میرے مربی میرے مہربان حضرت مولانا شفیق الرحمن ندویؒ صاحب

استاد محترم *حضرت مولانا شفیق الرحمن ندوی رح* کی زندگی کے مختلف گوشوں پر کافی گفتگو ہوچکی اور ان کے کارناموں کا مختصر تعارف و تذکرہ بھی آچکا ہے آج ان کی علمی خدمات اور مضامین و مقالات اور ان کی بے مثال و بے نظیر تصنیف *الفقہ المیسر* کا تذکرہ اور تعارف کراکر اور ان کی عہدہ و منصب کے دوڑ سے دوری اور بے نیازی کا تذکرہ کرکے ہم اس مضمون کو آج یا کل تک ختم کریں گے ۔

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ ندوۃ العلماء کی طرف سے ترتیب نصاب کی کوشش کا آغاز اور مختلف علوم و فنون اور ادب و قواعد کی نئ کتابوں کی ترتیب و تصنیف کے حوالے سے کاروان زندگی حصہ دوم میں لکھتے ہیں؛:
*ندوہ العلماءکی تحریک مخصوص تعلیمی نقطئہ نظر اور تجربہ اور مطالعہ پر مبنی تھی ،وہ دینی تعلیم میں زندگی کی نئ روح پھونکنا اور اس کو بدلے ہوئے زمانہ اور بدلے ہوئے حالات کے جائز اور فطری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا چاہتی تھی نیز کتاب سے زیادہ فن سے ،مسائل سے زیادہ مقاصد سے،اور متاخرین کے لفظی نزاعات ،خیالی موشگافیوں اور شرح و تحشیہ میں اپنی ساری ذہانت صرف کرنے کے بجائے متقدمین کے علم آموز اور ذوق آفرین طرز کو زندہ کرنے کی داعی تھی ،اس کے ساتھ عربی زبان کو ایک زندہ اور جیتی جاگتی زبان کی طرح پڑھانے کا انتظام کرنا چاہتی تھی جس کے ذریعہ خود عربوں میں دعوت و تفہیم کا کام کیا جاسکے اور طلباء و فضلائے مدارس میں عربی خطابت و تحریر کا ملکہ پیدا ہوسکے.

الحمد للہ ندوہ نے اپنے اس ہدف کو پانے کی بھر پور کوشش کی اگرچہ ندوہ العلماء اپنے ابتدائ دور میں بعض ناساز گار حالات اور اپنی ہی صفوں میں اختلاف و انتشار اور مالی دشواریوں کی وجہ سے یہ کام نہیں کرسکا ۔ ہر چیز کا خدا کے یہاں وقت مقرر ہے لیکن جب حالات بہتر ہوئے اور اس کام کے انجام دہی کا وقت مقرر پہنچ گیا تو *حضرت مولانا ڈاکٹر سید عبد العلی حسنی ندوی رح* کے دور نظامت میں جنکو کہ ایک طویل ترین نظامت کی مدت ملی، اصلاح نصاب کا یہ کام بہت حد تک ممکن ہوسکا اور عربی زبان کے جدید نصاب کے طور پر *مختارات* (دوجلد میں) *منثورات* *القراءة الراشدہ* تین جلدیں *قصص البنین* پانچ جلدیں اور *الادب العربی بین عرض و نقد* *مختار الشعر العربی* اور *ادب النقد* جیسی معرکة الاآراء کتابیں وجود میں آئیں اور جن کی ادبیت کا اعتراف خود عربوں نے کیا اور وہاں کی جامعات میں ان کتابوں کو داخل نصاب کیا گیا۔ وہیں نحو میں تمرین النحو اور فن صرف میں تمرین الصرف اور منطق میں تفہیم المنطق عقیدہ میں العقیدت السنیة رسالة التوحید اصول تفسیر میں الفوز الکبیر ابتدائ عربی ریڈر میں المحاورة العربیہ تاریخ و جغرافیہ میں جزیرة العرب انشاء و تعبیر میں معلم الانشاء تین جلدیں اور فقہ میں الفقہ المیسر جیسی کتابیں حالات کے تقاضے اور زمانے کی رعایت کرتے ہوئے ترتیب دی گئیں ۔
اصلاح نصاب کے قافلہ سالاروں میں ایک مولانا مرحوم بھی تھے جنھوں بڑی محنت اور جفاکشی کے ساتھ چھوٹے بچوں کی عمر اور نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے فقہ کے موضوع پر ایک معرکة الآراء کتاب الفقہ المیسر تصنیف کی ۔ یہ کتاب حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کے اشارے پر لکھی گئ اور حضرت مولانا علی میاں ندوی رح نے اس کتاب پر گراں قدر مقدمہ تحریر فرمایا اور مصنف کتاب کی اس کاوش کو خوب خوب سراہا ۔ مولانا مرحوم کی یہ کتاب برصغیر اور عالم عرب میں بھی بےحد مقبول ہوئ جس کے متعدد ایڈیشن مصر و شام اور ہندو پاک سے شائع ہوچکے ہیں ۔ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنئو اور اس کی تمام شاخوں نیز درس نظامی کے بھی بہت سے مدارس میں داخل نصاب ہے ۔

حضرت مولانا علی میاں ندوی رح اس کتاب (اور ندوہ کی فقہ کے موضوع پر اصطلاح نصاب کی کوشش) بارے میں تحریر فرماتے ہیں اب فقہ کی باری تھی ، میری پرانی خواہش تھی کہ ان بچوں کے لئے جو کمسنی میں فقہ کی کتابیں پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں ،اور جو فارسی و منطق وغیرہ کا قدیم مرحلہ طے کئے بغیر سن مراہقہ (قبل البلوغ ) میں نور الایضاح اور قدوری پڑھنے پر مجبور ہوتے ہین ،کوئ نی کتاب ایسی لکھی جائے جس میں عبارت کی سہولت ،پیرا گرافوں کی تقسیم ،مثالوں اور تشریحی باتوں میں سن و سال کا لحاظ اور مسائل میں صرف عملی اور محتاج الیہ مسائل کا انتخاب ہو ۔۔۔۔۔۔ اور وہ جو عربی مین پہلی فقہ کی کتاب کے طور پر پڑھائ جاسکے میں نے خود یہ کام شروع کیا تھا، لیکن مکمل نہ ہوسکا، الحمد للہ گزشتہ سال عزیز گرامی مولوی شفیق الرحمن ندوی نے الفقہ المیسر کے نام سے کتاب تیار کردی جس کو اہل نظر اہل فن نے بھی پسند کیا،وہ دار العلوم میں داخل نصاب ہے ۔ (کاروان زندگی دوم صفحہ ۲۲۵)
اس کتاب کے بارے میں مولانا رضوان القاسمی رح نے اپنے ایک مقالہ میں بڑی حقیقت پسندانہ تبصرہ کیا ہے ۔ مولانا مرحوم نے لکھا ہے :
*نوٹ باقی کل کے پیغام میں*

محمد قمرالزماں ندوی

اپنا تبصرہ بھیجیں