ملک کو درپیش حالات سے بچانے کی ضرورت

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!
اشفاق احمد القاسمی معھد الکتاب والسنہ ضلع نوادہ بہار

اشفاق احمد القاسمی معھد الکتاب والسنہ ضلع نوادہ بہار

موجودہ ملکی حالات اور اس کے گرد وپیش کاجائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی دور میی امن و سکون اور اتحاد و یکجہتی کا گہوارہ کہلانے اور اس حوالے سے دنیا بھر میی اپنی انفرادی شناخت رکھنے والا ہندوستان اس وقت پوری طرح عدم اطمینان اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے ۔ایک طرف جہاں یہ ملک آزادی کے بعد سے لیکر آج تک مسلسل دہشت گردی کے سنگین مسلئے میی الجھا ہوا ہے اور تمام تر ضرورت اقدامات اور کوششوں کے باوجود اس سے نہ تو اپنا پیچھا چھڑا سکا ہے اور نہ ہی اس ملک کی انتظامیہ کو اس سے نجات پانے کی کوئی معقول راہ سمجھ میی آرہی ہے ۔تو وہی دوسری طرف فرقہ واریت، مذہبی منافرت ، علاقائی و لسانی عصبیت ،

تشدد اور نکسلزم کے بڑھتے اثرات اور صبح و شام کے بدلتے حالات نے اس عظیم ملک کو سونے کی چڑیا بناکر ایک ایسے نازک موڑ تک پہنچا دیاہے جسے نہ تو اسکے شاندار مستقبل کیلے کسی بھی اعتبار سے اطمینان بخش قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ایسے ماحول میی ملک کے اندر خوشگوار ماحول پیدا ہونے کی کوئی امید کی جاسکتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ ہر آنے والا دن یہاں نہ صرف ایک نئے اور اندو ہناک حادثہ کو جنم دے رہا ہے بلکہ ملک کے طول و عرض میی پھیلے عوام کی ایک بڑی اکثریت ایسے مسائل میی گھرتی چلی جارہی ہے کہ اسکی سنگینی کا صیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور حالات کچھ اس طرح کے ہوگے ہیی کہ نہ تو عوام مطمئن ہے اور نہ ہی خواص کو سکون حاصل ہے ۔

ہر چہار جانب افراتفری اور لوٹ گھسوٹ کا بازار گرم ہے۔سیاسی افراد اور ملک کے نمائندے غریب اور مفلوک الحال عوام کے جزبات و احساسات اور ان کی نفسیات سے کھواڑ کرنے اور اپنی اناکی تسکین و ذاتی مفادات کے تحفظ کیلے ملک و قوم کی عظمت و تقدس کو داغدار کرنے کے علاوہ ہندوستان کے وقار کو سودا کرنے کے تمام حربے اپنائے ہوئے ہیی،ملکی انتظامیہ اور سیاسی جماعتیں قومی مفادات کے نام پر غریبوں کا خون چوسنے اور ان کے جائز حقوق کو ہضم کرنے پر آمادہ نظر آتی ہیی۔یہی تو وجہ ہے کہ پورا ملک رشوت خوری،کالا بازاری،دلالی،ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی جیسے مسائل سے جھوجھ رہاہےبلکہ اس میی کمی آنے کے بجائے آئے دن تیری آتی جارہی ہے اور حدتو یہ ہے کہ اسی کو ملک کے شاندار مستقبل کی ضمانت تصور کیا جانے لگاہے ۔
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کیلے گلو بلائزیشن کے موجودہ دور میی بھی ترقی و خوشحالی کے الفاظ بے معنی سے ہو کررہ گیے ہیی بلکہ غریبی اور امیری کے درمیان فاصلہ دن بدن اس تیزی سے بڑھتا جارہا ہے کہ اسکی سنگینی ملک کو کسی بھی رخ پر لے جاسکتی ہے۔اس وقت عالم یہ ہے کہ ایک طرف جہاں سرمایہ داری کے جنون میی غرق مٹھی بھر مالدار طبقہ اور بااثر سیاسی افراد غریبوں کی غربت کا مزاق اڑا کر اور عوامی جزبات و احساسات سے کھلوڑ کرکے پوری بے حسی کے ساتھ شاہی محلات میی عیش کی زندگی گزار رہے ہیی اور ان کے جائز و ناجائز شوق کی تکميل میی کوئی چیز مانع نہیں ہوتی ، وہیی دوسری طرف ہندوستان کی مجموعی آبادی کا ایک بڑا حصہ وہ بھی ہے۔جن کو نہ صرف دو وقت کی روٹی کیلے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے بکلہ قدم قدم پر ذلّت و رسوائی ان کا مقدر بن گئ ہے۔اور انکو اس قسم کے برے حالات نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے خس کیلے کسی وضاحت یا دلیل کی ضرورت نہیں،

بلکہ در در بھٹکتے لوگ، پھوٹ پاتھوں پر زندگی گزارتے افراد، اینٹ بٹھوں پر برباد ہوتا بچپن کوڑے کرکٹ پر اپنی روزی تلاش کرتے بچے ایک وقت کی روٹی کیلے اپنی عزت و عفت کا سودا کرتی غریب لڑکیاں یہ اور اس طرح کی دیگر سچائیاں اس کے اہم ثبوت ہیی جو ہر آنکھ والے کو صاف دکھائی دے سکتی ہیی۔
ان سب کے علاوہ ادھر ملک بھر میی نکسلیوں کے بڑھتے اثرات نے ہر طبقہ کو ملک کے مستقبل کے تعلق سے فکر مند بنا رکھا ہے چونکہ انہوں نے اپنے ناپاک عزائم کی تکميل کیلے ایسے طریقہ کار اختیار کئے ہوئے ہیی جو کسی بھی وقت اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتے ہیی۔ پورے ملک میی مزہبی منافرت و عصبیت کا ایسا کھیل کھیلا جارہا ہے کہ اگر ان حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ان کے حل کیلے فوری اقدامات نہ کئے گئے اور ان سے نمٹنے کی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہ کی گئ تو پھر آنے والے وقت میی ہندوستان کو غیر یقینی حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور ایسے وقت میی کوئی بھی حکمت عملی ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچنے سے نہیں بچاسکتی۔امن دشمن اور انسانیت کا قتل کرنے والے نکسلی اور فرقہ پرست تنظیمیں ملک و قوم کیلے بربادی کے منصوبوں کےساتھ پوری طرح سر گرم عمل ہے۔
لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے نکسلیوں کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کیلے نہ تو ابھی تک کوئی مضبوط حکمت عملی تیار کی جاسکی اور نہ ہی ان کی نفسیات کو سمجھنے اور ان کے جائز مطالبات کو پورا کرنے پر زور دیا گیا۔جبکہ سچائی تو یہ ہے کہ ان امور پر توجہ دئے بغیر ان مسائل کے حل کی امید دیوانے کے خواب کے برابر ہوگا۔اسلیے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت دیگر قابل توجہ مسائل کے ساتھ نکسلیوں کے نفسیات کو بھی سمجھنے کی کوشش کرے۔ورنہ ان کی طرف سے آئے دن اٹھنے والا قدم کل کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
اشفاق احمد القاسمی
معھد الکتاب و السنہ ضلع نوادہ بہار