مولانا عبدالماجد دریابادی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

     مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ ایک مفسر قرآن کے ساتھ ساتھ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی لبریز تھے،مل، ہیوم اور اسپنسر جیسے فلسفی کے فلسفوں نے تشکیکی و ارتیابی نظریات ضرور پیدا کردئے تھے،اور عقیدہ الحادیت ودہریت کو پوری طرح سے گلے لگا لیا تھا، حتی کہ مذہبی خانوں میں اپنے آپ کو “ریشنلست” عقلیت پسند لکھنے لگے تھے،علامہ شبلی کے علم کلام پر اپنے ہی شائع کردہ ماہنامہ سے رد لکھنا شروع کردیا تھا، ابوالکلام آزاد پر بھی برہم تھے؛یہ سب کچھ تھا؛ لیکن خاندانی شرافت نے کبھی ظرافت کا دامن نہ چھوٹنے دیا، وضع قطع اور رکھ رکھاو سے کبھی دہریت کی بو نہ آئی؛ حالانکہ اس کا زمانہ دس سے بارہ سالوں کا ہے،جن کے درمیان نہ جانے کیسے کیسے حالات پیش آئے؟،ازدواجی زندگی سے لے کر معاشی حالت پر بھی اثر پڑا،اور علامہ شبلی کی جانب سے سیرت النبی کے انگریزی مواد پر کام اور اس سے ملنے والی معتد رقم سے بھی ہاتھ دھونا پڑا،خود والد محترم ان کا غم کھاتے کھاتے آسودہ خاک ہوگئے،کئی اولادوں کا انتقال بھی ہوگیا؛تب بھی باد صر صر برابر اپنی روش پر باقی رہی۔
     *الحاد ودہریت کا ایک بڑا راستہ سیرت طیبہ پر مستشرقین اور مغربی متعصب کی تحریروں کا ہوتا ہے،اور وادی غیر ذی زرع کا سب سے زیادہ تیر نشتر کا شکار بھی یہی میدان ہوتا ہے، مولانا نے اگرچہ بعض مضامین اس تعلق سے قطع وبرد کردی ہو ؛مگر عموما آپ ذات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ متاثر رہے؛ بلکہ اس تعلق سے دفاع بھی کرتے رہے،اسی زمانے میں مولانا عبدالباری ندوی کے ساتھ ایک دفعہ ایک پادری سے بحث ومباحثہ کرنے چلے گئے تھے؛اور انگریزی میں خوب حجت کی تھی،پھر جب علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ کی کتاب سیرة النبی کی پہلی جلد شائع ہوئی تو علامہ کی تحریروں کا یہ پروانہ اس شمع پر ٹوٹ پڑا تھا،اور اسی راہ سے الحادیت کی زنجیر کے کھلنے اور صراط مستقیم کی راہ بھی ہموار ہونے لگی،جب آپ نے تجدید ایمان فرمایا تو یہ محبت عشق و جنوں میں بدل گئی تھی؛جسے مقام اقدس کی زیارت کے ذریعہ بجھانے کی کوشش کی گئی، مولانا کی کتاب “سفر حجاز” دراصل عشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی آئینہ دار ہے،اس کے ہر لفط میں عقیدت ومحبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے،اور اتنی نمایا ہے کہ اس کی چاشنی ہر قاری محسوس کرسکتا ہے۔*
    مولانا نے اپنی شاعری کے ذریعہ بھی خراج عقیدت پیش کرنے کی عمدہ ترین کوشش کی ہے،اور زلف وکاکل، لب ورخسار سے نکل کر تمام تر نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ چڑھ چکا تھا،اور اس سلسلہ میں ایک دفعہ جوہر کی زمین کا انتخاب فرمایا تھا،جس کا مطلع تھا:
*تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں*
*اب ہونے لگیں ان سے،خلوت مین ملاقاتیں*
اسی زمین پر کچھ یوں گویا ہوئے تھے۔۔۔۔
*پڑھ صل علی حق کے محبوب کی ہوں باتیں*
*رحمت کی گھٹائیں ہوں اور نور کی برساتیں*
*محشر میں اماں پائی صدقے میں درودوں کے*
*دشواری میں کام آئیں،بھیجی ہوئیں سوغاتیں*
   ایک نظم تو بہت ہی مشہور ہوئی جس کے بارے میں مولانا نے لکھا ہے؛ کہ اکثر قوالوں کے زبان سے سننے کو مل ہی جاتی ہیں،اور انہیں پیسہ دلواہی دیتی ہیں،دو ایک شعر عرض ہے:
پرھتا ہوا محشر میں جب صل علی آیا
رحمت کی گھٹا اٹھی اور ابر کرم چھایا
چرچے ہیں فرشتوں میں اور رشک ہے زاہد کو
اس شان سے جنت میں سیدائے نبی آیا
اک عمر کی گمراہی اک عمر کی سرتابی
جز تیری غلامی کے آخر نہ مفر پایا
*فاسق کی ہے یہ میت پر ہے تو تیری امت*
*ہاں ڈال تو دے دامن کا اپنے ذرا سایہ*
محمد صابرحسین ندوی