میرے مربی میرے مشفق حضرت مولانا شفیق الرحمن صاحب ندوی

محترم قارئین باتمکین !
آخ تک سفر میں ہوں ۔ سفر میں رہنے کی وجہ سے آج کے پیغام میں دینی موضوعات پر کچھ لکھنا ذرا مشکل ہوتا ہے حوالہ جات کی پریشانی ہوتی ہے ۔ شخصیات پر تاثراتی مضامین لکھنا آسان ہوتا ہے ۔ اس لئے میں نے اپنے اساتذہ کرام پر ایک سلسلہ وار مضمون لکھنا شروع کیا ہے، ہفتہ میں ایک یا دو دن اپنے اساتذہ کرام اور دیگر شخصیات پر بھی لکھوں گا ۔ عنوان ہوگا ۔ *میں نے جنھیں دیکھا ہے*ہم ان تمام قارئین سے معذرت چاہتے ہیں جو جمعہ کے دن آج کا پیغام کا خاص طور پر انتظار کرتے ہیں اور جمعہ کی تقریروں میں خاکسار کی رطب و یابس اور لف و نشر غیر مرتب تحریر سے کسی حد تک استفادہ کرتے ہیں ۔ م ق ن

پانچویں قسط

*حضرت مولانا شفیق الرحمن صاحب ندوی رح* کی اہم خصوصیت اور امتیاز یہ تھا کہ ان کے اندر افراد اور ان کی صلاحیتوں کو پرکھنے اور جانچنے کی بھر پور صلاحیت تھی، اس سلسلہ میں ان کی معرفت و فراست قابل تعریف تھی ۔ چونکہ مولانا مرحوم *شعبئہ مدارس ملحقہ* کے ذمہ دار تھے اور کثرت سے ان مدارس کے ذمہ داران آپ سے باصلاحیت اساتذہ اور مدرسین کا اپنے اپنے مدرسے کے مطالبہ کرتے تھے اس لئے آپ پورے سال ایسے ذھین اور باصلاحیت طلباء پر نظر رکھتے ،ان کو تلاش کرتے اور دیگر اساتذہ اور رفقاء سے بھی ایسے طلباء کے بارے میں دریافت کرتے ۔ جب کہ عام طور پر مدارس میں اساتذہ کرام کا حال یہ ہے کہ درس و تدریس کے فرائض انجام دے دینے کے بعد طلباء سے اور ان کی صلاحیتوں سے ان کو کوئ مطلب نہیں رہتا پھر وہ اپنی دنیا اور اپنی سرگرمیوں میں مست رہتے ہیں ۔

اور طلباء کو بھی اساتذہ سے کوئ زیادہ مطلب اور سرو کار نہیں رہتا ،جس کی وجہ سے اچھی اچھی صلاحتیں اور استعداد رکھنے والے طلباء سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے ضائع اور برباد ہوجاتے ہیں ۔ کمیاں دونوں طرف سے ہیں اگر شبلی جیسے استاد اور مربی و سرپرست نہیں ہیں تو سلیمان جیسا کوئ شاگرد بھی تو نہیں ہے ۔

لیکن بہت سے اساتذہ کرام اپنے اندر درد اور تڑپ رکھتے ہین وہ طلباء کی صلاحیتوں اور انکی استعداد اور ذہانتوں کو ضائع اور برباد نہیں دیکھنا چاہتے وہ طلباء کی بے لوث رہنمائ اور سرپرستی کرتے ہیں ان ہی ہمدرد و مخلص لوگوں میں ایک اہم نام ہمارے استاد محترم جناب مولانا شفیق الرحمن ندوی رح کا ہے ان کی نگرانی اور تربیت و سرپرستی کے بہت سے واقعات میرے ذہن و دماغ ہیں ۔ لیکن ان میں صرف ایک واقعہ کا تذکرہ جس کا تعلق میری ذات سے ہے اس لئے ہدیئہ قارئین کرتا ہوں ۔

