ملت اسلامیہ ہند کےلئے دور آزمائش

کل ملک غلام تھا تو بھی ہم آزاد تھے۔اسلئے کہ ملک کے پاسباں اور ملت کے نگہباں ہمارے اولوالعزم اکابرین ہیرے اور موتیوں کے خوبصورت ہار اور اس کی لڑیوں کی طرح ہمارے درمیان موجود تھے اور اپنی دور اندیشی و دوربینی سے ملک و ملت پر آنے والے خطرات و مسائل کا ادراک کرتے ہوئے اس سے نجات پانے اور اس کا مقابلہ کرنے کیلئے حلقہ بگوش ہوجایا کرتے تھے۔

ہم بےفکر سوئے رہتے مگر اکابرین ملت اسلامیہ کی یہ مقدس جماعت و جمعیت تحفظ ملک و ملت کی اپنی ہمہ گیر و ہمہ جہت بصیرت سے منزل کو تلاش لیتے اور مسائل کو یک لخت حل کرکے ملک و ملت کو امن و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کردیا کرتے تھے!
آج امین علوم قاسمیہ اور سرخیل علمائے دیوبند حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ دنیا سے رخصت کیا ہوئے کہ حالات و مسائل سے دوچار یہ ملک اور یہ ملت انتہائی غمگین ہے اور یکے بعد دیگرے ان اکابرین کے رخصت پذیر ہونے سے نمدیدہ ہے! کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ نادان بچے لاکھ نادانی کرلیں مگر گھر کا سربراہ اور نگہباں اگر ہشاش و بشاش اور ہوشیار و زیرک ہے تو الجھے معاملات کو سلجھاکر مسائل کو حل کرلینا کوئی دشوار مرحلہ نھیں ہوتا!

مگر مرضی مولی کو کیا کہا جائے کہ اسے یہی پسند ہے ۔
رفقائے گرامی!
میں اس وقت پٹنہ کانفرنس میں شرکت کے لئے گاڑی پر سوار ہوں،رات کے سوا بارہ بج رہے ہیں،ارریہ،سوپول کراس کرتے ہوئے ہماری گاڑی مدھوبنی میں ہے۔ مگر ناامیدی میں امید اور غمگینی کے ماحول میں خوشی کی بات کیا بتائوں کہ امارت شرعیہ کی آواز پر اپنے دین و مذہب اور ملک و ملت کے تحفظ کے لئے میری نظروں نے اس ہائی وے پر اایک ساتھ اتنی گاڑیاں نہیں گنی جو آج دیکھ رہا ہوں۔ پچیس اور پچاس فٹ کی دوری پر ترنگے جھنڈے اور اور بینروں کے ساتھ بیک قطار ہزارہا گاڑیوں کا نکلنا ۔۔۔۔۔۔یقینا موجودہ نفرت انگیز ماحول میں مسلمانان ہند کی بیداری اور تحفظ ملک و ملت کے لئے اپنے اکابرین کی آواز پر اعتماد کی کھلی ہوئی دلیل ہے ۔

خدا اس خوبصورت شکل میں بہترین روح داخل فرماکر حالات سے دوچار اس ملت پر خصوصی نظر کرم فرماکر اس کی اقبال مندی کا فیصلہ فرمادے آمین!
طالب دعا
محمد اطھر القاسمی
جنرل سیکریٹری جمعیت علمائےارریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں