میرے مربی میرے مشفق حضرت مولانا شفیق الرحمن صاحب الندوی

چوتھی قسط

*استاد محترم حضرت مولانا شفیق الرحمن صاحب ندوی رح* کا تعلق صوبئہ بہار کے ضلع *بتیا مغربی چمپارن* سے تھا آپ کی ولادت ۲ / جون 1942ء سنت پور نوتن دوے ضلع بتیا میں ہوئ۔ والد کا نام شیخ منظور حسن صدیقی (وفات ۱۹۷۵ء) تھا ۔عابد و زاہد کاشت کار تھے ۔ حضرت مولانا شفیق الرحمن ندوی رح نے درجہ پنجم تک کی تعلیم گاوں کے پرائمری اردو اسکول میں حاصل کی تھی اور ابتدائی عربی و دنیات مدرسہ اسلامیہ بتیا میں اپنے محسن استاد حضرت مولانا عزیز الرحمن ندوی کی سرپرستی میں حاصل کی اس کے بعد گاوں کے بزرگ اور عالم ربانی حضرت مولانا ریاض احمد سنت پوری سابق شیخ التفسیر دار العلوم دیوبند کے مشورہ پر عالم اسلام کی مشہور عربی درسگاہ دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو میں ۱۰ جون ۱۹۵۶ءکو داخلہ لیا ۔ آپ کا داخلہ عربی چہارم میں ہوا جہاں چار سالہ عالمیت اور دوسالہ فضیلت کا کورس مکمل کیا اور امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوئے ۔ آپ کے نامور اساتذہ میں حضرت مولانا علی میاں ندوی رح، مولانا محمد منظور نعمانی رح ،مولانا اسحاق صدیقی سندیلوی رح عبد الماجد ندوی (صاحب معلم الانشاء سابق استاد ادب ندوة العلماء لکھنئو و سابق ڈائریکٹر اردو و عربی نیوز جدہ ریڈیو اسٹیشن جدہ) مولانا اویس نگرامی ندوی رح مولانا عبد الحفیظ بلیاوی رح (صاحب مصباح اللغات و سابق استاد ادب ندوة العلماء لکھنئو) مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و ناظم ندوة العلماء لکھنئو مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندوی مدظہ العالی ۔

مولانا شفیق الرحمٰن ندوی کی ندوہ سے فراغت اپریل ۶۲ ۱۹ء میں ہوئ فراغت کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے اور مدرسہ اصلاح المسلمین پتھر کی مسجد پٹنہ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوگئے (شاید یہ وابستگی مولانا عبد السمیع جعفری ندوی کی وجہ سے ہوئ کیونکہ وہ ندوہ میں آپ کے ہم درس تھے)جہاں دو سال تدریسی خدمت انجام دینے کے بعد مولانا ابو العرفان خاں ندوی کی تحریک و مشورہ پر دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو میں شعبئہ تدریس سے منسلک ہوگئے۔ اور ایک سال قیام کے بعد ملک سے باہر چلے گئے اور طویل مدت کے بعد وطن واپس آگئے ۔ اور پھر مدرسہ رفاہ المسلمین رام پور لکسریا ضلع مشرقی چمپارن بہار میں درس و تدریس میں لگ گئے اور اس کے ساتھ صدر مدرس کی حیثیت سے مدرسہ کا انتظام و انصرام بھی دیکھنے لگے ۔ ۱۹۷۳ء میں حضرت ناظم صاحب ندوۃ العلماء کی کی دعوت پر ندوہ تشریف لائے اور استاد ادب کی حیثیت سے آپ کی تقرری ہوئ ۔ اور دار العلوم میں اپنی علمی لیاقت اور تنظیمی صلاحیت کا لوہا منوایا ۔ مولانا ایک کامیاب مدرس بے مثال و دیانت دار منتظم اور باوقار و مثالی عالم دین تھے ۔

میں نے اپنی زندگی میں جن انتہائی باوقار ،سنجیدہ شگفتہ مزاج متحمل و برد بار اور مخلص و وفادرا ساتذہ کرام کو دیکھا ان میں ایک نمایاں شخصیت حضرت مولانا شفیق الرحمن ندوی رح کے بھی تھی۔ مولانا مجلس میں پر لطف مذاق و مزاح بھی فرمایا لیا کرتے تھے لیکن اس میں بھی وقار اور سنجیدگی کا پہلو نمایاں رہتا کبھی باریک اور لطیف طنز بھی کرلیتے لیکن کبھی سنجیدگی اور وقار پر ضرب نہ پڑنے دیتے تھے ۔ ملحقہ مدارس کے اساتذہ اور منتظمین کے بعض ایسے ایسے واقعات مجلس میں سناتے کہ وہ مجلس ،مجلس زعفران بن جاتی ،غرض مولانا زاہد خشک نہ تھے بلکہ مولانا مرحوم کا ایک طرح سے اس شعر پر عمل تھا کہ
بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے میں نےندوے کے آٹھ سالہ دور میں یاد نہیں پڑتا کہ ان کو کبھی کنٹین میں چائے ناشتہ کرتے ہوئے دیکھا ہو ،ممکن ہے کہ بادل ناخواستہ کسی گھنٹے میں کسی کے کہنے اور اصرار پر چائے ناشتہ کر لیا ہو ۔ یہ بھی الا ماشاءاللہ ۔
مولانا بہت زیادہ مجلسی آدمی نہیں تھے عصر بعد مسجد ہی میں تھوڑی دیر اساتذہ اور آنے والے ندوی حضرات یا مہمانوں سے گفتگو کر لیتے تھے ۔

دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو میں تدریس کے علاوہ بڑوں کے حکم اور اشارے پر بہت سارے دیگر امور بھی انجام دیتے تھے شروع سال میں گھنٹوں کی ترتیب اور سیٹنگ کا کام بھی حضرت مہتمم صاحب کے اشارے پر انجام دیتے تھے اور اس میں اتنی مہارت ہوگئ تھی کہ حضرت مہتتم صاحب کو بہت کم ہی رد وبدل کرنے کی ضرورت ہوتی تھی مولانا مرحوم اساتذۂ کرام کے فن سے دلچسپی اور ان کے ذوق کا بھی بھر پور خیال رکھتے تھے اس لئے استاتذئہ کرام آپ کے اس حسن ترتیب سے خوش رہتے تھے ۔

شاید کبھی کسی کی دل شکنی ہوتی ہو ۔ اس کے علاوہ مولانا مرحوم پندرہ روزہ عربی جریدہ *الرائد* کا پروپ بہت گہرائ سے دیکھتے تھے نئے فارغین کے مضامین کے نوک و پلک اور تعبیرات کو بھی درست کرتے تھے آپ عربی کے ادیب تھے انشاء و تعبیر پر عبور رکھتے تھے اور اعلی ذوق بھی ۔ طویل عرصے تک فقہ کے علاوہ عربی ادب تعبیر اور نحو کے گھنٹے آپ پڑھاتے رہے ۔ ہدایہ جلد ثالث، المفصل، شرح ابن عقیل اور تعبیر و انشاء کے گھنٹے اخیر تک آپ سے متعلق تھے ۔

*نوٹ باقی کل کے پیغام میں*

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اپنا تبصرہ بھیجیں