میرے متعلق

                 میرا نام عقیل  اور قلمی نام ”عبید الرحمان عقیل ندویؔ “ ہے۔ میری تعلیمی قابلیت کچھ خاص نہیں بس والد محترم حضرت مولانا مجیب الرحمان صاحب ندویؔ  حفظہ اللہ ناظم مدرسہ فیض المنت ڈومریا ارریا اور میری پیاری اماں جان کی دعاؤں کے صدقہ دارالعوام ندوةالعلماء لکھنؤ {یو پی }  سے عالمیت کی سند حاصل کی ہے اس کے علاوہ بھی دورہ حاضر کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ابھی بھی مولانا آذاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے تعلیم جاری ہے ۔ اس کے علاوہ سیر و تفریح کا بھی شوق ہے۔ اسی شوق کی خاطر کچھ جنوب و شمالی علاقہ جات دیکھ چکا ہوں اور مزید دیکھنے کا پروگرام ہے۔ میں نے اپنی کچھ یادوں کے پرانے گیت محفوظ ِاوراق رکھے ہیں کچھ یادوں کی حویلی میں قید ہیں اور جو کچھ بھی بچا کھچا ہے اسے نئے دور کی نئی اور فاسٹ ٹیکنالوجی پر محفوظ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس کے علاوہ کبھی کبھی کچھ لکھنے کا شوق بھی ہو جاتا ہے خاص طور پر جب معاشرے میں بے چینی، ظلم، جبر، غربت اور افلاس کو دیکھتا ہوں تو لکھنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔ دوست احباب کی تعداد خاصی ہے بھی اور نہیں بھی  جن سے دن کے کسی نہ کسی حصہ میں اسلامی، تعلیمی اور ادبی گپ شپ ضرور ہو جاتی ہے جس سے کافی کچھ سیکھنے کو اور سوچنے کو ملتا ہے۔ یوں تو میں کسی قابل نہیں۔ سمندر میں ایک قطرے سے بھی کم اہمیت ہے لیکن ”قطرہ قطرہ ملے تو سمندر ضرور بنتا ہے“ کا قائل ہوں۔ اسی سمندر کی تلاش کے لئے مثبت، فکری اور انقلابی سوچ کو اپنے اندر اور دوسروں کے اندر بیدار کرنے کی وقتاً فوقتاً کوشش کرتا رہتا ہوں۔ ہر بندہ اپنا ایک الگ اندازِ بیاں اور اندازِ فکر رکھتا ہے اور اگر اسی انداز کو مثبت پہلو دے دیں تو وہ کم از کم فکری انداز کا مالک ضرور بن جاتاہے .اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصرہو ۔۔۔