میرے اللہ میری نسلوں کو ذلت سے نکال

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

سیدہ مہرافشاں
ایک روایت ہے کہ نبی ﷺ صحابہؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ ایک صحابیؓ ادھر سے گزرے جو اپنے کام کی دھن میں بھاگے جارہے تھے۔ صحابہؓ نے دیکھا تو کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺاگران کی یہ سرگرمی اللہ کی راہ میں ہوتی تو یہ انکے حق میں کتنا بہتر ہوتا!آپ ﷺنے فرمایااگروہ شخص اپنی بیوی بچوں کے لئے دوڑ دھوپ کررہا ہے تو اس کی یہ سرگرمی اللہ کی راہ میں ہی شمار ہوگی۔ اوراگر بوڑھے والدین کی خدمت کے لئے کررہا ہے تو بھی اللہ کی راہ میں شمارہوگی۔ اور اگر اپنی ذاتی ضرورتوں کے لئے کررہا ہے کہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلا نا پڑے تو یہ بھی اللہ کی راہ میں شمار ہوگی۔‘
اس سے ظاہرہوتا ہے پاک حلال رزق کے لئے بھاگ دوڑ ، جس کو ہم دنیاکا کام سمجھتے ہیں، ہمارے لئے اللہ کی رضا اور آخرت میں اچھے بدل کا سبب ہوگی۔
حضرت انسؓ کے حوالے سے حدیث کی کتابوں میں ایک انصاری صحابی کاواقعہ بیان ہوا ہے کہ وہ حضورﷺکی خدمت میں حاضرہوئے اوراپنی ضرورت کے لئے سوال کیا۔آپ ؐنے ا ن سے پوچھا تمہارے پاس کیا اثاثہ ہے؟ کہا ایک کپڑا ہے جس کو ادھا ہم بچھا لیتے اورآدھا اوڑھ لیتے ہیں۔ایک لکڑی کا پیالہ ہے۔ آپؐ نے ان سے کہا دونوں چیزیں لے آؤ۔ وہ لے آئے تو ان کو نیلام کر دیا۔ دو درہم وصول ہوئے ۔یہ رقم ان کو دی اورکہا کہ ایک درہم کا کھاناگھرلے جاؤ اور ایک کلہاڑی خرید لاؤ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ آپؐ نے اپنے دست مبارک سے کہلاڑی میں لکڑی کا دستہ ڈالا اوران کو دے کرفرمایا ،جاؤ جنگل سے لکڑی کاٹ کر لاؤ اورفروخت کرو۔دوہفتہ کے بعد آنا۔ان صحابیؓ نے اس پر عمل کیا اوردوہفتہ میں دس درہم کما لئے۔ اپنی ضرورت کا کپڑابھی خریدلیااورکھانے پینے کا سامان بھی۔جب حضورﷺ کی خدمت میںآئے توآپ ؐنے فرمایا یہ تمہارے حق میں مانگنے سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن تمہارے چہرے پر (مانگنے کا )داغ نظرآئے۔‘
ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ محنت مزدوری کرکے رزق کمانا بھی دین ہے، عبادت ہے اور یہ کہ اسلام بھیک مانگنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔اپنی محنت سے آدمی جوکماتا ہے اس میں اس کی خودداری کی حفاظت ہوتی ہے۔جب کہ سوال کرنا اورہاتھ پھیلاناانسان کے ضمیر کو مردہ کردیتا ہے۔ ہر معاشرہ میں کچھ یتیم، ضعیف،لاچارومجبورضرورت مندہوتے ہیں۔ شدید مجبوری میں ایسا کوئی مجبورشخص سوال کرے تو الگ بات ہے۔ حالانکہ ہمارادین ان کی مدد کی حددرجہ تلقین کرتا ہے، تاکہ کسی کو ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اسی لئے زکوٰۃ کو فرض اور فطرہ کوواجب کیاگیااوردیگرصدقات کی تلقین کی گئی ۔یہاں تک فرمایا گیا کہ وہ شخص صاحبِ ایمان نہیں جوخود بھرپیٹ کھائے اوراس کا پڑوسی بھوکا سوجائے۔ ایک وضاحت ضروری ہے۔ کہ مجبور، معذور اورہماراپڑوسی کسی بھی مذہب کا ہو، اس کی خبرگیری کا حق برابرہے۔
