موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس

حضرت مولانا سالم قاسمی رح کی وفات پر ایک وفیاتی و تعزیتی  مضمون

خاندان قاسمی کے رکن رکین، فرد فرید اور عظیم سپوت، مسلک دیوبند کے بے مثال ترجمان، فکر نانوتوی کے معتبر و موقر اور موقع شناس عالم و شارح اور اسلاف کے علمی و روحانی کارناموں کے  و قلم، ملت اسلامیہ ہندیہ کے مخلص اور بے لوث قائد و سرپرست *حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رح* کے خلف الرشید اور *دار العلوم وقف دیوبند کے روح رواں اور میر کارواں *حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی* آج سہ پہر دار فانی سے دار باقی کی طرف کوچ کر گئے اور بزم رفتگاں کا ایک حصہ بن گئے ۔

*لائ حیات آئے قضا لے چلی چلے*
*اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے*

*حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب اسلاف سے جا ملے اور وہاں چلے گئے جہاں باری باری ہم سب کو وقت متعین پر جانا ہے ۔ کیوں کہ خلاق ازل نے اس دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ *کل نفس ذایقة الموت* ( ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے) کی حقیقت ہر ایک پر صادق آکر رہے گی، اس سے کوئ بھی فرد بشر حتی کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی ذات بھی مستثنٰی اور علحدہ نہیں ہے ۔

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے

مشہور ادیب اور شاعر ماہر القادری صاحب مرحوم نے اپنی کتاب *یاد رفتگاں* جلد اول میں ایک جگہ موت اور زندگی کے حوالے سے لکھا ہے :

*فروغ شمع تو باقی رہے گا صبح محشر تک*
*مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے*

اس عالم کون و فساد میں موت ہر جان کے ساتھ لگی ہوئ ہے ۔ اللہ تعالٰی کی ذات کے سوا ہر شئ فانی اور آنی جانی ہے ،احتیاج اور فنا مخلوق کی صفت ہے، آدمی کوئ شک نہیں خلاصئہ کائنات اور اشرف المخلوقات ہے مگر وہ ۔۔ ضعیف البیان۔۔ بھی تو ہے ۔

*کریں کیا اپنی ہستی کا یقیں ہم*
*ابھی سب کچھ ابھی کچھ بھی نہیں ہم*

جس جان کے لئے کاتب تقدیر نے جو کچھ لکھ دیا ہے اس میں کمی بیشی ممکن نہیں ،ایک لمحہ کے لئے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔مگر
*آدمی نشئہ غفلت میں بھلا دیتا ہے*
*ورنہ جو سانس ہے پیغام فنا دیتا ہے*

اور
*موت میں اور حیات میں وقفئہ درمیاں کہاں*

حافظ شیرازی نے بڑی سچی بات کہی ۔۔۔
*زمانہ جام بدست و جنازہ بردوش است*
(یاد رفتگاں از ماہر القادری مرحوم)

*یاد رفتگاں* کے نام سے وفیات کا ایک دوسرا بہترین،شاہکار اور قیمتی مجموعہ *علامہ سید سلیمان ندوی رح* کا ہے اس کے مقدمہ میں جناب سید ابو عاصم ایڈوکیٹ (کراچی) نے موت اور زندگی کی جو تصویر کشی کی ہے وہ بہت ہی پر مغز اور مبنی بر حقیقت ہے ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے اس کا تذکرہ بھی کر دیا جائے تاکہ خاندان قاسمی اور ملت اسلامیہ کے جتنے دل بھی اس حادثہ پر مغموم افسردہ اور رنجیدہ ہیں سب کے لئے باعث تسلی اور وجہ سکون ہوجائے اور میری طرف سے مولانا قاسمی رح کے ورثاء ،پسماندگان اور متعلقین اور ان کے تمام شاگردوں کے لئے تعزیت نامہ بھی ہوجائے ۔ سید ابو عاصم صاحب لکھتے ہیں :
*حکایت ہستی کے دو ہی اہم واقعات ہیں، پیدائش اور موت ،موت و حیات کا فلسفہ کائنات کے دوسرے اسرار کی طرح اب تک لا ینحل ہے ۔

