ اور فقہ کی دیگر کتابوں میں کہیں مترادفات نہیں ہے اسی طرح مولانا رح کی تحریروں میں بھی اس کی کوئ گنجائش نہیں ہے ۔

*نوٹ مضمون کا باقی حصہ کسی اور دن کے پیغام میں*

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور لاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی

اپنا تبصرہ بھیجیں