مدرسہ نور الاسلام کنڈہ قیام اور پس منظر

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

دسویں قسط

*طارق شفیق ندوی*
لکچرر میاں صاحب انٹر کالج گھورکھ پور

ملی کونسل کے تعارف اور لوگوں کو اس کے مقاصد اور ہمہ جہت منصوبہ بندی سے متعارف کرانے کے لئے پرتابگڑھ اور الہ آباد کئ بار آنا جانا ہوا، لیکن ہماری محرومی کہئے کہ مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کا جانے کا اور وہاں کے نظام تعلیم کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا ۔ خدائے وحدہ لا شریک کے یہاں ہر چیز کے لئے وقت اور گھڑی متعین ہے اسے آگے اور پیچھے کرنے کا کسی کو مجال اور سکت نہیں ہے فاضل دوست مولانا محمد قمرالزماں ندوی سے دیرنہ تعلقات ہیں کم و بیش ۲۵ سالوں سے ہمارے ان کے روابط ہیں ۔

پہلی بار ۱۷ اپریل کو مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ میں خاکسار کو حاضر ہونے کی سعادت ملی اور مبارک موقع ہاتھ آیا ۔ میں اس سفر کو یقینا اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں کہ صرف مولانا محمد قمرالزماں ندوی کے صاحبزادے محمد صفوان سلمہ اللہ تعالی کے تکمیل حفظ قرآن مجید کی نسبت سے میں اس پروگرام میں حاضر ہوا اس کے علاوہ کوئ اور غرض اور مقصد نہیں تھا اور نہ میری صحت ایسی تھی کہ میں لکھنئو سے واپسی کے بعد فورا دوسرے دن کنڈہ کا سفر کرسکوں۔
اور اس عظیم نسبت کے بہانے بہت سے قدیم رفقاء اور سینئر اور جونئیر ساتھیوں سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا ۔

سفر سے واپسی کے بعد ہی دلی خواہش تھی کہ کنڈہ جاکر جو کچھ دیکھا اور سنا اس کو قلم بند کردوں ۔ پہلی قسط لکھنے کے بعد ہی اہل ذوق اور ساتھیوں کا اصرار اتنا بڑا کہ نو قسطیں لکھ دیا اور محسوس تک نہیں ہوا کہ اتنی قسطین لکھ چکا ہوں ۔
قارئین کا تقاضا اور اصرار ہے فون اور پیغامات مسلسل آرہے ہین کہ تشنہ کو مکمل کروں تو لیجئے آگے کی تحریر میں مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ قیام اور پس منظر کے حوالے دسویں قسط لکھ رہا ہوں اور مزید چند قسطیں دہلی کے سفر سے واپسی کے بعد ہدئہ قارئین کروں گا ۔
محمد ذو النفس الزکیہ شہید رح کی بارہویں پشت میں سید رشید الدین کے فرزند شیخ الاسلام سید قطب الدین محمد المدنی ایک عالم و عارف اور عالی ہمت بزرگ تھے جن کو اللہ تعالی نے علم و تقوی کی دولت کے ساتھ شجاعت کا جوہر اور جہاد کا جذبہ بھی عطا فرمایا تھا ۔

207 میں خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے آپ کو جہاد کے لئے ہندوستان جانے کا حکم اور فتح کی بشارت ہوئ۔ اور آپ غزنی کے راستے سے اعزاء و سادات اور غزنی کے روساء و شرفاء اور مجاہدین کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ دہلی تشریف لائے ،دہلی سے پورب کا قصد کیا اور اول قنوج پھر مانک پور کڑہ ( جو کنڈہ سے دس بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور لب گنگا ہے) پر جو اس زمانہ میں ایک مستقل حکومت کا مرکز تھا ۔حملہ کیا اور اس تمام علاقے کو ختم کرکے حکومت میں شامل کیا ۔
باقی آئندہ