مکان:خدا کی رحمت

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمدصابرحسین ندوی،ایم پی
اسلام زندگی کے ہر شعبہ میں انسانوں کی رہنمائی بخوبی کرتا ہے اور دشواریوں میں ایسے مناسب حل و تجاویز کی تشکیل کرتا ہے ؛جس سے اس کی زندگی نہ صرف بہتر بلکہ تہذیب وتمدن میں اعلی معیار قائم کر سکے، جائز و حلال رزق کھانا، مناسب پہننا اور عمدہ رہائش کی تلقین بھی اسی کا ایک حصہ ہے ،تاکہ ایک بہتر خاندان ،معاشرہ اور ملک وجود میں آئے اور احکام اسلام کا من و عن انطباق ہو سکے ۔واقعہ یہ ہے کہ مکانات کی اہمیت اور بنیادی ضرورت کے پیش نظر قرآن کریم نے بھی ۳۲ مقامات پر لفظ ’’بیت ‘‘کا ذکر فرمایا ہے، ساتھ ہی اس سے متعلق معتدد احکام بھی بیان فرمائے، ایک جگہ اس کی حرمت وتکریم کی بھی وضاحت فرمائی ہے’’یا ایھا الذین آمنوا لا تدخلوا بیوتاً غیر بیوتکم حتی تستانسوا وتسلموا علی اھلھا ذلکم خیر لکم لعلکم تذکرون” (نور:۲۷)،اوربعض مسائل و غلط فہیمیوں کی طرف بھی اشارہ فرمایا’’لیس البر ان تاتوا البیوت من ظھورھا وأتوالبیوت من ابوابھا ‘‘(بقرۃ:۱۸۹)،’’فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفاھن الموت ۔۔۔۔۔‘‘(نساء:۱۵)۔۔۔۔وغیرہ۔
اسی طرح حضور اکرمؐ سے بھی متعدد روایتیں مکانات کی فضیلت اور اس کے حصول کی ترغیب کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ،ایک دفعہ آپ ؐ نے فرمایا: انسان کے لئے خوش بختی کی بات ہے کہ اسے بہترپڑوسی ،سواری،نیک بیوی اور وسیع گھر نصیب ہوتو ؛وہیںبرا پڑوسی، سواری، عورت اور تنگ گھر بدبختی میں سے ہے’’قالؐ:من سعادۃ المرء ؛الجار الصالح ،والمرکب الھنیء، والمسکن الواسع‘‘ (بخاری:۳۰۲۹)،وقال:’’اربع من السعادۃ: المرء ۃالصالحۃ والمسکن الواسع والجارالصالح والمرکب الھنئی، واربع من الشقاء :المرء السوء، والجار السوء، والمرکب السوء والمسکن الضیق ‘‘(صحیح الجامع:۸۸۷)،حتی کہ حضور اکرم ؐ نے ’’لیلۃ القدر‘‘ میں یہ خاص دعاء فرمائی :اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما، میرے گھر میں وسعت نصیب فرما،اور جو کچھ دے اس میں برکت عطا فرما’’اللھم اغفرلی ذنبی ووسع لی فی داری وبارک لی فیما رزقتنی ‘‘( صحیح الجامع:۱۲۶۵)،نیزآپؐ نے خود جاں نثاروں کی جانب سے عمدہ ترین رہائش گاہوں کے انتظام کے باجود ،نفس کشی اور جفا کشی کی اعلی صفات پر فائز ہوتے ہوئے بھی ضرورت اصلیہ کے تحت حجرے تعمیر کروانے کی فکر کی(سیرت النبی:ج-۱)۔
    فقہا ء عظام نے بھی مکانات کے مختلف مسائل پرتشفی بخش بحث کی ہے ،اور اسے نفقہ کی ضرورت میں شامل کیا ہے ،شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ ؒ نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کوئی اس بات پر قادر ہو کہ بے گھر لوگوں کو پناہ دے سکے تو اس پر لازم ہے کہ وہ پناہ دے ’’اذا قدر ان قوماً اضطروا الی سکنی من بیت انسان اذالم ھجدوا مکاناً یأوون الیہ الا ذلک البیت فعلیہ ان یسکنھم ‘‘(مجموع الفتاوی:۲۸۔۲۹)،علامہ ابن حزم ؒ نے کا ماننا ہے کہ قوم کے اغنیاء پر فرض ہے کہ غرباء کے لئے کھانے پینے اور رہنے کا انتظام کریں ،بلکہ اگر ضرورت ہو تو سلطان اس پر مجبور بھی کر سکتا ہے’’فرض علی الاغنیاء من اھل کل بلد أن یقوموا بفقرائھم ویجبرھم السلطان علی ذلک ،ان لم تقم الزکوات بھم ولا فی سائر اموال المسلمین بھم، فیقام لھم مما یأکلون من القوت الذی لا بد منہ ومن اللباس للشتاء وللصیف بمثل ذلک وبمسکن یسکنھم من المطر والصیف والشمس وعیون الماء‘‘(المحلی بالآثار:مسألۃ۷۲۵)۔

✍ *محمدصابرحسین ندوی،ایم پی *