اس کا دوسرا پہلو یہ ہے ان تمام صدقات کے اصل مستحق کمزور، مجبوراورحقیقی ضرورت مند ہیں۔ یہ نہیں کہ کسی کو بھی دے دیا۔سنن نسائی میں ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ’ اہل ثروت ، صحت مند اور مضبوط لوگ صدقات کے مستحق نہیں۔ ‘ مضبوط سے مراد وہ افراد ہیں جو کمانے کے قابل ہیں اورصحت مند سے مرادوہ لوگ ہیں جوجسمانی طورسے یا کسی بیماری کی وجہ سے معذورنہیں ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اچھے خاصے ہٹے کٹے اورصحت مندمرداورعورتیں اوران کے ساتھ بچے غول درغول گھرگھر دستک دیتے پھرتے ہیں اورمساجد کے باہرسوال کرتے ہیں اورسڑکوں پر گھومتے رہتے ہیں۔ بعض علاقوں میں تو حال یہ ہے کہ راستہ چلنا اورزرادیررک کرکسی سے بات کرنا بھی مشکل ہے۔ اورہم ثواب کی نیت سے آنکھ بند کرکے ایسے لوگوں کوبھی صدقات دیتے چلے جاتے ہیں جو اس کے مستحق نہیں ۔اس روش سے ہم بھیک مانگنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ جس کی ہمارے رسول ؐ نے حوصلہ شکنی کی ہے۔ بہت سے لوگوں نے توبھیک مانگنے کو پیشہ بنالیا۔ کچھ گنگ ایسے بن گئے ہیں جو لوگوں سے بھیک منگواتے ہیں اور خود کھاتے ہیں۔ یہ رکشوں میں مائک پر ٹیپ سے اعلان کرتے ہوئے سوالی کون لوگ ہیں؟ زرا تصدیق کیجئے۔
غورکیجئے کہ رسول اللہ صلعم کے طریقے پرعمل کرکے محنت مزدوری کی تلقین کے بجائے مانگنے والوں کو بھیک دینا کیا ٹھیک طریقہ ہے۔ کسی کی لاچاری، معذوری ، ضعیفی اس کو مجبورکرتی ہے کہ دست سوال بڑھائے تو اس کی گنجائش ہے۔ مگر نوجوانی میں ہٹے کٹے لوگوں کو یہ کیسے زیب دے سکتا ہے کہ جو عمر محنت مشقت کرکے کمانے کی ہے اس میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلا ئیں اوراپنے ضمیر کو بے حس کرلیں۔ رمضان میں توحال یہ ہے کہ فجرسے لے کردیررات تک ایسے غیرمستحق لوگ سوال کرتے پھرتے ہیں۔
رمضان میں ایک سلسلہ مدرسہ کے نام پر چندہ کا ہے۔مدارس کی مدد ہونی چاہئے۔ لیکن کچھ لوگوں نے اس کو پیشہ بنالیا ہے۔ ان کی گزراوقات اسی چندے پر ہوتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض مدارس اپنے طلباء کو پھیری لگانے بھیج دیتے ہیں کہ وہ گھرگھرجاکر مدرسہ کے لئے نقد چندہ یاآٹا، دال، چاول طلب کریں۔اس طرح ان بچوں کا ضمیرمردہ کردیا جاتا ہے اورپھران کو خودداری سے زندگی گزارنے اوراللہ پر توکل کی توفیق ہی نہیں رہتی اورمانگتے ہوئے ان کا ضمیر ان کو کچوکتا نہیں۔ مانگنے سے بہتر ہے کہ مزدوری کرلے، چھوٹا موٹا کاروبار کرلے، گزارا چل جاتاہے۔آج بھی سماج میں وفادار اور محنتی لوگوں کی قدر ہے۔ عزت مانگنے میں نہیں، محنت میں ہے، چاہے وہ چھوٹا کام ہی کیوں نہ ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے امریکا اوریورپی ممالک میں کوئی بھی شخص محنت کرنے میں شرمندگی نہیں محسوس کرتا۔ یہ مرض ہمارے مسلم سماج میں ہی ہے۔ محنت کرنے والے کو عزت نہیں دیتے حالانکہ عزت کے لائق تو وہی ہے جو محنت سے اپناگزارا کر رہا ہے۔
