ملک کا عصری منظر نامہ اور اردو ہندی کی ساجھی وراثت

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

ڈاکٹر پریتی چودھری نے بہت ہی خوبصورت لب ولہجہ اور بھرپور معنویت کے ساتھ اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ہندی ، اردو اور ہندو مسلمان کی ساجھی وراثت کی روشن تاریخ کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت جس دشا(جانب) میں ہمارا ملک آگے بڑھ رہا ہے ، وہاں کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں

ڈاکٹر سیّد احمد قادری
اس وقت جب کہ سیمینار کے نام سے ہی عام طور پر لوگ عدم دلچسپی اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اور مشورہ دے رہے ہیں کہ چند برسوں کے لئے سیمینار کا سلسلہ بند کر دیا جائے کہ سیمینار میں خانہ پُری کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں بنارس ہندو یونیورسٹی کے ذریعہ ہندی اردو کی ساجھی وراثت کے موضوع پر منعقد ہوئے سیمینار نے اس خیال کو مسترد کر دیا ۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سو سال مکمل ہونے پر اپنے سو سالہ سفر کو نہ صرف یادگار بنانے کے لئے بلکہ اس یونیورسٹی کی شاندار تہذیبی روایت کو آگے بڑھانے کے لئے ہندی شعبہ کے ساتھ مل کر ایک ایسے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا ، جس پر اب تک توجہ نہیں دی گئی تھی ۔ سیمینار کا موضوع تھا ’’ اردو ہندی کی ساجھی وراثت‘‘ لیکن اس موضوع کی کینوس کو اتنا بڑا کر دیا گیا ،کہ اس وراثت کے ماضی اور حال کے بہت سارے مسائل پر بھرپور اور بہت کھل کرگفتگو ہوئی ۔ سیمینار میں شامل ہونے سے قبل میں نے بھی یہی سمجھا تھا کہ جس طرح ان دنوں سیمینار کے نام پر خانہ پری ہوتی ہے ، ایسا ہی کچھ ہوگا ۔ لیکن موضوع ایساتھا کہ میں وہاں جانے پر مجبور ہوا اور وہاں پہنچ کر مقررین کی تقاریر سن کر مجھے بے اختیاربودھ مذہب کے دھرم گرو دلائی لامہ کی گزشتہ سال کہی یہ بات بے اختیار یاد آ گئی کہ اس ملک میں ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ،امن، بھائی چارے، روادار اور سیکولرازم پر یقین رکھتی ہے ، اس لئے کہ امن اور بھائی چارہ ہندوستان کی عظیم روایات میں سے ایک ہے جو ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہے ۔

ہندی اردو کی ساجھی وراثت جیسے بہت ہی اہم موضوع پر اردو ، ہندی شعبہ کے دونوں صدور ڈاکٹر آفتاب عالم آفاقی اور ڈاکٹر چمپا سنگھ نے اردو اور ہندی ادب کے ایسے ایسے مشاہیر ادب کو مدعو کیا تھا ، جو نہ صرف سیکولرازم پر یقین رکھتے ہیں ، بلکہ بے باک اور بے خوف ہو کرلکھنے کے لئے مشہور ہیں ۔ ہندی اردو کے ان مشاہیر ادب نے علم و ادب کے حوالے سے جس طرح اپنے ملک کی ہزاروں برسوں کی گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ روایات کی ساجھی وراثت پر پوری وضع داری، دیانتداری اور تاریخی حقائق کے ساتھ دانشورانہ گفتگو کی ، اس نے نہ صرف ماضی کی سنہری تاریخ کی یاد دلائی ، بلکہ موجودہ حالات پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کرنے میں بھی ذرا بھی ہچک محسوس نہیں کی۔ ہم ماضی میں بہت دور تک نہیں بلکہ بس ماضی قریب کے حالات پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اردو ، ہندی کی ساجھی وراثت بھی یہی رہی ہے کہ ان دونوں زبانوں نے مشترکہ طور پر ایسا ادب پیش کیا ہے ، جن میںیہ دونوں زبانیں، تہذیبی سر چشمے ، اسطوری سوتے، سماجی آہنگ اور رواداری پر مبنی رہی ہیں ۔ امیر خسرو ، جائسی، کبیر ، قلی قطب شاہ اور نظیر اکبر آبادی سے لے کر پریم چند ، فراق گورکھپوری ، نظیر بنارسی وغیرہ نے اپنے عہد کے اعلیٰ قدروں کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ ان لوگوں نے ہمیشہ ظلم ، استحصال ، عدم رواداری اور عدم مساوات کے ساتھ ساتھ مرد اساس معاشرے میں عورتوں پر کئے جانے والے مظالم اور غیر منصفانہ عمل نیز ان کے احساسات و جذبات کو پامال کئے جانے کے خلاف سینہ سپر رہے ۔ ان مسائل پر جس طرح اس سیمینار میں اردو اور ہندی کے قلم کاروں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، وہ عصری منظر نامہ میں اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ انھیں کتابی شکل میں شائع کر ملک کے تمام تعلیمی اداروں تک پہنچانے کی کوشش ہونی چاہئے ، اور بتایا جائے کہ دیکھو ہمارے ملک کی ساجھی وراثت اور روایات کیا رہی ہے اور عصری ماحول کو کس طرح جھوٹ اور غلط بیانی کا سہارا لے کر اور مسخ کر ہماری شاندار تہذیب ، تمدن اور اقدار کو پامال کرتے ہوئے تاریخ کو تاریک کیا جا رہا ہے ۔
اس سیمینار میں جس جرأت کے ساتھ عصری ماحول کے بگاڑنے والوں کی مزمت کی گئی ، اور اس بات کا عہد کیا گیا کہ ملک کبھی بھی مٹھی بھر فرقہ پرستوں کے عزائم کو پورا نہیں ہونے دے گا ۔ پورے ملک کے سیکولر ،امن و آشتی اور اتحاد و اتفاق پر یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اطمینان کا باعث ضرور ہے کہ جب تک ہمارے درمیان پروفیسر چوتھی رام یودو، اصغر وجاہت، پروفیسر کاشی ناتھ سنگھ، آشیش ترپاٹھی، پریتی چودھری،شانتی ماتھر،روہنی اگروال،سمیر پاٹھک،سدھا اروڑا وغیرہ جیسی شخصیتیں ہمارے درمیان موجود ہیں اور جس جرأت، ہمّت اور حوصلے کے ساتھ نفرت، تشدد، عدم رواداری اور فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔ وہ اس امر کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ انھیں دابھولکر، پنسارے اور گوری لنکیش وغیرہ کے فرقہ واریت اور ظلم وبربریت کے خلاف اظہار کے لئے انھیں گولیوں سے چھلنی کئے جانے پر خوف و دہشت میں مبتلا کرنے کی بجائے انھیں نیا حوصلہ، جوش اورولولہ ملتا ہے ۔
اس تاریخی سیمینار میں ڈاکٹر پریتی چودھری نے بہت ہی خوبصورت لب ولہجہ اور بھرپور معنویت کے ساتھ اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ہندی ، اردو اور ہندو مسلمان کی ساجھی وراثت کی روشن تاریخ کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت جس دشا(جانب) میں ہمارا ملک آگے بڑھ رہا ہے ، وہاں کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔ مٹھی بھر متعصب لوگوں کے ذریعہ فرقہ واریت اور فتنہ پردازی کو بڑھاوا دینے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے والوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بہت ہی اعتماد کے ساتھ انھوں نے کہا کہ ہمیں ایسے منافرت بھرے حالات سے مایوس نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ ملک کی ساجھی وراثت پر غور و فکر اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر پریتی نے اس بات پر اپنی ناراضگی ظاہر کی کہ بعض سیاسی مفاد پرستوں نے ہندی زبان کو ہندوؤں سے اور اردو زبان کو مسلمانوں سے منسوب کر دیا ہے ، جو سراسر غلط ہے ۔ انھوں نے اس سازش کی مذمت کرتے ہوئے کئی ایسے مسلم نام گنوائے ، جنھوں نے ہندی زبان و ادب اور ایسے بہت سارے ہندو مشاہیر ادب نے اردو زبان و ادب میں گرانقدر اضافہ کیا ہے ۔ ڈاکٹر پریتی نے فرقہ پرست عناصر کی زبردست تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بظاہر جھوٹ کا بول بالا ہے ، لیکن سچ کی اہمیت ہر زمانے میں تسلیم کی گئی ہے ۔ اس وقت افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ سیکولرازم کی بات کرنا اپرادھ(جرم) بتایا جا رہا ہے ، جو کہ کس لوک تنتر (جمہوریت) کی بات کی جارہی ہے ۔ انھوں نے منٹو کے افسانہ’’ کھول دو‘‘ پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے یہ افسانہ پڑھا تو میں رات بھر بے چین رہی اورمیں پوری رات سو نہیں پائی ۔