فلسفی سر حقیقت نہ توانست کشود
گشت راز دیگرآں راز کہ افشا می کرد

کچھ لوگ متحیر ہیں اور کہہ اتھتے ہیں،
سنی حکایت ہستی تو درمیان سے سنی
نہ ابتداء کی خبر ہے نہ انتہا معلوم

حالانکہ انہیں دونوں کے تصور پر عمرانیات کی بنیاد کھڑی ہے ،موت کی حقیقت کچھ بھی ہو لیکن یہ زندوں اور مردوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دیتی ہے، اور اسی وجہ سے موت پر غم ایک فطری جذبہ ہے، مگر مسلمان کا غم دنیا کی تمام دوسری قوموں کے غم سے مختلف ہے،اس لئے کہ مسلمان اس کائنات اور کائنات سے ماوراء کے متعلق ایک خاص نظریہ اور تصور رکھتا ہے ،وہ موت کو زندگی کا خاتمہ نہیں سمجھتا ،بلکہ ایک نئ زندگی کا آغاز سمجھتا ہے ۔ اس لئے اس کو غم عارضی فراق کا ہوتا ہے ،اس کے برخلاف دوسری قومیں موت پر غم اس لئے کرتی ہیں کہ ان کے نزدیک محبوب کی ہستی فنا ہوگئ، ان اوراق میں موت پر فطری غم تو ضرور ہے لیکن ایک مسلمان کا غم ہے*
(مقدمہ یاد رفتگاں از سید سلیمان ندوی رح)

حضرت مولانا قاسمی صاحب رح کے نمایاں،زندہ و تابندہ اور عظیم کارنامے، اوصاف و کمالات امتایازات و خصوصیات نیز علمی دینی سماجی ملی اور قومی خدمات کا تذکرہ بہت سے لوگ کریں گے اور بعض کرچکے اور آپ کے حیات مستعار کے مختلف گوشوں پر مزید خامہ فرسائ کریں گے اور خوب کریں گے ، تعزیتی جلسوں میں آپ کی خدمات اور کارنامے پر اظہار خیال ہوگا ۔ اور حق بھی ہے کہ مولانا رح کی زندگی کے تمام گوشوں اور کارناموں کا احاطہ کیا جائے اور ان کی علمی وراثت اور امانت کو لوگوں تک پہنچایا بجائے اس لئے کہ حضرت مولانا سالم صاحب قاسمی ان عبقری اور جنیس لوگوں میں سے ہیں جن پر شاعر کا یہ شعر ہو بہو صادق اور فٹ آتا ہے کہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بہت مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

لعمرک ما واری التراب فعالہ
ولکنہ واری ثیابا و اعظما

خدا کی قسم مٹیاں صرف اس کے جسم و پیرھن کو چھپا سکیں گی ان کے زریں تابندہ اور درخشاں کارنامے مرور ایام کے ساتھ اور روشن ہوتے چلے جائیں گے۔
کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ العلم حی خالد بعد موتہ ۔۔ اہل علم تو مر کر بھی دائمی اور ابدی زندگی پاتے ہیں
سچ کہا شاعر نے
*موت نے ان کو عطا کی ہے حیات جاوداں*
(مذکورہ عربی شعر مخلص ما مولانا سراج اکرم ہاشمی فاضل دیوبند کے تعزیتی پیغام سے ماخوذ ہے )

بس اس دعا کے ساتھ اس تعزیتی مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالی حضرت مولانا سالم صاحب قاسمی رح کی قبر کو نور سے بھر دے جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے ،وارثین، پسماندگان اور تمام متعلقین و منتسبین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہم سب کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے اور ان ہی کی طرح قابل رشک زندگی گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین
*آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے*
*سبزئہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

نوٹ : اس پیغام اور مضمون کو براہ کرم دوسروں تک زیادہ سے زیادہ شئیر کریں

محمد قمرالزماں ندوی 

مدرسہ نورالاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی 

اپنا تبصرہ بھیجیں