مشرق وسطی کے حالات اور امریکی معیشت کا احیاء

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

ڈاکٹر محمد خالد اعظمی ایسوسیٹ پروفیسر شعبہ معاشیات شبلی کالج اعظم گڑہ
مشرق وسطی کے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے تسلسل میں ایک نئے باب کا اضافہ ٹرمپ کے حالیہ نیوکلیائی معاہدے سے باہر نکل جانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ایران نے اپنے طور پر اس ڈیل کو بچانے کی بھر پور کوشش کی لیکن امریکہ کی بے جا ضد اور ہٹ دھرمی کے آگے اسکی ایک نہ چل سکی اور ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے الگ ہونے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ اگرچہ اس معاہدے میں یورپی یونین کے ساتھ کچھ دیگر ممالک بھی شامل ہیں لیکن امریکہ کے الگ ہو جانے کی وجہ سےاب دیگر ممالک کب تک اس معاہدے کو بچا تے ہیں یہ بھی تقریباً واضح ہے۔ ادھر پچھلے ایک سال کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے پرانے افسران کو تبدیل کرکے ایک بالکل نئی انتظامیہ تشکیل دی ہے جو پوری طرح سے امریکہ کی ہتھیار لائن کی دم ساز نظر آتی ہے۔ان حالات میں یورپی یونین بشمول برطانیہ امریکی فیصلے کے خلاف جاکراپنے طور پر اس ڈیل کو قائم رکھ سکیں اس کا امکان بلکل نہیں ہے۔ادھر امریکہ اور اسرائیل نے مل کر جنگ شام کو بھر سے تازہ دم کیا ہے، شام کے اندر ایرانی ٹھکانوں پر اسرائیل کی بمباری،خود امریکہ کی دمشق اور شام کے دیگر علاقوں میں ہوئے حملوں میں راست شمولیت اس بات کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ امریکہ خطے میں جنگ کو طول دینا چاہتا ہےاور یہ امریکی معیشت کی شرح نمو کو بڑھانے اور معیشت کی نشاط ثانیہ کے لئے فی الحال نہایت ضروری ہے-

ادھر ماضی قریب میں خلیجی ممالک نے جس طرح اپنی سیکوریٹی کے پیش نظر امریکی ہتھیاروں کی خریداری اور اسکی ذخیرہ اندوزی کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا مقابلہ شروع کیا ہے وہ خود خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر نہایت خطرناک رجحان ہے-سعودی عرب ،قطر، متحدہ عرب امارات،مصر وغیرہ نے ہتھیاروں کی خرید اور اسکی ذخیرہ اندوزی میں ریکارڈ توڑ اضافہ کیا ہے۔ سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ خفیہ اعلانیہ ڈیل حفاظتی آئرن ڈوم کے لئے چل رہی ہے۔ یہ سب آخر کس لئے ۔ بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ سب ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے پیش نظر ہو رہا ہے۔امریکہ اس نیوکلیائی ڈیل سے نکل کر ایران پر جنگ کا دبائو بڑھانا چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ مشرق وسطی میں ایک اور طویل جنگ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ امریکہ کی ہتھیار صنعت میں ترقی اور معیشت کی شرح نمو کو بڑھایا جاسکے،کیونکہ امریکی معیشت کا سارا دارومدار ہتھیاروں کی فروخت پر ہے اور امریکی حکومت اسے ہر حال میں بڑھانا چاہتی ہے۔یہی صورتحال پچھلی عراق جنگ کے دوران بھی دیکھنے کو ملی تھی جب جنگ کے بعد امریکی معیشت میں بہت تیزی سے اضافہ نوٹ کیا گیا تھا۔تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ جب بھی امریکی معیشت ڈانوا ڈول ہوئی یا اسکی شرح نمو میں گراوٹ درج کی گئی، جنگ اسکے احیاء اودر ترقی کے لئے مفید ثابت ہوئی ہےاور موجودہ وقت میں مشرق وسطی امریکہ کے لئے ہر لحاظ سے ایک بہترین تختہ مشق ہے۔جنگ یمن کا طول پکڑنا جہاں ایران اور سعودی عرب براہ راست ملوث ہیں، امریکی مفادات کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔فی الوقت اپنے اپنے مفادات کو لیکر یمن میں سعودی عرب اور عرب امارات جس طرح آمنے سامنے آگئے ہیں وہ علاقے میں ذاتی مفادات کے ٹکرائواور خطے کی غیر مستحکم اور پیچیدہ صورتحال کو ایک اور طویل جنگ کی طرف لے جانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ادھر عراق اور شام سے داعش کے جنگجوئوں کا اثرورسوخ کم ہو جانے سے تیل کی بین الاقوامی کالا بازاری میں کمی آئی ہے جس کے سبب تیل کی قیمتیں عالمی بازار میں بڑھ رہی ہیں، اس کی وجہ سے تیل برآمد کرنے والے ممالک پر زرمبادلہ کا دبائو بھی بڑھ گیا ہے اسکی وجہ سے ان ممالک میں معاشی سست روی اور افراط زر کی شرح بڑھ سکتی ہے اسکا اثر بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک پر دکھنے بھی لگا ہے۔ایسے میں اگر نیوکلئر ڈیل ٹوٹنے سے ایرانی معیشت پر دبائو بڑھتا ہے یا خدانخواستہ مشرق وسطی میں کوئی نئی جنگ چھڑتی ہے تو اسکے اثرات علاقائی نہیں ہونگے۔