بچپن اورجوانی ایسے دور ہوتے ہیں، ان میں جس طرح عادت ڈالی جائے اسی کے مطابق انسان کا جسم اوردماغ ڈھل جاتا ہے۔بچہ اگربڑوں کی دیکھا دیکھی جھوٹ بولنے لگتا ہے تو پھر جھوٹ اس کی عادت میں اس طرح شامل ہوجاتا ہے کہ یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ جھوٹ بول رہا ہے یا سچ کہہ رہا ہے۔ سویرے اٹھنے کی عادت ہوجائے توآنکھ خود کھل جاتی ہے اوراٹھنا بار نہیں گزرتا۔ سونے کی عادت ڈال لیں توکتنا ہی ضروری کام ہو اٹھنا دشوار ہوتا ہے۔ دوسری عادتوں کا بھی بالکل یہی معاملہ ہوتا ہے۔ سڑکوں پر کھڑے ہوکر کھانے کی عادت پڑ جائے یا دوستوں میں گپے مارنے کی عادت ہو۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ زندگی کے کتنا قیمتی ٹائم ضائع کردیا۔ اگراسی وقت کوپڑھنے میں یا کسی دوسرے کام میں لگائیں تو علم میں اضافہ ہواورہاتھ میں چارپیسے آئیں ، اور اللہ کے سامنے سرخ رورہیں ۔ منظربھوپالی کے اس شعر میں اسی طرح کا درد چھپا ہوا ہے۔
میرے اللہ میری نسلوں کو ذلت سے نکال
ہاتھ پھیلائے ہوئے مسلمان برا لگتا ہے
اکثر کسی عزیز کی وفات کے بعد یہ کسی اورموقع پر مدرسے کے بچوں کو قرآن خوانی کے لئے بلا لیا جاتا ہے اوران کو کھاناکھلاکر یا چائے ناشتہ کراکے یا کچھ نقد دے کر رخصت کیا جاتا ہے۔مدارس کے طالب علموں کی مدد کرنا اوران کی خبرگیری رکھنا بیشک ہماری ذمہ داری ہے ۔ مگر یہ ذمہ داری پورے وقار کے ساتھ ادا ہونی چاہئے اوراس میں بچوں کی خودی اورعزت نفس کی حفاظت ہونی چاہئے۔ان سے برتاؤ مہمانوں کی طرح کیا جانا چاہئے۔ کئی بار ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔کھانا بھی ایسے ہی کھلا دیا جاتا ہے۔ایصال ثواب کے لئے کرائے کے قرآن خوان بلانے کے بجائے اگر ہم خودقرآن پڑھ کر بخشیں تو خودقرآن پڑھنے کا ثواب بھی ملے گا اورایصال ثواب سے دل اوردماغ کو سکون بھی ملے گا۔ مدرسے کے بچوں کو اپنی مسجد کے امام صاحب، موذن صاحب اور مدارس کے اساتذہ کو بغیر قرآن خوانی کے بھی کھانے پر بلا سکتے ہیں۔ اوربلانا چاہئے۔لیکن شادیوں کی تقریب میں اکثرہمیںیہ لوگ یاد نہیں آتے حالانکہ ولیمہ میں غریبوں کو مدعو کرنے کی تلقین ہے۔بخاری شریف نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت نقل کی ہے کہ بدترین ولیمہ وہ ہے جس میں صرف دولت مندبلائے جاتے ہیں، غریبوں کونہیں بلایا جاتا۔‘
ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی بڑی اہمیت ہے۔ غروروتکبر کے مرض سے نجات ملتی ہے۔ تواضع کی عادت پڑتی ہے اورہمیں نہیں معلوم کس وقت کس غیرت مندغریب مجبور کے دل سے نکلی ہوئی دعا ہمارے کام آجائے۔ نجانے گدڑی میں اللہ کا کونسا مقبول بندہ ہمارے دسترخوان پر کھانا کھاکرہمارے لئے مغفرت کا راستہ کھول دے۔