مدرسہ نور الاسلام ، کنڈہ ، پڑتاب گڑھ کا سفر

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

پہلی قسط

پڑتاب گڑھ ضلع کا نام سب سے پہلے استاذ محترم مولانا شمس الحق ندوی حفظہ اللہ مدیر تعمیر حیات لکھنؤ سے سنا اور پھر ان کے صاحبزادہ برادر رفیق فضل الرحمن ندوی حال مقیم دوبئی جو میرے بچپن کے دوست اور کرکٹ کے بے تکلف ساتھی ہیں ان کے ذریعہ بھی اس ضلع سے واقفیت ہوئی۔

اس کے بعد محسن و کرم فرما دینی تعلیمی کونسل کے جنرل سکریٹری جناب ڈاکٹر محمد اشتیاق حسین قریشی رح وفات 26 اگست 2003 سے جب قریب ہوا تو مزید معلومات میں اضافہ ہوا اور سب سے زیادہ جس شخصیت سے متاثر ہوا ان کا نام نامی بقیۃ السلف حضرت مولانا شاہ محمد احمد پڑتاب گڑھی رح ( وفات 12 اکتوبر 1991 ) ہے جن کی مجلسوں میں بارہا بیٹھنے کا اتفاق ہوا ان کے ارشادات عالیہ اور عرفان محبت کے ان گنت اشعار ان کی زبانی سنا اور دل و دماغ کو مزین کیا نیز ان کی خدمت کی سعادت بھی حاصل کی اور خاص طور پر ان کے صاحبزادے مشہور ومعروف مخیر حضرت قاری مشتاق احمد دامت برکاتھم بانی ناظم مدرسہ عالیہ عرفانیہ لکھنؤ سے مسلسل تعلقات اور شفقتوں کی وجہ سے پڑتاب گڑھ سے اب خصوصی مناسبت ہوگئ تھی علاوہ ازیں آل انڈیا ملی کونسل کے سلسلہ میں متعدد بار اسفار بھی ہوئے ۔

لیکن پہلی مرتبہ برادر رفیق مولانا قمر الزماں ندوی سے دیرینہ تعلقات کی وجہ سے مدرسہ نور الاسلام ، کنڈہ ، پڑتاب گڑھ کا ایک یادگار سفر ممکن ہوسکا۔
محمد قمرالزماں ندوی