ڈاکٹر پریتی کا یہ جملہ مجھے اس وقت بہت شدت سے یاد آیا ، جب کٹھوعہ کی معصوم اور بے گناہ آٹھ سالہ بچی آصفہ کا آٹھ دنون تک قانون اور مذہب کے ٹھیکہ داروں نے عصمت دری کرنے کے بعد اپنے گناہ چھپانے کے لئے اس بچی کو پتھروں سے کچل کر مار ڈالا اور جنگل میں پھینک دیا ۔ جب سارا معاملہ اجاگر ہوا تو بے حیائی اور انسانیت کو شرم شار کر دینے دینے والے لوگوں نے انتہا یہ کر دی کہ ان مذہب اور قانون کے رکھوالے ظالموں اور زانیوں کی حمایت میں اپنے ایجنڈے کے مطابق سڑکوں پر اتر آئے ۔ ایسے میں ملک کے لوگوں کا غم و غصہ پھوٹ پڑا ، اور ایسی درندگی اور وحشیانہ عمل پر ملک کا شائد ہی ایسا کوئی امن اور انسانیت پسند ہوگا ، جو نہ رویا ہوگا ، جس کی راتوں کی نیند نہیں اڑی ہوگی اور ایسا کون سا شہر اور گاؤں ہوگا ، جہاں ہندو، مسلم سکھ، عیسائی نے مشترکہ طور پر ایسی گھناؤنی اوروحشیانہ فعل کی مزمت کرتے ہوئے زبردست مظاہرے نہیں کئے گئے ۔ ۔ زانیوں کی حمایت میں جلسہ جلوس کرنے والوں کو جب اس بات کا اندازہ ہوا کہ ملک کے عوام، خواہ وہ کسی مذہب کے ہوں ان زیادتیوں اور جبر و ظلم کو برداشت نہیں کرے گی ، تو وہ سب کے سب دبک گئے۔
ملک کے اندر پھیلی بد امنی فرقہ واریت کے خلاف اس سیمینار میں معروف فکشن نگار مشرف عالم ذوقی نے بھی عصری ماحول پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفصیل سے بتایا کہ ملک کے جن مسلمانوں کے خلاف منظم طور پر نفرت کا مظاہرہ ہو رہا ہے ، ان مسلمانوں نے اس ملک کی آزادی ، ترقی اور خوشحالی کے لئے کتنی قربانیاں دی ہیں ، جو تاریخ کا حصہ ہے ۔ سیمینار کے دوسرے دن ہندی کے مشہور نقاد پروفیسر چوتھی رام یادو نے تو کمال کر دیا ، ایسی بے باکی ، ایسی جرأت اور ایسے دانشورانہ خیالات کا اظہار کیا کہ میں کیا پورا مجمع ششدر رہ گیا اور سبھوں کو اس بات کایقین ہو گیا کہ جب تک ہمارے درمیان پروفیسر چوتھی رام یادوجیسے لوگ موجود ہیں اس وقت تک ملک کی یکجہتی اور سا لمیت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ منافرت ، تشدد اور انتشار سے ملک کو کمزور کرنے والے ایسے مٹھی بھر لوگ ہر زمانے میں سامنے آتے ہیں اور پروفیسر چوتھی رام یادو جیسے لوگوں کے شدید حملوں سے خوف زدہ ہو کر ہائبر نیشن میں چلے جاتے ہیں ۔ پروفیسر چوتھی رام یادو نے ایسے فرقہ پرستوں اورملک دشمن عناصر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اراجک کے دور میں جی رہے ہیں۔جہاں کھانے ،پینے ،، لکھنے اور بولنے تک کی آزادی نہیں ہے اور کوئی بولا توانھیں دابھولکر، پنسارے اور گوری لنکیش کی طرح موت کے گھاٹ اتاردئے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے ،جو سراسر انّنیائے (ظلم)ہے۔ طاقت اور دولت کے سامنے آج نیالائے(عدلیہ)، میڈیا اور چناؤ آیوگ(الیکشن کمیشن)تک سب کے سب ان کے غلام بن چکے ہیں ۔ایسے میں کیسے اور کس طرح لوگوں کو نیائے(انصاف) ملے گا؟ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بھارت کے نرمان(تعمیر) میں جن کا رتّی بھر کوئی بھومیکا(رول) نہیں رہا ،وہ یہاں کے مسلمانوں سے دیش بھکتی(حب اوطنی) کی سند مانگتے پھر رہے ہیں ۔ہمارا ملک بھارت ہمیشہ سے ایک سیکولر ملک رہا ہے اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سیکولرازم کی بنیاد صوفی ادب ہے ۔ لیکن افسوس کہ سیکولرازم کی پہچان کو ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ،اس کے تشخص کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے ۔پروفیسر چوتھی رام یادو نے ملک کے وزیر اعظم پر بھی گہرا طنز کرتے ہوئے ،یہ کہنے میں ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کی کہ یہ جب ودیش جاتے ہیں تو اس ملک کی تہذیب، تمدن اور اقدار کا ذکر کرتے ، مہاتما بدھ،مہاتما گاندھی اور امبیڈکر کی وراثت کو یاد کرتے ہیں اور پھر اپنے ملک واپس آتے ہی ان ناموں اور ان کی عظمت کو فراموش کرنے کی شعوری کوشش کرتے ہیں ۔ ایسی کوششوں سے ہماری مشترکہ تہذیب خطرے میں پڑتی جا رہی ہے ۔ منظم اور منصوبہ بند طریقے سے ایک خاص طرح کی تہذیب اور فکر کو دانستہ طور پر تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے۔پروفیسر یادو نے امید ظاہر کی کہ یہ بہت ہی اچھا موقع ہے کہ اردو ہندی کے لوگ متحد ہو کر ایسی شدت پسند طاقتوں کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں ۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہم ایسے اتحاد واتفاق سے جمہوری اقدار کے تحفظ میں کامیاب ہونگے ۔
پروفیسر چوتھی رام یادو کی اس تقریر کو ہندی اور اردو کے مشاہیر ادب ، اساتذہ اور طلبا و طالبات جس سنجیدگی سے سن رہے تھے اور جس طرح ان کی تقریر ختم ہونے کے بعد تالیوں کی گونج سے ان کی باتوں کی تائید کی گئی ، وہ عہد حاضر کے ان منافرت پھیلانے والوں اور عدم رواداری کو فروغ دینے والوں کے منصوبوں پر یقینی طور پر پانی پھیرنے کے لئے کافی ہے ۔
میں اس شاندار اور کامیاب سیمینار کے انعقاد پر اردو اور ہندی کے شعبوں کے صدور ڈاکٹر آفتاب عالم آفاقی اور ڈاکٹر چمپا سنگھ کو پورے ہندوستان ہی کے نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بسنے والے موجو د ہ ناگفتہ بہ حالات سے فکر مند ہندوستانیوں کی جانب سے بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان دونوں نے اپنی مشترکہ کوششوں سے ملک میں بڑھتی تاریکی کو ختم کرنے کے لئے سیکولرازم، یکجہتی،مساوات،انصاف اور رواداری کی جو شمع روشن کی ہے ۔

اس کی روشنی ایسے تمام اندھیروں کو نگل لے گی ، جو ملک کی ہزاروں برسوں کی گنگا جمنی تہذیب، سا لمیت اور تہذیبی اقدار کو ختم کر نے کے در پئے ہے۔ میں ڈاکٹر آفتاب عالم آفاقی کی اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ ہمارے سیمینار کی کامیابی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ہماری آواز میں آواز ملانے کے لئے پروفیسر کاشی ناتھ سنگھ ، پروفیسر چوتھی رام یودو ، پروفیسر آشیش ترپاٹھی، سدھا اروڑا وغیرہ جیسی سیکولر ذہن اور قومی مفادات کے لئے سرگرم شخصیات ہمارے ساتھ ہیں اور ملک کے اندر پھیلتی بد امنی، منافرت اور فرقہ واریت کے خلاف نبرد آزما ہیں ۔
بنارس ہندو یونیورسیٹی کے ہندی ، اردو کے شعبوں نے جس طرح پورے ملک کو جو مثبت پیغام دیا ہے ۔ ایسے پیغام کو وسعت دینے کی اس وقت سخت ضرورت ہے ۔ زبان اور ادب کے حوالے سے شاندار اور روشن ماضی سے عہد حاضر کی منفی سوچ اور بڑھتی تاریکی کو کیسے ختم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے اس کی بہترین مثال بنارس ہندو ہونیورسیٹی ، بنارس کے شعبہ ہندی اور اردو نے پیش کی ہے،جو لائق تحسین اور قابل تقلید ہے ۔