راقم الحروف جب فضیلت کے سالوں میں تھا تو درسی محنت یا یہ کہئیے کہ درسیات میں بہت کچھ محنت نہیں کرتا تھا البتہ درجہ کی پابندی بہت زیادہ کرتا تھا بارہا کئ استادوں سے انعام بھی پایا۔ تحدیث نعمت کے طور پر اس بات کا تذکرہ کرتا ہوں کہ پورے تعلیمی سالوں میں کبھی مجھے رخصت لینے کی ضرورت نہیں پڑی ،کبھی مدرسہ کی چھٹی کے علاوہ گھر نہیں گیا سات سال بقرعید کی چھٹی( سوائے ایک سال کے) ندوہ ہی میں گزاری یہ نہیں کہ مالی دشواری تھی بلکہ خال معظم مولانا ریاض احمد ندوی کا حکم تھا کہ چھٹی وہیں گزارو اور آنے جانے میں جتنا خرچ ہوتا ہے اس کا ڈبل روپیہ بھیجتا ہوں اس کو چھٹیوں میں خرچ کرنا اور غیر درسی مطالعہ کرتے رہنا ۔ چھٹیاں بھی پانچ یا چھ دن کی ہی ہوتی تھیں ۔
میں نے ان آٹھ سالہ دور میں کسی بورڈ وغیرہ کا اور نہ بعد ہی میں امتحان دیا ۔
آج بعض طلباء کا حال یہ ہے کہ اساتذہ سے زیادہ گھر جاتے ہیں اور چھٹیاں لیتے ہیں ۔
تعطیل کے ایام میں اور خالی اوقات میں سیرت و سوانح رجال و شخصیات کو پڑھنا میرا مشغلہ تھا ۔ ان دنوں مولانا ظہیر صدیقی ندوی جو انتہائی قابل اور باصلاحیت ندوی ہیں علمی ملی اور تحریکی و سماجی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں اور اکابر ذمہ داران ندوہ سے سعادت مندانہ اور مخلصانہ و محبتانہ تعلق رکھتے ہیں ان کا ایک ادارہ تھا *اسٹوڈنٹ اسلامک اینڈ ولفیئر سوسائٹی* ۔ اس سوسائٹی کے تحت مہینہ میں ایک یا دو بار محاضرہ یا مقالہ کی نشست ہوتی تھی ہمارے درجہ کے کچھ طلباء اور بعض دوسرے درجہ کے طلباء ان پروگراموں میں پابندی سے شرکت کرتے تھے اور اپنا مقالہ پڑھتے تھے اور پھر جمعہ کی نماز کے بعد مولانا صدیقی کی طرف سے پرتکلف میزبانی ہوتی تھی ۔ یقینا ان پروگراموں سے خاکسار نے اور میرے ساتھیوں نے فائدہ اٹھایا اور آج تک ان پروگراموں کا فیض پہنچ رہا ہے اخیر میں مولانا ظہیر صدیقی ندوی صاحب کا خطاب ہوتا ہم طلباء کے حوصلے کو بڑھاتے اور مہمیز لگاتے، معلوم نہیں بعد میں یہ ادراہ کچھ کمزور سا ہوگیا اور اس کی فعالیت میں کمی آگئ اور وہ پروگرامس تقریبا بند سے ہوگئے اور شاید میڈکل کا شعبہ ہی باقی رہ گیا ، ممکن ہے کچھ مالی دقتیں اور دشوایاں آئ ہوں ۔ میری نظر میں اس ادراہ کی مقبولیت میں اضافہ اس لئے بھی نہیں ہوسکا کہ مولانا مسلکا اہل حدیث تھے اور جماعت اسلامی سے ان کے والد کا گہرا تعلق تھا اور مولانا صدیقی اور ان کے تمام برادران بھی اس نظریہ اور مسلک کے حامی اور حامل تھے ان کے برادران میں مشتاق ندوی میرے ہم کلاس تھے اور ضیاء الرحمن ندوی دو تین سال سنئیر اور ایک اور بھائ اور ظہیر صدیقی صاحب تو ہم لوگوں سے بہت ہی سنئر تھے ۔ مولانا کا گھرانہ علمی تھا،مسلکی تشدد سے بالکل پاک تھا اور آج بھی ان لوگوں میں مسلکی تشدد بالکل ہی نہیں ہے ۔

خیر اب میں اصل مدعا اور مقصد پر آتا ہوں ۔ انہیں دنوں جب کہ میں اس سوسائٹی کے پروگراموں میں شرکت کرتا تھا کسی نے مولانا کو یہ بتا دیا کہ میں (قمرالزماں ) فراغت کے بعد اس سوسائٹی سے جڑنے والا ہوں اور اس سوسائٹی میں اپنی خدمت دینے والا ہوں حالانکہ اس میں کچھ بھی سچائ نہیں تھی انہیں دنوں میری منظوری کا خط (سبیل السلام حیدر آباد میں تخصص فی الفقہ میں داخلہ) استاد محترم جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی طرف سے آچکا تھا ۔
ایک دن اچانک طارق شفیق بھائ نے کہا کہ ابا تم کو یاد کر رہے ہیں عصر بعد گھر آکر مل لینا میں بھی رہوں گا ۔ میں حسب حکم عصر کی نماز کے بعد مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا سلام کیا اور مولانا محترم کے اشارے پر سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا ۔ پہلے چائے اور ناشتہ سے فارغ ہوا پھر مولانا گویا ہوئے *سنا ہے اطلاع ہوئ ہے کہ تم فلاں سوسائٹی سے فراغت کے بعد جڑنے والے ہو سنو عموما تحریک اور سوسائٹی کی مدت اور خدمت محدود ہوتی ہے اس میں لگ جانے کہ بعد صلاحیتیں ختم ہوجاتی ہیں ۔ اس لئے تم تدریس سے جڑو اور تحریک اور سوسائٹی کو اپنا کچھ خارجی وقت دو یہ کام بھی ضروری ہے نرے مدرس بننا ہی صرف کمال نہیں ہے لیکن با صلاحیت لوگوں کو تدریس سے کبھی الگ نہیں رہنا چاہیے اس سے انسان افراد سازی کا کام کرلیتا ہے ۔

میں مولانا کی ان باتوں کو غور سے سنتا رہا اور پھر صفائ دی اور وضاحت کی کہ حضرت! ایسا کچھ بھی ارادہ نہیں ہے میں اگلے سال حیدرآباد جا رہا ہوں تخصص کے لئے ۔ آئندہ درس و تدریس ہی سے لگنا ہے اور قوم و ملت کی خدمت کرنا ہے ۔ مولانا رح مطمئن ہوگئے اور کامیاب مستقبل کے لئے ڈھیر ساری دعائیں دیں ۔

*نوٹ باقی کل کے پیغام میں*

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نورالاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی

اپنا تبصرہ بھیجیں